Sunday, October 25, 2009

آپ کے سوال اور میرے جواب-7

آپ کے سوال اور میرے جواب-7


محترمہ رخشندہ بی بی نے اپنے آنسوئوں بھر ے خط اپنے اپنا دکھڑا یوں رویا ہے

ڈاکٹر صاحب میں بہت دکھی" لڑکی" ہوں-صرف 11 سال کی تھی کہ شادی ہوگئی۔ میرا سر سیاہ بالوں سے ڈھکا ہو ا تھا ۔
اب ما شاءاللہ11 بچے ہیں - اور سر پر بھی سمجھ لیں 11بال ہی بچے ہیں۔
کیوں کہ میرے بال بہت تیزی سے گر رہے ہیں اور جو نہیں گر رہے وہ سفید ہو رہےہیں۔ میری سا س اور نندوں کے بال بالکل ٹھیک ہیں۔
ہا ئے یہی دیکھ کر میرے سینے پر سا نپ لوٹتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب ۔۔ میری کو ئی بال سفید ہونے یا بال گرنے کی عمر ہے۔ صرف 30 سال اور " چند" ماہ میر ی عمر ہے۔
ایسے میں دشمنوں کے میرا مطلب ہے سا س نندوں کے طعنے میرا کلیجہ چھلنی کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کچھ کریں۔
میں در در کی ٹھوکریں کھا کر تنگ آ چکی ہوں۔
وہ بد بخت حکیم علم دین شاہ کے پا س بھی گئی تھی ۔ اس نے ایک کڑوا شربت اور تیل سر پہ لگانے کیلئے دیا ۔
اس سے رہے سہے بال بھی گر گئے۔ اللہ بیڑا۔۔۔۔۔۔ ( یہاں سے خط کا کچھ حصہ حذف کیا گیا ہے ۔ شاہ صاحب کی شان گستاخی بھلا برداشت کر سکتا ہوں ( ۔۔۔
اب آپ ہی کو ئی علاج بتائیں ۔ ۔۔۔ ورنہ میں ۔۔ پتہ نہیں کیا کر لوں گی۔

جواب

بی بی۔۔۔ اتنی پریشان نہ ہو۔۔۔۔
جب میرے پا س آگئی ہیں تو پریشا نی کیسی۔
آپ کے خط سے لگتا ہے۔ آپ کو اپنےبالوں کے گرنے سے زیا دہ سا س نندوں کے سر پر با لوں کی سلامتی سے پریشانی
لاحق ہے۔
اور ہاں ۔۔۔ آپ نے لکھا ہے کہ آپ کی عمر صر ف 30 سال "چند ما ہ" ہے- یہاں چند ما ہ سے مر ا د غالبا 180ماہ ہے۔
جو کہ 25 سال بنتے ہیں۔ یعنی آپ کی عمر صر ف 55 سال ہے۔
ناراض نہیں ہونا۔ ڈاکٹر سے بھلا کیا چھپانا۔۔۔ اور ویسے بھی میں نے کونسا کسی کو بتانا ہے۔

اپنے بچھے کچھے بالوں پر حکیم قبلہ شا ہ صاحب علم دین کے دواخانے کی" جوارش ایلفی " لگا ئیں۔ اگر وہ نہ ملے تو عام دکانوں سے " ایلفی " لے کر بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
بالوں کو سیاہ کرنے کیلئے خالص کوئلے کڑوے تیل میں چار دن بھگو کر رکھیں۔ اور رات تین بجے اٹھ کر چھ ماہ تک اپنے چہرے پر ما لش کریں۔ ۔۔۔ تاکہ آپ کا اندر اور باہر ایک جیسا نظر آئے۔

نیز دوبا رہ وہی حکیم قبلہ شا ہ صاحب علم دین کے دواخانے کی " جوارش تابڑ توڑ" المعروف " جڑاکھاڑ" تیل رات کے وقت سوئی ہو نندوں اور سا س کے سر پر لگا دیں۔ اس سے ان کے بال بھی ۔۔۔ آپ کے بالوں کے " ہمنوا" بن جا ئیںگے۔ اور امید واثق ہے ۔ آپ کے سینے میں " ٹھنڈ " پڑ جا ئے گی۔
اور ہا ں معا ملہ خراب ہونے کی صورت میں میرا نا م نہ آئے۔۔۔

نوٹ۔ قبلہ محترم شاہ علم دین کی شان میں گستاخی آئندہ برداشت نہیں کی جا ئے گی۔

Friday, October 23, 2009

Words Speak too

This blog has been created to publish my Poetry, Articles, Stories etc.
I shall share the selected poetry/Articles here in Urdu and English

یہ سب نسبت کا کمال ہے

یہ سب نسبت کا کمال ہے

ایک بچے نے دیکھا کہ ایک بزرگ گلیوں میں بکھرے ہوئے کچھ کاغذ اکٹھے کر رہا ہے
اور انہیں جھاڑ پونچھ کر تہ کرتاہے اور اپنے پا س موجود ایک لفافے میں ڈالتا جا تا ہے۔
وہ شکل سے کافی معزز نظر آرہا تھا اور کپڑے بھی بہت صاف ستھر ے پہنے ہوئے تھا۔

بچے کو تجسس ہوا کہ یہ کیا کر رہا ہے۔
وہ بزرگ کے پاس گیا اور پوچھا
"با با جی آپ یہ کیا کر رہے ہیں"
بزرگ نے بچے کو دیکھا اور بہت دردنا ک لہجے میں بولا
"بیٹے۔ میں اپنے پیارے وطن کے جھنڈے اٹھا رہا ہوں۔ جو لوگوں نے بھینک دیے ہیں"
بچے نے دیکھا اسکے ہا تھ میں کاغذ کی جھنڈیاں تھیں جو لوگ 14 اگست کو گھروں پر لگاتے ہیں۔ اور بارش یا ہوا سے وہ گلیوں میں بکھر جا تی ہیں۔
بچے نے کہا
" بابا جی 14 اگست تو گذر گیا ۔اب آپ ان جھنڈیوں کا جو پھٹ چکی ہیں۔ کیا کریں گے۔"
باباجی کے منہ سے ایک سرد آہ نکلی
"بیٹے میں انہیں کسی محفوظ جگہ پر رکھوں گا ۔ تا کہ ان کی بے ادبی نہ ہو"
"بے ادبی" بچے نے حیرت سے کہا " مگر یہ تو کاغذ کے ٹکڑے ہیں"
" جی ہا ں بیٹے۔ یہ کاغذ کے ٹکڑے ہیں ۔" بزرگ نے کہا" مگر ان پر پاکستان کا جھنڈا چھپا ہو ا ہے۔
اب ان کو میرے ملک سے نسبت ہو گئی ہے۔ اب یہ کاغذ کے ٹکڑے معزز اور مقدس ہو گئے ہیں۔
بیٹے ساری بات نسبت کی ہے"
بچہ نے بزرگ کی بات سمجھ لی اور کہا
"آئیں بابا جی۔ ہم دونوں مل جھنڈیا ں اکٹھی کرتے ہیں۔ واقعی یہ مقدس ہیں۔ انکی بے ادبی نہیں ہو نی چا ہیے
"

