Saturday, December 5, 2009

ایک نظم

ایک نظم

خواھشوں کی تتلیاں ۔ ۔ ۔

چاھتوں کے پھولوں پر ، پھڑ پھڑاتی رھتی ہیں

تیری یاد کے جگنو ۔ ۔ ۔

ان اندھیری راتوں میں ، راستے دکھاتے ھیں

دل کی دھڑکنیں میری، اک کنول کی صورت میں

مسکراتی رھتی ھیں ۔ ۔ ۔

آرزو کے تاج محل ، چاہتوں کی ندرت میں ،۔ ۔ ۔

ھمقدم ھی رھتے ھیں ۔ ۔ ۔

خوشبوؤں کی سوغاتیں، چین و سکھ کے دیپک بھی

حوصلوں کی صورت میں ۔ ۔ ۔

ساتھ ساتھ میر ے ھیں ۔ ۔ ۔

مسکراتی یہ کلیاں، شبنمی سی بارش میں

کچھ صدائیں دیتی ھیں ۔ ۔ ۔

چاند کی سجل کرنیں، چارسو یہ بکھر ے رنگ

کچھ پیام دیتے ھیں ۔ ۔ ۔ ۔

،، تم اگر جو آجاؤ، راستے چمک جائیں

No comments:

Post a Comment