Wednesday, November 18, 2009

وقت ملا تو سوچیں گے

وقت ملا تو سوچیں گے

کیوں تم اچھے لگتے ہو
وقت ملا تو سوچیں گے
تجھ میں ایسا کیا دیکھا ہے
وقت ملا تو سوچیں گے

سا را شہر شنا ئی کا دعوے دار تو ہے لیکن
کون ہما را اپنا ہے
وقت ملا تو سوچیں گے

ہم نے اس کو لکھا تھا
ملنے کی تدبیر کرو
اسنے لکھ کے بھیجا ہے
وقت ملا تو سوچیں گے

موسم ، خو شبو، با د صبا
چاند ، شفق اور تاروں میں
کون تمھا رے جیسا ہے
وقت ملا تو سوچیں گے

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

بساط جاں پہ عذاب اترتے ہیں کس طرح
شب وروز دل پہ عتاب اترتے ہیں کس طرح
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

یہ جو لوگ سے ہیں چھپے ہوئے پس دوستاں
تو یہ کون ہیں؟
یہ جو روگ سے ہیں چھپے ہوئے پس جسم وجاں
تو یہ کس لئے
یہ جو کان ہیں میری آہٹوں پہ لگے ہوئے
تو یہ کیوں بھلا
یہ جو ہونٹ ہیں صف دوستاں میں سلے ہوئے
تو یہ کس لئے
یہ جو اضطراب رچا ہوا ہے وجود میں
تو یہ کیوں بھلا
یہ جو سنگ سا کوئی آ گرا ہےجمود میں
تو یہ کس لئے
یہ جو دل میں درد چھڑا ہوا ہے لطیف سا
تو یہ کب سے ہے؟
یہ جو پتلیوں میں ہے عکس کوئی خفیف سا
تو یہ کب سے ہے
یہ جو آنکھ میں کوئی برف سی ہے جمی ہوئی
تو یہ کس لئے
یہ جو دوستوں میں نئی نئی سی کمی ہوئی
تویہ کیوں بھلا
یہ جو لوگ پیچھے پڑے ہوئے ہیں فضول سے
انہیں کیا پتا؟
انہیں کیا خبر
کسی راہ کے کسی موڑ پر جو انہیں ذرا
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے؟

دو خزانے

آنسو اور مسکرا ہٹ
دو انمول خزانے ہیں

پہلے خزانے کو
اپنے تک محدود رکھو
اور
دوسرے کو
لوگوں پر نچھاور کر دو

حضرت علی

قا تل سپا ہی

قا تل سپا ہی
دوپہرکا وقت ہے سورج اپنے عروج پر ہے اور آگ بر سا رہاہے۔ ایسے میں لاہور، سمن آباد کی گلیوں میں
ایک ڈاکیا پسینے سے شرابور اپنی پرانی سا ئیکل پر بوکھلایا پھر رہا ہے۔ گلیوں میں بہت ہی
کم لوگ آ جا رہے ہیں۔ ڈاکیا اچانک ایک پرچون کی دکان پر جا تا ہے اور ہراسا ں لہجے میں
دکاندار سے مخاطب ہوتاہے
"بھا ئی صاحب ، قاتل سپا ہی کا گھر کون سا ہے؟
قق۔۔قاتل۔۔۔ سس سس سپاہی ۔۔ کا گھر؟
دکاندار سراسیمہ انداز میں ڈاکیے سے پوچھتا ہے
"جی ہا ں۔۔ قتل سپا ہی" ڈاکیا جواب دیتا ہے۔
" یہ ۔۔ یہاں۔۔ کو ئی قا تل نہیں رہتا ۔۔۔ میرا مطلب ہے کو ئی قا تل سپاہی نہیں رہتا۔۔ جا و کسی اور جگہ پتہ کرو"
ڈاکیا پریشان حالت میں واپس پلٹئاہے۔
ماتھے سے پسینہ صاف کر تا ہے اور اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے
" یا اللہ یہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ آج میری نوکری کا پہلا دن ہے اور میں ابھی تک چند
خطوط ہی تقسیم کر سکا ہوں۔ یہ قاتل سپاہی ۔۔۔ میں کہاں سے تلاش کروں"
وہ ایک با ر پھر غور سے خط پر لکھے ایڈریس کو پڑھتا ہے۔ واضح طور پر انگریزی میں لکھا ہو تا ہے " قاتل سپاہی،
غالب سٹریٹ، سمن آباد ، لاہور"
ٹھیک ہے وہ مڈل پاس ہے مگر انگریزی تو پڑھ ہی لیتا ہے۔
گلی بھی یہی ہے مگر کو ئی شخص یہ بتا نے کو تیار نہیں کہ قا تل سپا ہی کا گھر کون سا ہے۔
وہ چلتے چلتے تھک چکا ہو تا ہے۔ ایک گھر کے دروازے کےساتھ سا ئیکل کھڑی کرتا ہے۔ تا کہ تھوڑا
پسینہ خشک کر لے۔
وہ اپنا سر دیوار سے لگا کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔پھر کھولتا ہے۔ نظر بالکل سامنے پڑتی ہے۔
سامنے گھر کے دروازے پر موجود چھوٹے سے بورڈ پر لکھا ہوتا ہے۔ " قا تل سپاہی"
ڈاکیا خوشی سے بھا گ کر دروازے پر لگی بیل بجا تا ہے۔ ایک توجوان نکلتا ہے
"جی ۔ فرما ئیے"
ڈاکیا " کیا قا ئل سپاہی کا گھر یہی ہے"
توجوان حیرانی سے پوچھتا ہے " کیا مطلب؟"
ڈاکیا " جی وہ ان کا خط دینا تھا- یہ لیں"
نوجوان ایک نظر خط پر لکھے ایڈریس پر ڈا لتا ہے ، مسکراتا ہے اور کہتا ہے
" جی یہ میر ے دادا جی کا خط ہے۔ لیکن آپ انکا نا م غلط بول رہے ہیں
انکا نا م ہے قتیل شفائی "Qatil Shiphai