Thursday, October 22, 2009

بیٹیاں پھول ہیں

بیٹیاں پھول ہیں


آج ایک بہت ہی خوبصورت نظم آپ سے شیئر کر رہا ہوں۔ محمود شام کی ہے
مجھے یقیین آپ کو بہت پسند آئے گی

بیٹیاں پھول ہیں

پھول جب شاخ سے کٹتا ہے ، بکھر جا تا ہے
پتیاں سوکھتی ہیں ٹوٹ کے اڑ جاتی ہیں
بیٹیاں پھول ہیں
ماں باپ کی شاخوں پہ جنم لیتی ہیں
ماں کی آنکھوں‌کی چمک بنتی ہیں
باپ کے دل کا سکوں ہوتی ہیں
گھر کو جنت سی بنا دیتی ہیں
ہرقدم پیار بچھا دیتی ہیں

جب بچھڑنے کی گھڑی آتی ہے
غم کے رنگوں میں خوشی آتی ہے
ایک گھر میں تو اترتی ہے اداسی لیکن
دوسرے گھرکے سنورنے کا یقیں ہوتا ہے

بیٹیاں پھول ہیں
ایک شاخ سے کٹتی ہیں مگر
سوکھتی ہیں نہ کبھی ٹوٹتی ہیں
اک نئی شاخ پہ کچھ اور نئے پھول کھلا دیتی ہیں

Wednesday, October 21, 2009

خواتین کے بارے میں دلچسپ حقائق۔۔۔

خواتین کے بارے میں دلچسپ حقائق۔۔۔

خواتین کے بارے میں زیادہ سے زیا دہ جاننے کی کوششیں ازل سے ہو رہی ہیں۔۔۔
اورمرد صدیوں کی کوشش کے با وجود اس صنف نازک کہلانے والی صنف کرخت کو،
ابھی تک سمجھ نہیں سکا۔۔
بہرحا چند ایک حقا ئق آ پ تک پہچانے کی " جسارت" کر رہا ہوں۔۔۔
امید ہے۔۔" پسند " ہی آئیں گے۔۔

نوٹ : مرد حضرات سے گذارش ہے کہ زیا دہ کھل کر رائے دینے سے گریز کریں۔ معاملات بگڑنے کی صورت میں انتظامیہ جواب دہ نہیں ہوگی۔۔

------------------------------------------------------------------------------------------------------
اسکاٹ لینڈ کی خواتین دیگر ملکوں کی خواتین کے مقابلے میں زیا دہ کنجوس ہو تی ہیں۔۔۔۔۔۔
دھوکہ دہی میں امریکی خواتین سب سے آگے ہیں۔۔
گھومنے پھرنے والی خواتین فرانسسی خواتنین کیلئے مشہور ہے۔
بھارتی خواتین چغل خور ہوتی ہیں
شوہروں کی سب سے زیا دہ پٹا ئی اٹلی کی خواتین کر تی ہیں
اسپین میں خواتین سب سے زیادہ نوکری پیشہ ہیں
کھیلوں سے زیا دہ دلچسپی رکھنے والی خواتیں کا تعلق برطانیہ سے ہے
جنوبی افریقہ کی خواتین نرم مزاج ہوتی ہیں(؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
سخت مزاج خواتیں کا تعلق ناروے سے ہے۔
عرب خواتین کی زیا دہ تعداد خاموش طبع ہو تی ہے ۔۔۔ـ''''''''''''''''''''''؟
جاپانی خواتین زیادہ ہلہ گلہ پسند کرنے والی ہوتی ہیں
چینی خواتین بہت سخت جان اور محنتی ہوتی ہیں
مصری خواتین شکر گذار ہوتی ہیں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔
،،،،،،،،
:

::


::

::
:::

::



،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
،،
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔
۔
۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
بس لسٹ ختم ۔۔۔
اب آپ اور کیا چا ہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
۔۔
ہیں ۔۔۔ کیا ۔۔؟

وہ۔۔
میں ۔۔”
مجھے نہیں پتہ ۔۔۔
پاکستا نی خواتین کے بارے۔۔۔
خود سوچیں اور لکھیں۔۔
اب سب کچھ میں ہی لکھوں۔۔۔ کیوں؟

Tuesday, October 20, 2009

میاں بیوی ۔۔۔۔؟


میاں بیوی ۔۔۔۔؟

یک دفعہ تین دوست اکٹھےکہیں جارہے تھے کہ اچانک ایک ایکسیڈنٹ میں تینوں مرگئے
انہیں جنت سے پہلے ایک عارضی مقام میں الگ تھللگ رکھا گیا -
وہ بہت چیخے چلائے کہ ہم نے تو دنیا میں کچھ بھی نہیں دیکھا ۔ ہماری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تھی کہ موت آگئی۔ ہمیں اب تمام تر سہولیا ت کے ساتھ ساتھ حور یں بھی دی جائیں۔
کہا گیا۔ " ٹھیک ہے۔ لیکن آپ کو ایک آزمائش سے گذرنا پڑے گا ۔ پھر آپ کی شادی حوروں سے کردی جائے گی۔"

