غزل
وہ دوستوں سے سجی محفلوں کو چھوڑ آئے
ہم اپنے گاوں میں سب رونقوں کو چھوڑآئے
وہ کچی گلیاں جہا ں بچپنا گذارا تھا
مہکتے کھیت ، وہ پگڈنڈیوں کو چھوڑ آئے
وہ جھیل ، چشمے، وہ آبشار، وہ جھرنے
وہ رنگ وبو سے سجی وادیوں کو چھوڑآئے
وہ بھیگی رات، وہ ساون، کھلی کھلی سی دھوپ
مکین شہر ، سبھی موسموں کو چھوڑ آئے
شہر کی روشنیو، کیا بتا ئیں اب تم کو
ہم اپنے گاوں میں جلتے دیوں کو چھوڑ آئے
محبتوں کے سفر میں عجیب موڑ آ ئے
کہیں پہ دوست ، کہیں دشمنوں کو چھوڑ آئے
بغیر جن کے کبھی زندگی ادھوری تھی
غزال آنکھوں اور ماہ رخوں کو چھوڑ آئے
عجیب لوگ ہیں ہم نور کیا کہیں خود کو
آسائشوں کیلئے ، چا ہتوں کو چھوڑ آئے
No comments:
Post a Comment