ماخوذ

انداز بیاں اپنا

انداز بیاں اپنا

ایک باد شاہ نے عجیب و غریب خواب دیکھا ۔ جس سے وہ خا صا پریشان ہوا۔ اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ ملک بھر سے خوابوں کی تعبیر بتانے والوں کو بلوایا جائے۔حکم کی تعمیل میں ملک کے مشہور و معروف تعبیر بتانے والے حاضر ہو گئے۔
بادشا ہ نے اپنا خواب بیان کیا۔
" میں اپنے تخت پر براجمان ہوں۔اچانک میں دیکھتا ہوں کہ بکے بعد دیگرے میرے سارے دانت گر رہے ہیں۔یہاں تک کہ میرے منہ میں ایک دانت بھی نہیں بچتا۔"
آپ لوگ سوچ سمجھ کے اسکی تعبیر بتائیں-

سب لوگ اپنی اپنی سمجھ کے مطا بق اس خواب کی تعبیر بتا تے ہیں مگر با دشاہ مطمئن نہیں ہوتا۔

اچانک بادشاہ کی نظر دو عمر رسیدا افراد پر پڑتی ہے۔ جو دربار کے ایک کونے میں بیٹھے ہوتے ہیں
بادشاہ ان سے کہتا ہے۔ تم مجھے میر ے خواب کی تعبیر بتاو۔

ایک بزرگ کھڑا ہوتا ہے اور کہتاہے۔ میں اسلئے خا موش تھا کہ اس خواب کی تعبیر اچھی نہیں۔ لیکن آپ کا حکم ہے تو بتا تا ہوں۔
بادشا ہ سلامت۔ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے خا ندان کے تما م لوگ آپکے بیوی ، بچے ، رشتہ دار آپ کی آنکھوں کے سا منے مریںگے۔ اور آپ سب سے آخر میں مریں گے۔

بادشا ہ یہ تعبیر سنتے ہی بہت غصے میں آجا تا ہے۔ اور حکم دیتا ہے۔ ا منحو س کو فورا جیل میں ڈال دو۔
اب بادشاہ دوسرے بزرگ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اور حکم دیتا ہے کہ اب تم تعبیر بتاو۔
بزرگ اٹھتا ہے اور کہتا ہے۔
بادشاہ سلامت ۔ اس خواب کی تعبیر بہت اچھی ہے۔ اس خواب کا مطلب ہے۔ آپ کی عمر بہت دراز ہوگی اور آپ اپنے خاندان کے تما م افراد سے زیادہ عمر پا ئیںگے۔

بادشاہ خوش ہوتا ہے اور بزرگ کو انعا م و اکرام سے توازتا ہے۔

دوستو ۔ غور کریں تو دونو ں بزرگوں نے با ت ایک ہی کہی ہے۔ تا ہم کہنے کا انداز جدا جدا ہے۔
ایک نے سزا پائی اور دوسرے نے انعام پایا۔

انداز بیاں با ت بدل دیتا ہے ور نہ
دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں ہے

Tuesday, November 10, 2009

This blog has been created to publish my Poetry, Articles, Stories etc.
I shall also share the selected poetry/Articles here in Urdu and English


