Wednesday, November 18, 2009

وقت ملا تو سوچیں گے

وقت ملا تو سوچیں گے

کیوں تم اچھے لگتے ہو
وقت ملا تو سوچیں گے
تجھ میں ایسا کیا دیکھا ہے
وقت ملا تو سوچیں گے

سا را شہر شنا ئی کا دعوے دار تو ہے لیکن
کون ہما را اپنا ہے
وقت ملا تو سوچیں گے

ہم نے اس کو لکھا تھا
ملنے کی تدبیر کرو
اسنے لکھ کے بھیجا ہے
وقت ملا تو سوچیں گے

موسم ، خو شبو، با د صبا
چاند ، شفق اور تاروں میں
کون تمھا رے جیسا ہے
وقت ملا تو سوچیں گے

No comments:

Post a Comment