Wednesday, January 9, 2013

سب کچھ ممکن ہے


کون سا فرد ایسا ہے دنیا میں جس نے اچھے دن تو دیکھے ہوں لیکن برے دن کبھی نہ دیکھے ہوں
جسے آسانیاں تو حاصل ہوئی ہوں لیکن مشکلات سے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو

ہمیشہ رات کے بعد دن کی روشنی ضرور آتی ہے۔
ہمیشہ دکھ کے سوگوار لمحات کے بعد سکھ کے خوشگوار دن ضرور آتے ہیں

خوشیاں ہمیشہ نہیں رہیتیں 
غم ان کے پیچھے ہی ہوتے ہیں

لیکن مشکلات سے گھبرانا زیب نہیں دیتا
مشکلات کا سامنا کرنے سے ہی آسانیاں مل سکتی ہیں

قدرت نے دکھ کا پردہ لگا کر سکھ کو چھپا یا ہوتا ہے

ضرورت ہے تو صرف راستہ تلاش کرنے کی ۔
مشکل حالات میں بہتر طریقہ کار اور بہتر رویہ اپنانے کی

ٹھہریے
ایک مثال سے بات زیادہ بہتر سمجھ آجائے گی

اتوار کا دن تھا۔ خاتون خانہ اپنے ضروری کام نبٹا کر ایک میگزین پڑھ رہی تھیں۔ لیکن ان کی بچی انہیں پڑھنے ہی دے رہی تھی۔ کبھی ان کے ایک طرف تو کبھی دوسری طرف۔
کبھی انکی گود میں تو کبھی انہیں کسی چیز کی طرف متوجہ کرنے لگتی۔
خاتون جھنجھلا ئی ہوئی لگ رہی تھی۔ میگزین میں کہانی بہت دلچسپ موڑ پر تھی لیکن وہ پڑھ نہ پارہی تھیں۔
بچی کو باربار روکنے، سمجھانے کے باوجود بچی شرارتوں پر آمادہ تھی۔
اچانک ایک خیال کے تحت خاتون نے میگزین کو الٹنا شروع کیا ۔
پھر ایک صفحہ علیحدہ کیا ۔ اس پر ایک بڑا سا نقشہ تھا۔ اس نے یہ نقشہ اپنی بچی کو دکھایا۔اور کہا 
"آؤ میں تمھیں ایک دل چسپ کھیل بتاتی ہوں۔"
بچی نے غور سے اس نقشے کو دیکھا اور بہت استعجاب سے پوچھا
"کیسا کھیل مما"
اس کی ماں بولی
"ابھی بتا تی ہوں"
پھراس نے اس صفحے کو پھاڑ کر کئی ٹکڑے کیے اور بچی کو پچکار کر کہا
بیٹے یہ دیکھو۔
"اس صفحے پرموجود نقشے کو واپس صحیح ترتیب سے جوڑ دو"
بچی نے خوشی سے اچھلتے ہو کہا
"اوہ یس ۔
میں ابھی جوڑتی ہوں"
پھر وہ ان کاغذ کے ٹکروں کو لے کرایک کونے میں چلی گئی
ماں نے سکون کا سانس لیا
اس کا خیال تھا اب بچی شام تک اسے جوڑ نہ پائے گی۔
اس نے دوبارہ میگزین کھولا اور اطمینان سے پڑھنے لگی

لیکن زیادہ سے زیادہ دو منٹ گذرے ہوں گے کہ 
بچی خوشی سے دوڑتی ہوئی امی کے پاس آئی
"مما یہ دیکھو
میں نے نقشہ جوڑ دیا ہے۔"
ماں نے حیرت سے دیکھا
واقعی نقشہ اپنی صحیح ترتیب کے مطابق مکمل تھا
"یہ تم نے اتنی جلدی کیسے کر لیا"
اس نے اپنی بیٹی سے پوچھا
بچی نے انتہائی معصومیت سے کہا
"مما میں نے دیکھا تھا اس صفحے کے دوسری طرف
قائداعظم کی تصویر تھی ۔
بس میں نے وہ تصویر جوڑ دی "