آپ کے سوال اور میرے جواب-8

آپ کے سوال اور میرے جواب-8



اسلام آبا د سے ایک سرکا ری ملازم نے اپنی کہانی کچھ یوں بیان کی ہے

ڈاکٹر صاحب۔۔۔ میرا مسئلہ عا م بیماریوں سے ہٹ کر ہے۔
میں ایک سرکا ری ملازم ہوں اور یہاں اسلام آباد میں ایک سرکاری دفتر میں جاب کرتاہوں۔
میں جیسے ہی دفتر کی بلڈنگ میں پاءوں رکھتاہوں۔ میرے سرمیں درد اور آنکھوں میں نیند کا خمار چڑھنا شروع ہوجاتا
ہے۔ جی چاہتاہے کسی ٹیبل پر سر رکھ کر سو جائوں۔ بہت کوشش کرتا ہوں کہ کچھ کا م کر لوں مگر مجا ل ہے جو آنکھیں کھلنے کا نا م لیں۔مجبورا تھوڑی دیر سستا لیتا ہوں تو طبیعت اس قابل ہوتی ہے کہ چائے کا ایک کب پی کر تازہ اخبار پڑھ سکوں ۔ ایسے میں اگر کوئی کا م کہے تو اسے کچا کھا جا نے کو جی کرتا ہے۔
چٹھی کے وقت طبیعت ہشاش بشاش ہو جا تی ہے۔ اور پھر دوسرے دن دفتر آنے تک طبیعت ٹھیک رہتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب سارے سرکا ری ہشپتالوں سے دوائی لے چکا ہوں مگر کوئی افاقہ نہیں۔ میرے ساتھ چند اور سا تھی اسی مرض کا شکار ہیں ۔
ڈاکٹر یہ کیا بیماری ہے۔ کو ئی علاج ہے آپ کے پاس۔۔۔

جواب

جناب سرکاری ملازم صاحب۔۔۔ اس بیماری کو عرف عام میں " ہڈحرامی" کہتےہیں ۔ جب بندہ سرکاری دفتر صرف تنخواہ لینے جائے اور با قی دتون میں " شارٹ لیو" اور " پھرلو" لگانے کا عادی ہو تو یہ بیماری لگ جا تی ہے۔
اور یہ کیا کہا۔ صرف چند ساتھیوں کو یہ بیماری ہے۔؟ لا حول ولا قوہ-- بہتر میں خاموش ہی رہوں۔۔۔

اس کے علاج کیلئے آپ کو " شوکاز نوٹس" دینا ضروری ہے۔ جس نوکری سے برخواستگی کا حوالہ ہو۔
آپ ایسا کر یں ۔ اپنے "باس" کو مجھ سے رابطہ کرنے کیلئے کہیں تا کہ آپ کی بیماری کا مکمل علاج کیا جا سکے
-

Friday, November 6, 2009

سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سُنا ہے جنگلوں‌کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سُنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے
تو وہ حملہ نہیں کرتا

سُنا ہے ہوا کے تیز جھونکےجب درختوں کوہلاتے ہیں
تو مینا اپنے گھر کو بھول کرکوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سُنا ہے گھونسلوں سے جب کوئی بچہ گرے
تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے

سُنا ہے کوئی پُل ٹوٹ جائے
اور سیلاب آ جائے تو کسی لکڑی کے تختے پر گلہری،سانپ، چیتا اور
بکری ساتھ ہوتے ہیں

سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

خُدائے منصف و اکبر
ہمارےمُلک میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستورنافذ کر

Monday, November 2, 2009

گائے بمقابلہ بکری

گائے بمقابلہ بکری

دو صاحب آپس میں بحث کررہے تھے
ایک کا کہنا تھا کہ بکری مفید جا نور ہے جبکہ
دوسرے صاحب کے نزدیک گائے زیا دہ مفید جانور تھا
دونوں اپنے اپنے دلائل دیتے رہے مگر کوئی ہا ر ماننے پر تیار نہ تھا۔
آخر انہوں کسی تیسرے فرد سے فیصلہ کروانے پر اتفاق کیا ۔
ایک آدمی قریب سے گذرا تو اسے روک لیا اور اپنا مقد مہ پیش کر کے رائے مانگی۔
وہ آدمی بہت غوروفکر کے بعد کنہے لگا
" میرے خیا ل میں بکری مفید جا نور ہے۔ کیونکہ مجھے یاد پڑتا ہےکہ گائے نے ایک دفعہ مجھے ٹکر ماری تھی
"

خوف کا دائرہ

خوف کا دائرہ

عورتیں چوہے سے ڈرتی ہیں
چوہا بلی سے ڈرتا ہے
بلی کتے سے ڈرتی ہے
کتا آدمی سے ڈرتا ہے
آدمی عورتوں سے ڈرتا ہے
اور
عورتیں پھر وہی چوہے سے ڈرتی ہیں