قا تل سپا ہی
دوپہرکا وقت ہے سورج اپنے عروج پر ہے اور آگ بر سا رہاہے۔ ایسے میں لاہور، سمن آباد کی گلیوں میں
ایک ڈاکیا پسینے سے شرابور اپنی پرانی سا ئیکل پر بوکھلایا پھر رہا ہے۔ گلیوں میں بہت ہی
کم لوگ آ جا رہے ہیں۔ ڈاکیا اچانک ایک پرچون کی دکان پر جا تا ہے اور ہراسا ں لہجے میں
دکاندار سے مخاطب ہوتاہے
"بھا ئی صاحب ، قاتل سپا ہی کا گھر کون سا ہے؟
قق۔۔قاتل۔۔۔ سس سس سپاہی ۔۔ کا گھر؟
دکاندار سراسیمہ انداز میں ڈاکیے سے پوچھتا ہے
"جی ہا ں۔۔ قتل سپا ہی" ڈاکیا جواب دیتا ہے۔
" یہ ۔۔ یہاں۔۔ کو ئی قا تل نہیں رہتا ۔۔۔ میرا مطلب ہے کو ئی قا تل سپاہی نہیں رہتا۔۔ جا و کسی اور جگہ پتہ کرو"
ڈاکیا پریشان حالت میں واپس پلٹئاہے۔
ماتھے سے پسینہ صاف کر تا ہے اور اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے
" یا اللہ یہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ آج میری نوکری کا پہلا دن ہے اور میں ابھی تک چند
خطوط ہی تقسیم کر سکا ہوں۔ یہ قاتل سپاہی ۔۔۔ میں کہاں سے تلاش کروں"
وہ ایک با ر پھر غور سے خط پر لکھے ایڈریس کو پڑھتا ہے۔ واضح طور پر انگریزی میں لکھا ہو تا ہے " قاتل سپاہی،
غالب سٹریٹ، سمن آباد ، لاہور"
ٹھیک ہے وہ مڈل پاس ہے مگر انگریزی تو پڑھ ہی لیتا ہے۔
گلی بھی یہی ہے مگر کو ئی شخص یہ بتا نے کو تیار نہیں کہ قا تل سپا ہی کا گھر کون سا ہے۔
وہ چلتے چلتے تھک چکا ہو تا ہے۔ ایک گھر کے دروازے کےساتھ سا ئیکل کھڑی کرتا ہے۔ تا کہ تھوڑا
پسینہ خشک کر لے۔
وہ اپنا سر دیوار سے لگا کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔پھر کھولتا ہے۔ نظر بالکل سامنے پڑتی ہے۔
سامنے گھر کے دروازے پر موجود چھوٹے سے بورڈ پر لکھا ہوتا ہے۔ " قا تل سپاہی"
ڈاکیا خوشی سے بھا گ کر دروازے پر لگی بیل بجا تا ہے۔ ایک توجوان نکلتا ہے
"جی ۔ فرما ئیے"
ڈاکیا " کیا قا ئل سپاہی کا گھر یہی ہے"
توجوان حیرانی سے پوچھتا ہے " کیا مطلب؟"
ڈاکیا " جی وہ ان کا خط دینا تھا- یہ لیں"
نوجوان ایک نظر خط پر لکھے ایڈریس پر ڈا لتا ہے ، مسکراتا ہے اور کہتا ہے
" جی یہ میر ے دادا جی کا خط ہے۔ لیکن آپ انکا نا م غلط بول رہے ہیں
انکا نا م ہے قتیل شفائی "Qatil Shiphai
ماخوذ
دوپہرکا وقت ہے سورج اپنے عروج پر ہے اور آگ بر سا رہاہے۔ ایسے میں لاہور، سمن آباد کی گلیوں میں
ایک ڈاکیا پسینے سے شرابور اپنی پرانی سا ئیکل پر بوکھلایا پھر رہا ہے۔ گلیوں میں بہت ہی
کم لوگ آ جا رہے ہیں۔ ڈاکیا اچانک ایک پرچون کی دکان پر جا تا ہے اور ہراسا ں لہجے میں
دکاندار سے مخاطب ہوتاہے
"بھا ئی صاحب ، قاتل سپا ہی کا گھر کون سا ہے؟
قق۔۔قاتل۔۔۔ سس سس سپاہی ۔۔ کا گھر؟
دکاندار سراسیمہ انداز میں ڈاکیے سے پوچھتا ہے
"جی ہا ں۔۔ قتل سپا ہی" ڈاکیا جواب دیتا ہے۔
" یہ ۔۔ یہاں۔۔ کو ئی قا تل نہیں رہتا ۔۔۔ میرا مطلب ہے کو ئی قا تل سپاہی نہیں رہتا۔۔ جا و کسی اور جگہ پتہ کرو"
ڈاکیا پریشان حالت میں واپس پلٹئاہے۔
ماتھے سے پسینہ صاف کر تا ہے اور اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے
" یا اللہ یہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ آج میری نوکری کا پہلا دن ہے اور میں ابھی تک چند
خطوط ہی تقسیم کر سکا ہوں۔ یہ قاتل سپاہی ۔۔۔ میں کہاں سے تلاش کروں"
وہ ایک با ر پھر غور سے خط پر لکھے ایڈریس کو پڑھتا ہے۔ واضح طور پر انگریزی میں لکھا ہو تا ہے " قاتل سپاہی،
غالب سٹریٹ، سمن آباد ، لاہور"
ٹھیک ہے وہ مڈل پاس ہے مگر انگریزی تو پڑھ ہی لیتا ہے۔
گلی بھی یہی ہے مگر کو ئی شخص یہ بتا نے کو تیار نہیں کہ قا تل سپا ہی کا گھر کون سا ہے۔
وہ چلتے چلتے تھک چکا ہو تا ہے۔ ایک گھر کے دروازے کےساتھ سا ئیکل کھڑی کرتا ہے۔ تا کہ تھوڑا
پسینہ خشک کر لے۔
وہ اپنا سر دیوار سے لگا کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔پھر کھولتا ہے۔ نظر بالکل سامنے پڑتی ہے۔
سامنے گھر کے دروازے پر موجود چھوٹے سے بورڈ پر لکھا ہوتا ہے۔ " قا تل سپاہی"
ڈاکیا خوشی سے بھا گ کر دروازے پر لگی بیل بجا تا ہے۔ ایک توجوان نکلتا ہے
"جی ۔ فرما ئیے"
ڈاکیا " کیا قا ئل سپاہی کا گھر یہی ہے"
توجوان حیرانی سے پوچھتا ہے " کیا مطلب؟"
ڈاکیا " جی وہ ان کا خط دینا تھا- یہ لیں"
نوجوان ایک نظر خط پر لکھے ایڈریس پر ڈا لتا ہے ، مسکراتا ہے اور کہتا ہے
" جی یہ میر ے دادا جی کا خط ہے۔ لیکن آپ انکا نا م غلط بول رہے ہیں
انکا نا م ہے قتیل شفائی "Qatil Shiphai
ماخوذ
No comments:
Post a Comment