جی جناب کچھ سمجھے
ہم نقشہ جوڑتے رہتے ہیں
اور تصویر کا دوسرا رخ نہیں دیکھتے 

اگر دکھ کا دوسرا رخ دیکھ لیں تو دکھ اتنا دکھ نہیں دیتا۔۔۔۔
مشکلات کا حل مشکلات میں ہی ہو تا ہے۔

بس گھبرانا نہیں چاہیے- حالا ت کا مقابلہ کرنا سیکھ لیں
سب کچھ ممکن ہے۔۔۔۔۔

سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں




انسان ازل سے بہتری کی تلاش میں ہے

خوب سے خوب تر کی چاہ میں رہتا ہے۔



اس خوب سے خوب تر کی تلاش میں انسان جہاں 

ترقی کی منازل طے کرتا رہا وہیں ہوس کی بیماری بھی

اسے لاحق ہوئی۔

ہوس نے انسانوں کو انسانوں کا دشمن بنا یا۔

ہوس نے منافقت، جھوٹ، بے وفائی سکھائی

ایک انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت کی بنیاد

معاشی و معاشرتی حیثیت پر رکھی اور پھر

ہر اس فعل کو جائز قرار دے ڈالا جس سے ا س کی

معاشی و معاشرتی حیثیت کو تقویت پہچتی ہو 

لالچ نے جب دلوں میں گھر کیا تو محبت، خلوص

وفا رخصت ہوئی ۔

انسان انسان کا دشمن بنا۔

آج کا انسان اور آج سے ہزاروں سال پہلے کا انسان

ایک جیسا ہی ہے۔

کچھ فرق نہیں۔

نام ، مقام، اور ظاہری اطوار بدل گئے ہیں لیکن

لالچ نے جو اصول اس وقت وضع کیے تھے

وہی آج تک چل رہے ہیں۔

وہی خواب جو آج سے لاکھوں سال پہلے کے انسان نے 

دیکھے ہوں گے وہی آج کے انسان کے ہیں

کیا ہمیں صرف سر چھپانے کو ٹھکانہ، تن پر پہننے کو کپڑا 

اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کو خوراک ہی چاہیےنا۔

لیکن ہم جب تک بھوکے رہتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ہمیں کچھ اور نہیں صرف