انہیں جنت سے پہلے ایک عارضی مقام میں الگ تھللگ رکھا گیا -
وہ بہت چیخے چلائے کہ ہم نے تو دنیا میں کچھ بھی نہیں دیکھا ۔ ہماری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تھی کہ موت آگئی۔ ہمیں اب تمام تر سہولیا ت کے ساتھ ساتھ حور یں بھی دی جائیں۔
کہا گیا۔ " ٹھیک ہے۔ لیکن آپ کو ایک آزمائش سے گذرنا پڑے گا ۔ پھر آپ کی شادی حوروں سے کردی جائے گی۔"
انہیں ایک تاریک کمرے میں اکٹھا رکھا گیا۔ جہاں مکمل اندھیرا تھا۔ اور بتایا گیا کہ یہاں ایک ماہ تک رہنا ہے۔ یہیں سب کچھ کھانا پینا ، سونا جاگنا ہوگا۔ اور کمرے میں جگہ جگہ پاپڑ رکھے گئے ہیں ان سے بچنا ہے کہ پاوں کے نیچےنہ آجائے۔ جس کا پاوں پا پڑ پر آگیا ۔ اسکی شادی بدروح سے کردی جائے گی

اب جناب تمام دوست اس آزمائش سے صحیح سلامت گذرنے کیلئے مکمل احتیاط سے رہنے لگے

اب دو دوست خوش ہوئے کہ اب جگہ کھلی ہو گئی ہے۔ بیسویں دن ایک اور دوست کا پاوں پاپڑ پر آگیا
اور فرشتے اسے بھی روتا دھوتا لے گئے۔
اب تیسرا اکیلا رہ گیا۔ اس نے باقی دن خیریت سے گذار لیے
آزمائش پوری ہونے پر اسکی شادی ایک حور سے کردی گئی اور وہ خوشی خوشی رہنے لگا
ایک دن اس نے اپنی حور بیوی سے کہا" تمھیں پتہ ہے میں تمھیں حاصل کرنے کیلئے کتنی تکلیف دہ آزمائش سے گذرا ہوں- " اور اسکے بعد مکمل تفصیل سمجھائی ۔
پھر پوچھا " اچھا تم بتاو۔ تم نے مجھے حاصل کرنے کیلئے کیا کیا؟"
حور نے ٹھینڈی سانس بھری اورکہا
" ہم بھی تین سہیلیاں ایک کمرے میں بند تھیں۔ پھر ایک دن میرا پاوں پاپڑ پہ آگیا"
"

غزل


غزل

وہ دوستوں سے سجی محفلوں کو چھوڑ آئے
ہم اپنے گاوں میں سب رونقوں کو چھوڑآئے

وہ کچی گلیاں جہا ں بچپنا گذارا تھا
مہکتے کھیت ، وہ پگڈنڈیوں کو چھوڑ آئے

وہ جھیل ، چشمے، وہ آبشار، وہ جھرنے
وہ رنگ وبو سے سجی وادیوں کو چھوڑآئے

وہ بھیگی رات، وہ ساون، کھلی کھلی سی دھوپ
مکین شہر ، سبھی موسموں کو چھوڑ آئے

شہر کی روشنیو، کیا بتا ئیں اب تم کو
ہم اپنے گاوں میں جلتے دیوں کو چھوڑ آئے

محبتوں کے سفر میں عجیب موڑ آ ئے
کہیں پہ دوست ، کہیں دشمنوں کو چھوڑ آئے

بغیر جن کے کبھی زندگی ادھوری تھی
غزال آنکھوں اور ماہ رخوں کو چھوڑ آئے

عجیب لوگ ہیں ہم نور کیا کہیں خود کو
آسائشوں کیلئے ، چا ہتوں کو چھوڑ آئے

Friday, October 16, 2009

Dua

آپ کے سوال اور میرے جواب-6

آپ کے سوال اور میرے جواب-6


سکھر سے دل بھینک بابو نے حیرت بھرے انداز میں اپنا مسئلہ بیان کر تے ہوئے تحریر کیا ہے

ڈاکٹر صاحب۔۔ میری عمر صرف 17سال ہے۔ صر ف دو دفعہ میٹرک میں فیل ہو ا ہوں۔ حا لانکہ پرچے بڑے اچھے ہوئے تھے۔
میر ا مسئلہ یہ ہے کہ کبھی کبھی میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جا تا ہے۔ یا داشت بھی کمزور ہو گئی ہے۔
اور سر میں اکثر درد رہتا ہے۔ میں سوشل ورکر ہوں اور محلے کی لڑکیوں کو بحفاظت سکو ل و کا لج پہنچانے اور واپس لانے کی ذمہ داری اپنے سر لی ہوئی ہے۔
تا ہم آنکھوں میں چھا جا نے کی وجہ سے کئ دفعہ ۔۔۔ نقصان اٹھا چکا ہوں۔
اسی طرح یا داشت کی کمی کی وجہ سے بھی کئی مسا ئل کا سا منا ہے۔
کو ئی اچھی سی دوائی درکا ر ہے۔ اگر عنا ئت ہو جائے۔

جواب
جنا ب دل بھینک با بو۔
کا لج اور سکول کے سٹا پ پر روزانہ جوتیاں کھا نے کی وجہ سے آپ کا سر پلپلا ہو چکا ہے -
سر درد اور آنکھوں کےآگے اندھیر ا چھاجا نے کی بنیا دی وجہ یہی ہے۔

آپ قبلہ محترم حکیم علم دین شاہ کے دواخانے کا تیار کر دہ " شربت عقل مار" ہمراہ " معجون صحرائی" روزانہ
تین بار استعما ل کریں۔
اس شربت ا ور معجون کے اثر سے آپ کا دل دنیا سے اچاٹ ہوجائے گا اور آپ جنگلوں کی طرف نکل جا ئیں گے۔

یوں آپ کو کچھ افا قہ ہو نہ ہو محلے کی لڑکیا ں سکو ن کا سا نس لیں گی۔

Wednesday, October 14, 2009

آپ کے سوال اور میرے جواب-5

آپ کے سوال اور میرے جواب-5


ملتان سے باتونی خانم نے بڑا طویل خط تحریر کیا ہے۔
محلے بھر کی خبریں نشر کرنے کےبعد آج کے حالات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
پندرہ صفحے تحریر کر نے کے بعد انہوں نے جو مسئلہ بیان کیا ہے وہ یہ ہے

ڈاکٹر صاحب ۔ میر ا خاوند رات کو خواب میں بولتا بہت ہے۔ جس سے میر ی نیند ڈسٹرب ہو تی ہے۔
کو ئی ایسی دوائی دیں کہ اسکی خواب میں بولنے کی عادت ختم ہوجا ئے

