آپ کے سوال اور میرے جواب-8
اسلام آبا د سے ایک سرکا ری ملازم نے اپنی کہانی کچھ یوں بیان کی ہے
ڈاکٹر صاحب۔۔۔ میرا مسئلہ عا م بیماریوں سے ہٹ کر ہے۔
میں ایک سرکا ری ملازم ہوں اور یہاں اسلام آباد میں ایک سرکاری دفتر میں جاب کرتاہوں۔
میں جیسے ہی دفتر کی بلڈنگ میں پاءوں رکھتاہوں۔ میرے سرمیں درد اور آنکھوں میں نیند کا خمار چڑھنا شروع ہوجاتا
ہے۔ جی چاہتاہے کسی ٹیبل پر سر رکھ کر سو جائوں۔ بہت کوشش کرتا ہوں کہ کچھ کا م کر لوں مگر مجا ل ہے جو آنکھیں کھلنے کا نا م لیں۔مجبورا تھوڑی دیر سستا لیتا ہوں تو طبیعت اس قابل ہوتی ہے کہ چائے کا ایک کب پی کر تازہ اخبار پڑھ سکوں ۔ ایسے میں اگر کوئی کا م کہے تو اسے کچا کھا جا نے کو جی کرتا ہے۔
چٹھی کے وقت طبیعت ہشاش بشاش ہو جا تی ہے۔ اور پھر دوسرے دن دفتر آنے تک طبیعت ٹھیک رہتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب سارے سرکا ری ہشپتالوں سے دوائی لے چکا ہوں مگر کوئی افاقہ نہیں۔ میرے ساتھ چند اور سا تھی اسی مرض کا شکار ہیں ۔
ڈاکٹر یہ کیا بیماری ہے۔ کو ئی علاج ہے آپ کے پاس۔۔۔
جواب
جناب سرکاری ملازم صاحب۔۔۔ اس بیماری کو عرف عام میں " ہڈحرامی" کہتےہیں ۔ جب بندہ سرکاری دفتر صرف تنخواہ لینے جائے اور با قی دتون میں " شارٹ لیو" اور " پھرلو" لگانے کا عادی ہو تو یہ بیماری لگ جا تی ہے۔
اور یہ کیا کہا۔ صرف چند ساتھیوں کو یہ بیماری ہے۔؟ لا حول ولا قوہ-- بہتر میں خاموش ہی رہوں۔۔۔
اس کے علاج کیلئے آپ کو " شوکاز نوٹس" دینا ضروری ہے۔ جس نوکری سے برخواستگی کا حوالہ ہو۔
آپ ایسا کر یں ۔ اپنے "باس" کو مجھ سے رابطہ کرنے کیلئے کہیں تا کہ آپ کی بیماری کا مکمل علاج کیا جا سکے-
No comments:
Post a Comment