کھانا چاہیے ہوتا ہے۔

جب پیٹ بھرتا ہے تو پھر ہمیں سردی گرمی سے بچنے کے لئے 

ٹھکانہ چاہیے ہوتا ہے۔

جب ٹھکانہ مل جاتا ہے تو ہمین نفسانی خواہشیں ستانے لگتی ہیں

پھر جب یہ بھوک بھی مٹ جائے تو معاشرے میں اپنی ناک اونچی رکھنے

کی فکر دامن گیر ہو جا تی ہے۔

جب معاشرے میں جھوٹی عزت ، شان و شوکت قائم ہو جاتی ہے۔

ہم پلٹ کر دیکھتے ہیں تو احسا س ہو تا ہے۔

ہمارا دامن تو خالی ہے۔ ہم جو عزت کمائی وہ دوسروں کی پگڑی اچھال کر کمائی، 

ہم نے دولت کمائی تو ہماری کم اور دوسروں کی زیادہ ہے

وہی دولت جس کو حاصل کرنے میں ہم اپنا ایمان بیچا، ضمیر کا سودا کیا

اپنے رب کو ناراض کیا۔ وہ دولت تو ہماری نہ نکلی ۔

پھر انسان جب اپنے اندر کی آواز سنتا ہے تو وقت بہت آگے نکل چکا ہوتا ہے

کچھ تو سنبھل جاتے ہیں۔ اپنی دولت ، اپنا سب کچھ معاشرے کو 

لوٹانے کی ٹھان لیتے ہیں لیکن

کچھ اندر کی آواز کو دبا کر 

مزید دولت کی ہوس میں پڑ جا تے ہیں۔

غریب جو صدیوں سے 

تن کے کپڑوں

کی خاطر 

تو کبھی 

چار نوالوں کی خاطر

بکتا آیا ہے۔

وہ خاک نشیں زرق خا ک ہی ہوتا ہے۔

اس کے خواب کبھی پورے نہ ہوئے

ان کو کبھی تعبیر نہ ملی 

کوئی انقلاب کے نعرے لگاتا ہے

تو کوئی انصاف کی آواز بلند کرتا ہے

کوئی مساوات کا درس دیتا ہے

تو ہر خوشہ گندم کو جلانے کی بات کرتا ہے

کیاکسی نے کبھی سوچا

جس نے کائنات بنائی 

اس نے اس پر رہنے کے

اس کو برتنے کے

اس پر بسنے والوں کے 

ساتھ برتاؤکے

اصول ازل سے وضع کر دیے ہیں

جس کی زمین ہے، وہ جب چاہے زمین کھینچ لے

جس کا دیا ہوا سب کھاتے ہیں وہ جب چاہیے واپس لے لے

سانسوں کی میعاد بخشنے والے کو ہی اختیار ہے

وہ زندگی کے کس موڑ پر شام کردے۔

دل کو بنانے والا ہی دلوں کے بھید بہتر جانتا ہے۔

دلوں کی بستیوں میں جب اس کے خالق کا نعرہ

گونجتا ہے تو دل آبا د ہوتا ہے۔

ہمیں خواب دکھانے والے کتنے جھوٹے ہیں ۔

سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں۔


ڈاکٹرنور

جنوری 5، 2013

Friday, January 14, 2011

Part -6 ایک سیاہ رات کی کہانی

Part -6 ایک سیاہ رات کی کہانی

مجھے ایسے لگا۔۔
میرے پاوں کسی نے زمین سے باندھ دیے ہوں۔۔
اور پھر ۔۔
شاید میں بھی خوف سے بے ہو ش ہوگیا۔۔۔


اب آگے کی کہانی بلکہ اصل کہانی میں سناتا ہوں۔۔۔

اچانک چچا سلطان کا بیٹا کاشف بولا۔۔۔
تم۔۔۔
تنویر، اسد کے ساتھ تقریبا سب ہی لوگ چونک کر بولے۔۔۔
مگر تم تو ہمارے ساتھ ہی وہاں گئے تھے۔۔

جی ہاں ۔۔۔۔

میں آپ لوگوں کے ساتھ ہی گیا تھا۔۔۔
اور ایک لمحے کو تو ۔۔۔۔ سچی بات ہے۔۔۔ میں بھی بہت ڈر گیا تھا۔۔۔
مگرپھر اللہ نے مجھے ہمت دی۔۔۔
اور میں بات کی تہ تک پہنچ گیا۔۔۔
کاشف نے بہت پرسکون انداز میں جواب دیا۔۔
اب لوگ کاشف کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔
سب کی آنکھیں ۔۔
تجسس سے جیسے پھٹ رہی تھیں۔۔۔
--
کاشف دھیما سا مسکرایا۔۔۔ اور کہا۔۔
آپ سب لوگوں کے سامنے میں پہلے تنویر کو جو کہ اسد سے چند قدم پہلے گرا ہوا تھا۔۔ چیک کیا ۔۔ اور آپ لوگوں کو اٹھا نے کا کہا۔۔
پھر
جب میں نےاسد کو اٹھانے کی کوشش کی تو مجھے ایسے لگا
جیسے اسے پیچھے سے کسی نے پکڑا ہوا ہو۔۔
میں لالٹین منگوائی اور جب دیکھا۔۔
تو
اسد کی قمیص ڈنڈے کے ساتھ ہی زمیں میں گڑی ہوئی ۔۔
دراصل اندھیرے میں اسے پتہ نہ چلا۔۔ہوگا۔۔
یوں جب اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو اسے لگا کہ
اسے کسی نے پکڑ لیا۔۔۔
حالانکہ ایسی کوئی بات نہ تھی۔۔
یہ ذہن میں جاگزیں خوف تھا ۔۔۔
جس نے انہیں بے ہوش کردیا۔۔۔۔
سب حیرت سے منہ پھاڑے کاشف کو دیکھے جارہے تھے۔۔۔
-----------------------------------------
THE END