جواب

ًمحترمہ باتونی خانم صا حبہ۔
آپ کے بیس صفحا ت پر مشتمل خط سے ظا ہر ہو تا ہے ۔ آپ کے خاوند کو دن میں بولنے کا موقع ہی نہیں ملتا ہے۔
اب اگر وہ غریب خواب میں بھی نہ بو لے تو کیا کر ے۔
آپ ایسا کریں۔ حکیم علم دین شاہ کے پنسار سٹو ر سے"شربت گوند ہونٹ جوڑ " منگوا لیں۔ اور مسلسل ایک ما ہ تک صبح
ناشتے کے بعد آدھا گلاس پی لیں اور اس کے دوائی کے اثر کو مزید مضبوط کر نے کیلئے ایک فٹ چوڑی اور دس فٹ لمبی پٹی اپنے منہ پر با ندھ لیں۔
انشا ءاللہ بہت جلد آپ کا خاوند خواب میں بولنا چھوڑ دے گا۔
اور یہ نسخہ فلاح خاونداں کیلئے تمام خواتیں بلا ڈھرک استعمال کر سکتی ہیں۔ اسکے کو ئی مضر اثرات نہیں۔

آپ کے سوال اور میرے جواب 4

آپ کے سوال اور میرے جواب 4




اٹک سے زن فرید صا حب نے اپنا مسئلہ یوں بیا ن کیا ہے

ڈاکٹر صاحب۔
میرا مسئلہ نفسیا تی ہے۔ بات در اصل یہ ہے کہ میری سا س پچھلے ایک سا ل سے ہما ری ہا ں" چند دنوں " کیلئے مقیم تھی
آپ خو د شا دی شدہ ہیں اور سا س جیسے "خوبصورت" رشتے سے اچھی طر ح واقف ہوںگے۔ میرے دل میں ہر اچھے جوائی کیطرح ان کیلئے بہت" نیک جذبات "ہمیشہ موجزن رہتے تھے۔ لیکن بیوی کا خوف کو ئی بھی حر کت کر نے سے روک دیتا۔
پچھلے دنوں میر ے ایک دوست نے مجھے ایک کتا بطور تحفہ دیا ۔ آپ جان سکتے ہیں مجھے کتنا شدید غصہ آیا ہوگا۔
میں غصے میں اسکے گھر گیا کہ اس کو کتا وا پس کر دوں مگر میرے دوست کے بجا ئے اسکی بیوی ملی ۔ اس نے جو گفتگو کی ۔ وہ یہاں دہرانا ممکن نہیں ۔ تا ہم مجھے بعد میں احسا س ہو ا کہ اس نیک بخب نے تو کتا وا پس نہ لے کر میرےاوپر احسان عظیم کیا ہے۔
جی ہاں - ہوا یوں کہ دوسرے دن ہی اس پیا رے پیا رے راج دلا رے کتے نے میری سا س کو کا ٹ لیا ۔
اف ڈاکٹر صا حب ۔ ۔۔ میں زند گی میں پہلی مر تبہ کتوں کی اہمیت کا قا ئل ہوا۔۔۔
میر ی سا س اب اسپتا ل میں داخل ہے اور حالا ت بچنے کے نظر نہیں آتے۔
تا ہم پتہ نہیں کیو ں میں احسا س جر م کا شکا ر ہو گیا ہوں۔
سا س کو ہسپتا ل میں دیکھتا ہوں تو خوشی سے قہقہے لگانے کو دل کر تا ہے۔ مگر بیگم کی حا لت دیکھ کر اداس بھی ہو جا تا ہوں۔
آپ اس مسئلے کا کو ئی حل بتائیں

جواب

ًمحترم ، قبلہ ، حضر ت زن فرید صاحب ۔۔ مد ظلہ عالیہ۔
آپ کتنے خو ش قسمت ہیں۔ احساس جر م کو گو لی ما ریں۔
آپ بتا ئیں‌آپ وہ " کتا" کتنے کا بیچیں گے۔ منہ ما نگے پیسے دوں گا۔
دراصل میری سا س اگلے ہفتے ہما رے ہا ں آ رہی ہے۔ میں یہ مو قع ضا ئع نہیں کر نا چا ہتا۔

Tuesday, October 13, 2009

آپ کے سوال اور میرے جواب 3

آپ کے سوال اور میرے جواب-3


سیالکوٹ سے رخسار بیگم بہت پریشانی کی حالت میں تحریر کرتی ہیں

ڈاکٹر صاحب۔ ویسے تو میرا چہرا چا ند جیسا ہے۔ بس تھوڑی سی چھائیاں ہیں۔ جسکی وجہ سے میر ے چا ند جیسے چہرے پر ہر وقت بادل چھا ئے رہتے ہیں۔
علاج تو میں اتنا کروا چکی ہوں کہ پچھلے چھ ماہ سے صبح دوپہر شام کھانا کھا نے کے بجا ئے دوائیا ں کھا تی ہوں
حکیم علم دین شاہ کے بارے میں کسی نے بتا یا تھا کہ بہت بڑے اور پہنچے ہوئے حکیم ہیں ۔ان کے پاس گئی۔ انہوں نے وہی کڑوا شربت دیا ۔ جو میں نے مسلسل چھ ما ہ تک پیا ۔ لیکن فائدہ میرے بجائے حکیم کو کا فی ہوا۔ کما ئی کی صورت میں۔
میں اپنے چہرے پر ان داغ چھائیوں سے کا فی پریشان ہوں۔
کو ئی فوری رزلٹ وا لا علاج بتائیں

جواب

رخسار بی بی۔ آپ نے جس پریشانی کی حا لت میں اپنا مسئلہ تحریر کیا ہے۔ اس کا مجھے اندازہ ہے۔ بے فکر رہیں۔
اب آپ درست جگہ پہ پہنچ گئی ہیں۔

ویسے ایک با ت نا قا بل یقین ہے۔ کہ آپ نے قبلہ شا ہ جی کا تیارکردہ شربت چھ ما ہ تک استعمال کیا اور ابھی تک زندہ ہیں۔
کیونکہ قبلہ شاہ جی تو فرما یا کرتے ہیں۔ جس نے یہ شربت تین ما ہ پی لیا۔ تو سمجھو نہ مرض رہے گا نہ مریض۔
قبلہ حکیم شاہ علمدین تو مرض کو مریض سمیت جڑ سے اکھاڑنے کے قائل ہیں۔
بہرحا ل ہو سکتا ہے آپ سے بد احتیا طی ہو گئی ہو اور آپ نے شربت بیچ میں کچھ عرصہ چھوڑ دیا ہو۔

