You can read here my Urdu Poetry, Articles, Stories , columns and other write ups etc
Thursday, December 31, 2009
Monday, December 7, 2009
Saturday, December 5, 2009
ایک نظم
ایک نظم
خواھشوں کی تتلیاں ۔ ۔ ۔
چاھتوں کے پھولوں پر ، پھڑ پھڑاتی رھتی ہیں
تیری یاد کے جگنو ۔ ۔ ۔
ان اندھیری راتوں میں ، راستے دکھاتے ھیں
دل کی دھڑکنیں میری، اک کنول کی صورت میں
مسکراتی رھتی ھیں ۔ ۔ ۔
آرزو کے تاج محل ، چاہتوں کی ندرت میں ،۔ ۔ ۔
ھمقدم ھی رھتے ھیں ۔ ۔ ۔
خوشبوؤں کی سوغاتیں، چین و سکھ کے دیپک بھی
حوصلوں کی صورت میں ۔ ۔ ۔
ساتھ ساتھ میر ے ھیں ۔ ۔ ۔
مسکراتی یہ کلیاں، شبنمی سی بارش میں
کچھ صدائیں دیتی ھیں ۔ ۔ ۔
چاند کی سجل کرنیں، چارسو یہ بکھر ے رنگ
کچھ پیام دیتے ھیں ۔ ۔ ۔ ۔
،، تم اگر جو آجاؤ، راستے چمک جائیں
خواھشوں کی تتلیاں ۔ ۔ ۔
چاھتوں کے پھولوں پر ، پھڑ پھڑاتی رھتی ہیں
تیری یاد کے جگنو ۔ ۔ ۔
ان اندھیری راتوں میں ، راستے دکھاتے ھیں
دل کی دھڑکنیں میری، اک کنول کی صورت میں
مسکراتی رھتی ھیں ۔ ۔ ۔
آرزو کے تاج محل ، چاہتوں کی ندرت میں ،۔ ۔ ۔
ھمقدم ھی رھتے ھیں ۔ ۔ ۔
خوشبوؤں کی سوغاتیں، چین و سکھ کے دیپک بھی
حوصلوں کی صورت میں ۔ ۔ ۔
ساتھ ساتھ میر ے ھیں ۔ ۔ ۔
مسکراتی یہ کلیاں، شبنمی سی بارش میں
کچھ صدائیں دیتی ھیں ۔ ۔ ۔
چاند کی سجل کرنیں، چارسو یہ بکھر ے رنگ
کچھ پیام دیتے ھیں ۔ ۔ ۔ ۔
،، تم اگر جو آجاؤ، راستے چمک جائیں
Friday, December 4, 2009
Wednesday, December 2, 2009
Tuesday, December 1, 2009
مجھے لکھنے کی خواہش ہے ۔۔۔
مجھے لکھنے کی خواہش ہے ۔۔۔
مگر لکھا نہیں جاتا
میرے الفاظ دل کی آہنی دیوار سے سر پھوڑتے ہیں
اور انہیں اظہار کا رستہ نہیں ملتا
میری آنکھیں جنھیں دِل میں چھپے جذبات کو اشکوں کی بولی میں
بتا دینے پہ قدرت تھی
وہ اب کچھ بھی نہیں کہتیں
میرے یہ لب !
جو دل کی ان کہی باتوں کو کہنے سے نہ ڈرتے تھے
وہ لب کچھ بھی نہیں کہتے
میرے یہ اُنگلیاں !
جو دل میں چُھپے جذبات کو اظہار کا رستہ بتاتی تھیں
وہ اب کچھ بھی نہیں لکھتیں
میری آنکھیں، یہ لب، یہ اُنگلیاں مجھ سے کہتے ہیں
کہ اب جذبات کو اظہار کا رستہ نہیں دینا
کہ یہ منہ زور ہوتے ہیں
فقط رستے کے ملنے سے
انہیں منزل تلک جانے کی حاجت ہی نہیں رہتی
نئے رستے پہ جاتے ہیں
نئی راہیں بناتے ہیں
مگر پھر واپسی کے سب نشاں یہ بھول جاتے ہیں
انہیں رستہ نہیں دینا
انہیں تم دِل میں رہنے دو !
وگرنہ خوں رُلائیں گے
انہیں رستہ نہیں دینا
انہیں تم دِل میں رہنے دو !
مجھے لکھنے کی خواہش ہے
مگر لکھا نہیں جاتا
مگر لکھا نہیں جاتا
میرے الفاظ دل کی آہنی دیوار سے سر پھوڑتے ہیں
اور انہیں اظہار کا رستہ نہیں ملتا
میری آنکھیں جنھیں دِل میں چھپے جذبات کو اشکوں کی بولی میں
بتا دینے پہ قدرت تھی
وہ اب کچھ بھی نہیں کہتیں
میرے یہ لب !
جو دل کی ان کہی باتوں کو کہنے سے نہ ڈرتے تھے
وہ لب کچھ بھی نہیں کہتے
میرے یہ اُنگلیاں !
جو دل میں چُھپے جذبات کو اظہار کا رستہ بتاتی تھیں
وہ اب کچھ بھی نہیں لکھتیں
میری آنکھیں، یہ لب، یہ اُنگلیاں مجھ سے کہتے ہیں
کہ اب جذبات کو اظہار کا رستہ نہیں دینا
کہ یہ منہ زور ہوتے ہیں
فقط رستے کے ملنے سے
انہیں منزل تلک جانے کی حاجت ہی نہیں رہتی
نئے رستے پہ جاتے ہیں
نئی راہیں بناتے ہیں
مگر پھر واپسی کے سب نشاں یہ بھول جاتے ہیں
انہیں رستہ نہیں دینا
انہیں تم دِل میں رہنے دو !
وگرنہ خوں رُلائیں گے
انہیں رستہ نہیں دینا
انہیں تم دِل میں رہنے دو !
مجھے لکھنے کی خواہش ہے
مگر لکھا نہیں جاتا
Subscribe to:
Posts (Atom)