Part-5 ایک سیاہ رات کی کہانی

Part-5 ایک سیاہ رات کی کہانی

اس سٹوری کے اصل کردار ان کے سامنے تھے۔
وہ ان کے منہ سے ۔۔۔۔
سنسی خیزانکشافات سننے کے انتظار میں تھے۔۔


بالاخر مولوی صاحب بولے۔۔

فجر کی نماز میں تھوڑا سا وقت ہے۔۔
یہ سب لوگ۔۔
اسد اور تنویر کے منہ سے واقعات کی تفصیل سننا چاہتے ہیں۔۔
اگر اسد بیٹا اب بہتر محسوس کررہا ہے تو
ساری بات بتائے تاکہ لوگ گھر جائیں اور نماز کی تیاری کریں
اسد سے پہلے تنویر بولا
جی مولوی صاحب
میں بتاتاہوں۔۔
ہم لوگ جب اکرم اور شہباز کو بتا کر نکلے تو ہمارے ذہن خوف سے خالی تھے۔
ہم بہت پر اعتماد انداز سے بھن پر پہنچ گئے۔۔۔
وہاں پہنچے تو ایک ہولناک۔۔خاموشی کا سحر
ہرسو طاری تھا۔۔
بھن کے ساتھ ہی واقع پہاڑی بہت بڑی ،
اپنے حجم سے بہت بڑی لگ رہی تھی۔۔
پھر ہوا چلنے لگی۔۔
سرسراتی ہوا۔۔
پھراچانک ہمیں ایسا لگا ۔۔۔
جیسے کچھ آوازیں آ رہی ہوں۔۔۔۔
جیسے کوئی بول رہا ہو-۔۔
پتہ نہیں کیوں ہمیں کچھ کچھ خوف محسوس ہوا۔۔
لیکن اسد نے بھن سے بیس قدم گن کر ڈنڈے کو زمین میں ایک پتھر لے کر دبا نا شروع کیا ۔۔۔
میں بھی اسد کے پاس ہی تھا۔۔
ہر سوگھپ اندھیرا۔۔۔
ہوا چل رہی تھی۔۔ اور
پتہ نہیں کیوں ایسے لگ رہا تھا۔۔ جیسے کوئی بول رہا ہے۔۔
کچھ کہ رہا ہے۔۔
میں نےاسد کو کہا ۔۔۔
جلدی کرو ۔۔ مجھے خوف محسو س ہو رہا ہے۔۔
اسد بولا۔۔۔
ہاں یا ر ۔۔۔ کچھ ایسا ہی مجھے بھی لگ رہا ہے۔۔۔
میں ڈنڈے کو زمیں میں گاڑ رہاہوں ۔۔۔ لیکن بہت مشکل ہورہی ہے۔
کچھ نظرہی نہیں آ رہا۔۔
میں نے کہا
زور زور سے پتھر کو ڈنڈے کے سر پر مارو۔۔۔
پھراسد نے ایسے ہی کیا۔۔
اور بولا
چلواب بھاگو یہاں سے
جیسے ہی میں نےقدم اٹھایا۔۔
اسد چیخا۔۔
تنویر۔۔۔ تنویر۔۔
مجھے کسی نے پیچھے سے پکڑ لیا ہے۔۔
مجھے جن نے پکڑ لیا ہے۔۔
مجھے۔۔۔مجھ۔۔۔
اور پھروہ خاموش ہوگیا۔۔
مجھے ایسے لگا۔۔
میرے پاوں کسی نے زمین سے باندھ دیے ہوں۔۔
اور پھر ۔۔
شاید میں بھی خوف سے بے ہو ش ہوگیا۔۔۔
جاری ہے

Part-4 ایک سیاہ رات کی کہانی

Part-4 ایک سیاہ رات کی کہانی

اس کا ذہن بہت تیزی سے سوچ رہا تھا۔۔۔
اسکے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔۔۔


اس نے ایک بند ے کو لالٹین قریب لانے کو کہا۔۔

پھر لالٹین اسکے کے ہاتھ سے لے کر اسد کے پیچھے لے گیا۔۔۔
چند لمحے بعدہی وہ سب معمہ حل ہو گیا ۔۔
اوہ۔۔۔
تو یہ بات ہے۔۔