اب آتے آپ کے مسئلے کی طرف۔
آپ کسی بھی ہارڈوئیر کی دوکان پر جائیں اور وہان سے سینڈ پیپرجسے ریگ مال بھی کہا جا تا ہے۔ زیرو سا ئز لے آئیں۔ساتھ ہی کسی بھی جنرل سٹور سے دو بو تل تیزاب اور سرف اچھی کوالٹی کا لے لیں
اب سر ف اور تیزاب ایک کھلے برتن میں ڈال کر اچھی مکس کر کے چھا گ بنا لیں۔ اور اپنا چہرہ مبارک اس کے اندر
آدھے گھنٹے کیلئے بھگو کر رکھیں۔
آدھے گھنٹے بعد با ہر نکا لیں اور اپنے بڑے بچے کو کہیں کہ وہ ریگ مال سے آپ کے چہرے کو رگڑے۔ بلکہ یہی کا م آ پکے میاں بھی بڑی خوشی سے سر انجا م دیں گے۔
آدھا گھیٹہ رگڑنے کے بعد اپنے بو تھے کو بر تن دھونے والے صابن سے دھو لیں ۔
واقعی چا ند جیسا چہرہ نکل آئے گا۔

نوٹ: یہ نسخہ بالکل نواں نکو ر ہے۔

Monday, October 12, 2009

آپ کے سوال اور میرے جواب-2

آپ کے سوال اور میرے جواب-2

عاشق حسین نے معشوق آبا د سے خامہ فر سائی کی ہے
ڈاکٹر صاحب ۔ او کہندی اے سیا ں میں تیری آں۔۔


جواب۔
جناب بھولے بھالے عاشق صاحب۔زیا دا خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ صر ف آپ کو ہی نہیں دس اور بندوں کو بھی یہی کہ چکی ہے۔

اوکاڑہ سے اللہ دتہ تحریر کرتے ہیں

ڈاکٹر صاحب میرا مسئلہ سب سے انوکھا ہے۔ میں جب بھی آنکھیں بند کر تا ہوں مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔ کھانا کھانے کے بھوک بالکل نہیں۔ اور تو اور صبح جب گیارہ بجے سو کر اٹھتا ہوں تو لاکھ کوشش کے با وجو د نیند نہیں آتی۔
آپ کیا فرما تے ہیں اس مسئلے کے بیچ؟

جواب۔
آپ ایسا کریں اپنے قریبی پنسار سٹور معجون زہرقندمنگوا لیں۔ ایک ما شہ رات سونے کے آدھا گھنٹہ بعد ایک صبیح گیارہ بجے اٹھنے سے 20 پہلے چھ ما ہ تک کھا ئیں۔
بیگم کی چھاڑ حسب معمول روزا نہ لینی ہے۔ نا غہ ہونے کی صورت میں مجھ سے گلہ نہ کرنا۔


Sunday, October 11, 2009

مزاحیہ سوال و جواب



مزاحیہ سوال و جواب

آپ کے سوال اور میرے جواب



السلام علیکم
خوانین و حضرات
آج سے ہم آپ کے سوالات کے جوابا ت پر مبنی یہ نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔
امید سب لوگ بھر پور طریقے سے شرکت کریں گے

آج ہم ان سوالوں کے جواب دیں گے جو ہمیں بذریعہ الہام موصو ل ہوئے ہیں۔
شکریہ

ساجدہ بی بی راولپنڈی سے پوچھتی ہیں
ڈاکٹر صاحب۔ میر ا ایک بیٹا بہت عجیب سی حر کتیں کر تا ہے۔ ہر وقت گھر افرا تفری پھیلائے رکھتا ہے۔ جھوٹ بھی بولتا ہے۔ اپنے بہن بھا ئیوں سے لڑتا رہتا ہے۔ پیسے چوری کر لیتا ہے پھر ما نتا بھی نہیں۔
کو ئی بات پوچھی جا ئے تو چا ر گھنٹے تک تقریر شروع کر دیتا ہے۔ اور وہ بھی ایسی جسکا سر نہ پیر- بہت ڈاکڑوں کو دکھا یا ۔ حکیموں کے پا س گئی ۔ پیر وں فقیروں کے آستانے چھان مارے مگر اسکی حر کتیں وہی کی ہی ہیں
کیا کروں۔۔۔ یہ بڑا ہو کر کیا کر ے گا۔؟

جواب
ًمحترمہ ساجدہ صا حبہ ۔ پریشان ہونے کی قطعا ضرورت نہیں ۔۔ آپ کے بیٹے کی حرکتیں واضح اشارہ کر رہی ہیں کہ آپ کا بیٹا بڑا ہو کر ہما رے ملک کا نا مور سیا ست دان بنے گا۔



شیخ مختار نے لاہور سے سوال بھیجا ہے

سوال: ڈاکٹر صاحب ۔ میں ایک محلے میں کریا نہ کی دکا ن چلاتا ہوں۔ ایک خاتوں اکثر مجھ سے سودا لینے آتی ہے۔
جب میں سودا دینے لگتا ہوں تو وہ ہلکے سے میر ا ہا تھ دبا تی ہے ۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب" جناب شیخ صاحب ۔۔ آپ بھی بھولے ہو۔ سا منے کی با ت ہے ۔ وہ خاتون آپ سے سودا مفت لینا چا ہتی ہیں۔

پشاور سے شیربہادر خان نے سوال پوچھا ہے

جناب امارے سا تھ عجیب نفسیا تی مسئلہ ہو گئی ہے۔ ام سارا دن ٹھکا ٹھک بو لتی ہے۔ امارا زبان ایک دم تیر کا مافک چلتی ہے- مگر عجیب ام جب گھر جا تا ہے تو اپنی بیگم کے سا منے اما را زبا ن رک جا تا ہے۔ ام بولنا چا ہتا ہے مگر نہیں بول سکتا۔

جواب۔
جناب شیربہادر خان صاحب۔ یہ صر ف آپ کا مسئلہ نہیں پوری مرد برادری اسی مسئلے سے دوچار ہے۔ میں اپنی بیگم سے پوچھ کر آپ کو اس مسئلے کا حل بتا ئوں گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں اپنی بیگم سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کر سکا تو۔۔۔



