Wednesday, November 18, 2009

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

بساط جاں پہ عذاب اترتے ہیں کس طرح
شب وروز دل پہ عتاب اترتے ہیں کس طرح
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

یہ جو لوگ سے ہیں چھپے ہوئے پس دوستاں
تو یہ کون ہیں؟
یہ جو روگ سے ہیں چھپے ہوئے پس جسم وجاں
تو یہ کس لئے
یہ جو کان ہیں میری آہٹوں پہ لگے ہوئے
تو یہ کیوں بھلا
یہ جو ہونٹ ہیں صف دوستاں میں سلے ہوئے
تو یہ کس لئے
یہ جو اضطراب رچا ہوا ہے وجود میں
تو یہ کیوں بھلا
یہ جو سنگ سا کوئی آ گرا ہےجمود میں
تو یہ کس لئے
یہ جو دل میں درد چھڑا ہوا ہے لطیف سا
تو یہ کب سے ہے؟
یہ جو پتلیوں میں ہے عکس کوئی خفیف سا
تو یہ کب سے ہے
یہ جو آنکھ میں کوئی برف سی ہے جمی ہوئی
تو یہ کس لئے
یہ جو دوستوں میں نئی نئی سی کمی ہوئی
تویہ کیوں بھلا
یہ جو لوگ پیچھے پڑے ہوئے ہیں فضول سے
انہیں کیا پتا؟
انہیں کیا خبر
کسی راہ کے کسی موڑ پر جو انہیں ذرا
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے؟

No comments:

Post a Comment