آدھے گھنٹہ بعد وہ سب اسد کے گھر میں بیٹھے ہو ئے ۔۔ تھے۔

اسد اور تنویر کو ہوش آگیا تھا۔ ۔۔
پہلے تو وہ بہت خوف زدہ تھے۔ بلکہ جب اسد کو ہوش آیا تو اس نے با قاعدہ دوڑنے کی کوشش کی۔۔
اور چیخنے لگا۔۔ جن نے مجھے پکڑ لیا ہے۔۔۔جن نے مجھے پکڑ لیا ہے۔۔۔
مولوی صاحب نے سورہ یٰسین پڑھ کر دم کی۔۔۔لوگوں نے حوصلہ دیا۔۔
اسکی ماں آب زم زم لے آئی۔۔
اور کچھ دیر بعد وہ پرسکون ہوا۔۔۔
رات تو تقریبا گذر ہی چکی تھی۔۔۔
اسد کے باپ نے اپنے گھر میں سب افراد کو
چائے پلائی ۔۔۔
موسم اتنا سردتو نہیں تھا۔ ۔
مگر رات نے خنکی بڑھا دی تھی
چائے کا دور ختم ہو نے کے باوجود
لوگ اسد کے پاس موجود تھے۔۔۔
سبھی کو تجسس تھا۔۔
اسد اور تنویر کے ساتھ ہوا کیا تھا۔۔۔
وہ کیسے بے ہوش ہوئے۔۔
کیا انہوں نے جن دیکھے۔۔
یہ اور اس ملتے جلتے سوالوں نے سب لوگوں کو وہاں روک رکھا ۔۔
یہ اس چھوٹے سے دیہات کی
بریکنگ نیوز تھی۔۔ بلکہ بریکنگ سٹوری تھی۔۔۔
جو شاید اگلے کئی ہفتے زیربحث آنی تھی۔۔
اس سٹوری کے اصل کردار ان کے سامنے تھے۔
وہ ان کے منہ سے ۔۔۔۔
سنسی خیزانکشافات سننے کے انتظار میں تھے۔۔
جاری ہے

Part-3 ایک سیاہ رات کی کہانی

Part-3 ایک سیاہ رات کی کہانی
وہ اسد اور تنویر ہی تھے۔ لیکن دونوں بے ہوش تھے۔
لوگوں کی نظریں خوف سے ان کا طواف کر رہی تھیں-


شاید وہ آس پاس کہیں جن کی موجودگی کے آثار تلاش کررہے تھے۔

کسی کی ہمت نہ ہورہی تھی کہ وہ لڑکوں کے پاس جائے۔
اچانک چچا سلطان کا بیٹا کاشف جو چند دن پہلے ہی شہر سے آیا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور ایک لڑکے کو سیدھا کیا۔ وہ تنویر تھا ۔ اس نے اسکی نبض چیک کی۔ دل پر ہاتھ رکھا۔ اور زور سے کہا۔
یہ صرف بے ہوش ہے۔ اسے اٹھا لیں۔
گاوں والے اپنے ساتھ ایک چارپا ئی بھی لائے تھے ۔ فورا ہی تنویر کو اٹھا کر چارپا ئی پر ڈال دیا گیا۔ لیکن سب بہت خوفزدہ سے انداز میں کام کر رہے تھے۔ کچھ لوگ کلمہ کا ورد کررہے تھے۔
اب کاشف اسد کی طرف بڑھا۔
وہ تھوڑا آگے تھا۔ اس کو سیدھا کیا اور اٹھانے کی کوشش کی۔