Friday, October 9, 2009

تلاش گمشدہ

تلاش گمشدہ

ایک بہت ہی پاکیزہ ہستی پچھلے کئی سا لو ں سے لا پتہ ہے۔ میں آج مجبوراً اسکی گمشد گی کا اشتہا ر دے رہا ہوں۔
عمر تقریباً 61 برس ہے۔ رنگ امریکی گند می ہے۔ انگریزی لبا س پہنے ہوئے ہے۔ اسکے ما تھے پر ایک کا لا داغ ہے۔ یہ اسکو عین جوانی میں یعنی 24 سا ل کی عمر میں لگا۔ اس نے نا دانی میں اپنے سگے اور جڑواں بھا ئی کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا- دونوں بھا ئی ایک ہی دن پیدا ہوے مگر ان میں محبت کا جژبہ نہ پیدا ہو سکا ۔ بھا ئیو ں کے ازلی دشنموں نے ان کے بیچ نفرت کو پروان چڑھا یا۔ خصو صاً ان بھا ئیو ں کے ایک پڑوسی نے دشمنی کو ہوا دی۔ دونو ں بھا ئی بے وقوف نکلے اور پڑوسی کی دشمنی کو جا نتے ہوئے بھی نہ سمجھے۔ نتیجتاً ِاس بھا ئی نے اپنے بھا ئی کو قتل کر دیا ۔ افسو س تو اس با ت ہے کہ شرمند بھی نہیں ۔ کہتا ہے۔ وہ بھا ئی تھا ہی ایسا۔

عجیب ذہنیت کا مالک ہے- 61 سا ل کا ہونے کے با وجود زبا ن ابھی تک توتلی ہے۔۔ لیکن اپنی زبان بولنے کے بجا ئے دوسروں کی زبان بو لنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ غیروں کی زبان بول کر اپنا منہ بھی ٹیڑھا کر بیٹھا ہے۔
ذہنی طور پر معذور ہے۔ جو بھی چکنی چپڑی با تیں کر تا ہے اسکے پیچھے چل پڑتا ہے۔
اسکے ذمے قرض کی ایک بہیت بڑی رقم وا جب الادا ہے ۔ مگر بے وقوف ہے ۔ کہ پھربھی ہر وقت دوسروں سے بہا نے بہانے سے پیسے ما نگتا رہتا ہے۔ اسکے گھر والے اور بظا ہر ہمدردی جتا نے والے ہی اسکے دشمن ہیں۔ ہر کو ئی اسکو کھا نے ا ور لوٹنے کے چکر میں ہے۔
اسکے بہت مخلص اور محبت کر نے والے دوست اب اس سے دامن چھڑاتے جا رہے ہیں۔ انہیں پتہ چل گیا ہے۔ کہ یہ ہم سے پیسے لیکر اللے تللوں میں ضا ئع کر دیتا ہے۔ مخلص دوستو ں کی بات نہیں ما نتا ۔ مگر دشمنوں کی ما ن لیتا ہے۔ لو گ کہتے ہیں ۔ ڈر کے ما رے ایسا کر تا ہے۔ مگر جو اسے جا نتے ہیں ۔ وہ یہ با ت نہیں ما نتے۔ ان کا کہنا ہے۔ کم عقل ہے۔ مگر بز دل نہیں۔ کو ئی اچھا رہنما مل جائے تو درست ہو جا ئے گا۔
آج کل تو بہت خونخوار ہو گیا ہے۔ دشنمو ں کے کہنے پر اپنوں کو قتل کیے جا رہا ہے۔ کہتا ہے یہ میرے اپنے نہیں۔ فسا دی ہیں۔

میر ا تو دل روتا ہے اس کیلئے۔
اللہ قسم دل روتا ہے۔
کس کی نظر لگ گئی ہے اس پا کیزہ ہستی کو؟
اپنی اصل گم کر بیٹھا ہے۔
کو ئی ہے جو اسے ڈھونڈ نکا لے۔
اللہ کے وا سطے ۔۔۔۔ مولا کے واسطے
اسے ڈھونڈ نے میں سب مل کر ایک دوسر ے کی مدد کرو۔
اس کی اصل کو ڈھو نڈو - ورنہ وہ سب کو ما ر دےگا۔۔ دشنموں کے ہا تھ میں کھیل خو د کو بھی ختم کر دے گا۔

Tuesday, October 6, 2009

گندے کپڑے


گندے کپڑے

ایک نئے شادی شدہ میاں بیوی کرایہ دار کی حیثیت سے ایک نئے محلے میں آئے۔
صبح جب خاتون خانہ اٹھی تو اسکی نظر سامنے والے بلا ک کی طر ف گئی۔ اس نے دیکھا کہ سامنے والوں نے گندے کپٹرے دھوکر ٹیرس میں لٹکا ئے ہوئے تھے ۔ لیکن کیڑے میلے میلے نطر آرہے تھے۔
خاتون نے اپنے شوہر سے کہا " لگتا ہے سامنے والی خا تون کو کیڑے اچھی طرح دھونے نہیں آتے ۔ یا پھر وہ جو ڈٹرجنٹ استعما ل کررہی ہے وہ غیرمعیا ری ہے۔ "
خاوند بو لا " ممکن ہے"
دوسرے دن پھر خاتون کو سامنے ٹیرس میں کپڑے لٹکے نظر آئے تو اس نے پھر وہی تبصرہ کیا کہ
یا تو خاتون کو کیڑے دھونے نہیں آتے یا پھر ڈٹرجنٹ صحیح نہیں۔
خاوند خاموش رہا۔
تیسرے دن اسکے خاوند کو دفتر سے چٹھی تھی ۔
وہ لوگ لیٹ اٹھے ۔
خا تون جب جا گی تو اسکی نظر سا منے کی طر ف گئی ۔ لیکن وہ یہ دیکھ کر اچھل پڑی کہ آج
سامنے ٹیرس میں لٹکے ہوئے کپڑے بہت صاف ستھرے نظر آرہے تھے۔ بلکہ ان کے رنگ بھی بہت نما یا ں تھے۔
خاتون نے بہت جوشیلے انداز میں اپنے شوہر کو مخاطب کیا
" لگتا ہے سامنے والی عورت کو کپڑے دھونے کا ڈھنگ آگیا ہے یا اس نے معیاری ڈٹر جنٹ استعمال کر نا شروع کیا ہے۔ وہ دیکھو کپڑے کتنے صاف نظر آرہے ہیں "
شوہر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور مسکر ا کر کہا
" دراصل آج میں ذرا جلدی اٹھ گیا تھا۔ اور میں نے وہ سامنے والی
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
کھڑکی
۔
۔
کا شیشہ صاف کر دیا تھا۔
'''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' '''''
اگر دیکھا جائے تو یہی سوچ ہمارے پورے معاشرے کی ہے۔
ہم ہر کسی کو اپنی مخصوص عینک یا شیشے سے دیکھتے ہیں اور ہمیں وہی کچھ نظر آتا ہے جو ہمیں ہماری عینک دکھا تی ہے ۔ ہم کبھی اپنے شیشے صاف کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔

دنیا کی سب سے خوبصورت عورت

جی ہاں دنیا کی سب سے خوبصورت عورت کون ہو سکتی ہے؟
مجھے نہیں پتہ آ پ کیا جواب دیں گے۔
میرے نزدیک دینا کی سب سے خوبصورت عورت " میری ماں " ہے۔
میری ماں میرا سب کچھ
میری دنیا
میری جنت
میرے ذہن میں محفوظ اپنی ماں کا سب سے پہلا عکس جو ابھر تا ہے وہ ایک شفیق، مہربان ، اور خوبصورت چہرے کا ہے
جو میری آنکھو ں کو ٹھنڈ ک بخشتا ہے۔ جو میری روح تک کو سرشار کر دیتا ہے۔
میری یاداشت میں مجفوظ ایک منظر صبح دم آنکھ کھلنے اور " گھوں گھوں" کی ایک مسحورکن آواز کا ہے
یہ آواز پتھر کی بنی چکی سے نکلتی تھی۔ اور صبح دم میرے بچپن میں مجھے بیدار کر تی تھی میں جب سردیوں کی صبح کو اپنا سر رضاتی سے با ہر نکالتا تو مجھے سامنے اپنی ماں چکی کو گھماتے نظر آتی ۔ میں پتہ نہیں کتنی دیر تک اپنی ماں کو دیکھتا رہتا اور چکی کی " گھوں گھوں" کو سنتے سنتے پتہ نہیں کب میری آنکھ دوبارہ لگ جا تی۔
اس دور میں ہمارے گھر میں گھر کی گندم کے روزانہ تازہ پسے ہوئے آٹے سےاور اپنے ماں کے مہربان ہاتھوں سے پکے ہوئےپراٹھے ملتے ۔ ان پراٹھوں جیسی لذت بھر زند گی بھر کسی پراٹھے میں نہ ملی۔
میری ماں صبح سویرے اٹھتی ۔ نمار پڑھتی اور پھر روزانہ کی ضرورت کا آٹا خود پیستی ۔ گاوں میں مشینی چکی تھی مگر میری ماں نے ہمیشہ اپنے ہاتھ سے پسے ہوئے آٹے کو ترجیح دی۔

دوسرا منظر جو میری یا داشت میں محفو ظ ہے وہ قران کی تلاوت کا ہے۔ جیسے ہی سورج کی پہلی کرن نکلتی ہمارے صحن میں سب سے پہلے داخل ہوئی۔ کھلا صحن جس میں ایک دیوار کے ساتھ چار پانچ چار پائیاں رکھی ہوتیں- محلے بھر کے بچے ، بچیاں آتے اور ان چارپائیوں پر بیٹھ جاتے۔ میری ماںگھر کے کا موں سے فارغ ہوتیں اور بچوں کے پاس آجا تیں۔ میں بھی ہاتھ میں قاعدہ پکڑے انہی بچوں کے بیچ بیٹھ جاتا۔ پھر میری بہت دیر تک ان بچوں کو پڑھاتی رہتیں۔

تیسرا منظر ماں کے کندھے پر سر رکھے گاوں کی گلیوں میں گھومنے کا ہے۔ میری ماں جب " نا لے پار" محلے میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جاتی تو میں ضد کر کے انکے ساتھ جاتا اور راستے میں تھک جانے کا بہانہ کر تا۔ میری ماں مجھے اٹھا کر کندھے سے لگا لیتیں۔ اور میں اپنے گاوں کو اپنی ماں کے کندھے سے دیکھتا اور لوگوں کو ، ڈھور ڈنگروں کو ایسے چلتے پھرتے دیکھنا بہت اچھا لگتا۔

میں نے پہلی بار دینا کو ماں کے کندھوں سے دیکھا۔

اور اسکے بعد تو مناظر اتنے ہیں کہ کیا کیا بیان کریں۔۔۔
میری ماں نے مجھے اتنا پیار دیا ، اتنی دعائیں دیں کہ دنیا کی کوئی ماں کیا دے گی۔؟
اسی لئے میری ماں مجھے دنیا کی سب سے خوبصورت عورت دکھائی دیتی ہے۔

میری جب شادی ہوئی تو میں اسلام آبا د میں جاب کر رہا تھا۔ والد صاحب میری شادی سے دوسال پہلے فوت ہو گئے تھے۔
مجھے ماں نے کہا " اپنی بیگم کو اسلام آبا د لے جائو۔"
میں نے کہا " صرف ایک شرط ہے کہ آپ بھی ہمارے ساتھ آئیں گی"
بہت دلائل دیے میری ماں نے۔ کہا تمہارے بڑے بھا ئی کی فیملی ادھر ہے۔ میری ساری رشتہ داری ادھر ہے۔ گھر بار حویلی ، ڈنگر سب کچھ تو ادھر ہے۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنا دم نہیں کہ اسلام آباد جاوں۔
مگر میری ضد کے آگے بالا خر ہار مان لی ۔اور ایسی مانی کہ سالوں گذ ر گئے ابھی تک میرے پاس ہی ہیں۔
میرے بچوں کو دیکھ کر جیتی ہیں اور میں انکو دیکھ کر
چند سال پہلے سیڑھیوں سے گریں تو ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ بہت تکلیف دیکھی۔ الحمد للہ ہڈی جڑگئی اور چلنے بھرنے کے قا بل ہو گئیں۔ انکی عمر 90 سال کے لگ بھگ ہے ۔ کہتی ہیں چلنے پھر تے موت آ ئے یہی رب سے دعا ہے۔
مجھے انکی خد مت کا اتنا موقع ملا کہ رب العالمین کا شکر گذار ہوں۔
روزانہ صبح جب گھر سے نکلتا ہوں ۔ زیا رت کرکے ، دعائیں لے کے نکلتا ہوں

