Tuesday, October 20, 2009

غزل


غزل

وہ دوستوں سے سجی محفلوں کو چھوڑ آئے
ہم اپنے گاوں میں سب رونقوں کو چھوڑآئے

وہ کچی گلیاں جہا ں بچپنا گذارا تھا
مہکتے کھیت ، وہ پگڈنڈیوں کو چھوڑ آئے

وہ جھیل ، چشمے، وہ آبشار، وہ جھرنے
وہ رنگ وبو سے سجی وادیوں کو چھوڑآئے

وہ بھیگی رات، وہ ساون، کھلی کھلی سی دھوپ
مکین شہر ، سبھی موسموں کو چھوڑ آئے

شہر کی روشنیو، کیا بتا ئیں اب تم کو
ہم اپنے گاوں میں جلتے دیوں کو چھوڑ آئے

محبتوں کے سفر میں عجیب موڑ آ ئے
کہیں پہ دوست ، کہیں دشمنوں کو چھوڑ آئے

بغیر جن کے کبھی زندگی ادھوری تھی
غزال آنکھوں اور ماہ رخوں کو چھوڑ آئے

عجیب لوگ ہیں ہم نور کیا کہیں خود کو
آسائشوں کیلئے ، چا ہتوں کو چھوڑ آئے

No comments:

Post a Comment