لیکن کاشف کو ایسے لگا جیسے پیچھے سے کسی نے اسد کو پکڑا ہو ا ہو۔۔

خوف کی ایک سرد لہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاشف کے جسم سے سرسراتی ہوئی گذری۔۔
گرچہ لالٹینوں کی روشنی تھی مگروہ لوگ پیچھے ذرا فاصلے پر تھے۔ ویسے بھی روشنی صرف ایک رخ یعنی سامنے سے تھی۔
پیچھے کی طرف تو کچھ بھی نظرنہیں آتا تھا۔
کاشف پہلی مرتبہ خوف زدہ ہوا۔
لیکن ہمت کرکے اس نے اسد کو پھر اٹھانے کی کوشش کی ۔۔۔
اسے پھر ایسے لگا جیسے کسی نے اسد کو پیچھے سے پکڑ رکھا ہو۔۔
وہ اپنی خوف کی کیفیت کا اظہار نہیں کر نا چاہتا تھا۔
اسے پتہ تھا۔
یہ دیہاتی لوگ توہم پر ست ہیں۔۔
یہ اور بھی خوف زدہ ہو جائیں گے۔۔
اس کا ذہن بہت تیزی سے سوچ رہا تھا۔۔۔
اسکے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔۔۔

جاری ہے

Part -2 ایک سیاہ رات کی کہانی


Part -2 ایک سیاہ رات کی کہانی


لیکن ایک کے بجائے دوگھنٹے گذر گئے اسد اور تنویر واپس نہ آئے

شہباز پریشان ہو گیا۔
یار یہ لوگ تو واپس نہیں آئے۔ کہیں جنوں کے ہتھے نہ چڑھ گئے ہوں۔
اکرم کو بھی یقین تھا کہ بھن کے پاس جن ہیں۔
وہ بھی خوفزدہ آواز میں بولا۔
ہاں یا ر۔ پتہ نہیں ان کے ساتھ کیا ہو ا ہو گا۔۔
پھر سوچ کر بولا۔
ہم آدھا گھنٹہ اور انتظار کرتے ہیں پھرکچھ اور سوچتے ہیں۔

آدھا گھنٹہ بھی گذر گیا ۔ مگراسد اور تنویر واپس نہ آئے۔

اب تو اکرم اور شہباز ایک دوسرے پرالزام لگانے لگے۔
یہ تم کہاتھا، نہیں یہ تم نے کہاتھا۔
بہرحال بہت سی بحث کے بعد فیصلہ ہو ا کہ دونوں مل کر جاتے ہیں اور گاوں سے باہر تک اسد اور تنویر کو دیکتھے ہیں شاید وہ آرہے ہوں۔
وہ گاوں سے ذرا باہر تک گئے تو خوف نے ان کے قدم روک دیے۔
واپسی پر شہباز کا بڑا بھائی انہیں ڈھونڈتا ہوا مل گیا۔
تم لوگ کہاں گئے تھے -
اب شہباز نے ڈرتے ڈرتے ساری بات بتا دی۔
شہباز کے بھائی نے کہا۔
آپ لوگوں نے بہت برا کیا۔ پتہ نہیں وہ لوگ اب زندہ بھی ہوں گے یا نہیں- بہرحال میں ابو سے بات کرتاہوں۔
تھوڑی دیر بعدپندرہ بیس بندوں کا قافلہ ہاتھوں میں لالٹینیں، لاٹھیاں، کلہاڑیاں وغیرہ اٹھانے گاوں سے باہر بھن کی طرف روانہ ہوگیا۔
شہباز اور تنویر کے گھر کہرام مچا ہوا تھا۔ گاوں کی عورتیں اکٹھی تھیں اور مختلف تبصرے کررہی تھیں۔
گاوں کے مسجد کے امام کو بلا لیا گیا تھا۔
اور قرانی آیا ت کا ورد جاری تھا۔
ادھر قافلہ جوں جوں بھن کے قریب پہنچ رہا تھا۔ لوگوں کے اندر بے چینی ، تجسس، اور ایک نامعلوم خوف بڑھتا جا رہا تھا۔

جیسے وہ لوگ بھن کے پاس پہنچے ۔

انہیں دور ہی سے دو افراد ساتھ ساتھ زمین پر گرے ہوئے نظر آئے۔
وہ اسد اور تنویر ہی تھے۔ لیکن دونوں بے ہوش تھے۔
لوگوں کی نظریں خوف سے ان کا طواف کر رہی تھیں-

جاری ہے