میں کئی دفعہ انکے سامنے بیٹھ کے انہیں دیکھتا رہتا ہوں ۔ انکے جھریوں بھر ے چہرے کا حسش مجھے مسحور کردیتا ہے۔
انکے سلوٹوں بھرے ہاتھ اتنے نفیس ہیں کہ میں چوم کر آنکھو ں کو لگا تا ہوں۔
تومیں کیوں نہ کہوں
دنیا کی سب سے خوبصورت عورت " میری ماں" ہے

شادی ایک مذہبی فریضہ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نمائشی شو

شادی ۔۔۔۔ شادی ۔۔۔۔

خانہ آبادی۔۔۔

ہر مذ ہب میں شادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے - اسلام میں شادی حکم خداوندی کے ساتھ ساتھ سنت رسول بھی ہے۔

اسلام شادی کو معاشرے کی بنیا د کا پہلا پتھر قرار دیتا ہے ۔ اور قران میں بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ شادی، میاں بیوی کے تعلقات، اور طلاق جیسے معاملات کو بیان کیا گیا ہے۔

شادی جہان ایک مذہبی فریضہ ہے وہیں ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔

ایک مر د یا ایک عورت شا دی کے معاشرے میں عملی کردار ادا کرنے کی ابتدا کرتے ہیں۔

چنانچہ ضروری ہے کہ شادی سے پہلے ہی ہر دو افراد کو ان تمام ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کیا جائے جو ایک معاشرے کا فعال رکن بننے کی حیثیت سے ان پر نا فذ ہوتی ہیں۔

ہمارے ماحول میں شادی اب ایک مذہبی فریضے سے زیا دہ ایک نمائشی پروگرام اور ایک نام نہادثقافتی شو بن کر رہ گئی ہے - اسکے پیچھے ایک مکمل تاریخ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برصغیر پاک وہند کا علاقہ اسلام کی روشنی آنے سے پہلے بہت سارے من گھڑت مذاہب کی آماجگا ہ

رہاہے ۔ جن میں سر فہرست ہندو مت ہے۔ ہندو مت بنیادی طور کچھ رسومات اور کچھ توہمات کا ملغوبہ ہے- شادی کے حوالے سے جہیز کا معاملہ سر فہرست ہے۔ ہندووں میں وراثت کے جو قوانین ہیں- ان میں خواتین کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ تاہم اس خامی کو جہیز کی روائت سے درست کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔ چنانچہ ہندو معاشرے میں ایک لڑکی کے والدیں اسے وراثت میں حصے کے بجائے جہیز کی شکل میں متبادل دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اسی طرح لڑکی کے قریبی عزیز اقارب کو ایک نام نہاد رسم کے تحت لڑکی کو جہیز کیلئے حصہ ڈالنے کا پابند بنا یا گیا ہے۔ جسے مختلف علاقوں مختلف نام دیے گئے ہیں ۔ مثلا ننھال کا دین، دوھیال کا دین وغیرہ۔

شادی پر فضول اور بے معنی رسموں کے ذریعے اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے کی لت بھی اسی ہیندوانہ معاشرے کی روائت ہے۔

چونکہ برصغیر میں لڑکی لڑکے کے آزادانہ ملاپ کو صدیوں پہلے سے قابل مذمت سمجھا جا تا تھا لہذا شادی کو لڑکی لڑکے آزادانہ اختلاط کا ذریعہ بھی بنایا گیا۔ اور شادی میں کچھ ایسی رسموں کا اضافہ کیا گیا جس میں ہردو جنس براہ راست شریک ہو سکے۔ اس میں میں مختلف علاقوں میں مختلف انداز اور مختلف ناموں کے ساتھ رسوم ملتی ہیں لیکن مقصد سب کا ایک ہی ہے۔

شادی پر ڈھول اور ناچ گانا بھی اہم رسم شمار کی جا تی ہے-اس میں پیسے کے ضیاع کو قابل فخر رسم سمجھا جاتا۔ ڈھول باجے بجانے والوں اور ناچ گانا کرنے والوں پر پیسے لٹانا اسی جاہلانہ معاشرےکی نفسیاتی احساس کمتری کا مظہر ہے۔

جہیز بنانا تو پھر بھی سمجھ میں آتا ہے۔ مگر خصوصی طور ایک دن مخصوص کرکے جہیز کی نمائش کرنا بھی صدیوں پرانی رسم ہے ۔ یہ رسم جہاں نام نہاد احساس تفاخر بلکہ تکبر کی نمائندہ ہے وہیں غریب افراد کی دل شکنی کا با عث بھی ہے۔

اسی طرح جہیز مانگ کر لینا، اپنی مطالباتی فہرست دلہن کے والدین کر پیش کرنا اور انکی مالی حیثیت سے بڑھ کر جہیز مانگنا انسانیت کی توہین ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اسے معمولی بات سمجھا جا تا ہے۔یہ روائت بھی تاریخ نے دی ہے۔

اپنی حیثیت سے بڑھ کر بارات بنا کر دلہن کے گھر جانا، ویلیں دینا، اور راستوں میں ناچ گانا، ہلڑبازی کرنا کسی مہذب معاشرے میں رائج نہیں ۔ مگر ہمارے ہاں اسے شادی کا جزو لاینفک گردانا جاتا ہے۔

ولیمہ بھی ایک نمائشی رسم بنا دیا گیا ہے۔ یہاں بھی زیادہ سے زیادہ افراد کو مدعو کرنا، ہوٹلوں میں کھانے کا انتظام کرنا، کھانے کے دوران بے جا بے صبری ، ہلڑبازی، اور کھانے کا ضیا ع جیسی چیزیں ولیمہ کی تقریب کی اسلامی روح سے قطعا مماثلت نہیں رکھتیں۔

بات شادی تک محدود نہیں۔ شادی کے بعد بھی فضول رسومات کی ایک لمی فہرست ہے۔ جو خصوصی طور پر لڑکی کے والدین کو معا شی لحاظ مزید کمزور کرتی ہے۔

دیکھا جائے تو شادی لڑکی کے والدین کیلئے انکے معاشی قتل کے مترادف ہے۔

مجھے سمجھائیے ہماری شادیوں میں سوائے نکاح کے کونسی چیز اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے؟

Words Speak too

This blog has been created to publish my Poetry, Articles, Stories etc.