Monday, December 6, 2010

پٹھان زندہ باد

پٹھان زندہ باد


یہ آج سے کئی سال پہلے کی بات ہے
ہم کچھ دوست پشاور میں تھے۔ ایک دن" علاقہ غیر" جانے کا پروگرام بنا
بارڈر سے ذرا پہلے ایک مشہور چپل کبا ب والا تھا
سب نے کہا یہاں چپل کباب کھاتے ہیں۔
چپل کباب کا آرڈر دے دیا گیا۔
ہمارے ساتھ ہی دوسری ٹیبل پر کچھ نوجوان پٹھان لڑکے بیٹھے تھے۔
انکی عمریں بمشکل 12 سے 14 سال ہوں گی۔
جب کباب آگئے تو
ہمارے ایک دوست نے اپنی عادت کے مطابق
کبا ب کی پلیٹ اٹھائی اور ساتھ ہی بیٹھے پٹھان لڑکوں کو
جھک کر پیش کی - اور بہت خلوص سے کہا
" یہ لو بیٹے - کباب لے لیں- اور ہمارے ساتھ مل کر کھائیں"
اب ہم سب نےبھی انہیں کھانے کی دعوت دی
لڑکوں نے بہت حیرت سے ہماری طرف دیکھا۔
اور کہا
نہیں کاکا ۔۔ ہم نے آرڈر دے دیا ہے۔ ہمارا کباب ابھی آ جا تا ہے۔
آپ کا شکریہ آپ کھائیں"
لیکن اب ان کی آنکھوں میں حیر ت کی جگہ پیار تھا۔
شاید انہیں ہمارا خلوص بھری پیشکش اچھی لگی۔
انہوں نے ہم پو چھا
آپ لو گ کدھر سے آئے ہیں۔
ہم نے بتایا کہ ہمارا تعلق پنجاب سے ہے۔
اور ادھر سیر کرنے گھومنے پھر نے آئے ہیں۔
اتنی دیر میں ان کے کباب بھی آگئے اور سب اپنے اپنے کھا نے میں
مصروف ہو گئے۔
ہم گپیں بھی لگاتے رہے اورکبا ب بھی کھاتے رہے۔
کبا ب واقعی بہت مزیدارتھے۔
ہم کبا ب کھا کر فارغ ہوئے تو قہوہ آگیا ۔
ہم نے قہوے کا آرڈر تو نہیں دیا تھا۔ تاہم سب نے کہاکہ اب آگیا ہے
تو پی لیتے ہیں۔
قہوہ پی کر ہم لوگ اٹھے اور پیسے دینے لگے تو
کبا ب والا بولا
" آپ کا پیسے ہو گیا ہے"
ہم حیران رہ گئے۔
" کیسے؟ ہمارا مطلب ہے کس نے دیے ہمارے پیسے؟"
بات تھی بھی حیرت کی ۔ ہمارا ادھر کوئی جاننے والا نہ تھا۔
اس سے پہلے کہ کباب والے خان بھائی بولتے۔
ہمارے ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھے لڑکوں میں سے ایک لڑکا اٹھ کر آیا
اور کہا کہ آپ کے کباب اور قہوے کے پیسے میں نے دے دیا ہے۔
"وہ کس لئے؟"
"وہ اس لئے کہ تم ہمارا مہمان ہے"
ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ لڑکے نہ مانے۔
پھر وہ لڑکے ہمارے ساتھ کا فی دیر رہے۔ ہمیں شاپنگ کروائی
اور بہت سستی کروائی- اور بہت مزے کی باتیں سنائیں
ان نوجوان لڑکو ں کی مہمان نوازی نے ہمارے دل پر انمٹ تقوش چھوڑے۔
ہمارے دل جیت لئے۔
پٹھان زندہ باد
پٹھانوں کی مہمان نوازی پائندہ باد

Thursday, December 2, 2010

میں شادی نہیں کر وں گا

میں شادی نہیں کر وں گا



اسکے شادی اسکی ماموں زاد اور پھوپھی زاد سے ہوئی۔
اسکی والدہ وہاں شادی کیلئے رضامند نہ تھیں حالانکہ وہ لڑکی اسکے سگے بھائی کی بیٹی تھی۔ مگر وہ اپنی بھابی سے اختلاف رکھتی تھی۔ یہ اختلاف بھی اسکی اپنی ضد کی سے وجہ تھا۔
تاہم سونو کی شادی اسی پھوپھی زاد اور ما موں زاد سے ہوئی۔
شادی کیا ہوئی ۔ سونو کیلئے ایک عجیب ٹینشن شروع ہوگئی۔
اسکی ماں جو ایک سرکاری سکول میں ہیڈمسٹریس تھیں ، نے اپنی بہو سے بات کرنا ، اسے گھر کے معاملات میں شریک کرنے سے انکا ر کر دیا۔
سونو کو پتہ تھا ۔ میری ماں کو میری بیوی کی ماں سے کچھ خاندانی چپقلش کی وجہ سے ضد ہے۔ سو اس وجہ سے وہ ایسا کر رہی ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ حالات بہتر ہو جائیں گے۔
لیکن سونو کی ماں اپنے ضد میں 'تریا ہٹ" پر پوری اتری۔
شادی کو بارہ سال گذر گئے مگر سونو کی ماں نے بہو کو بہو نہ سمجھا اور اس سے کبھی بات نہ کی۔ بلکہ اس نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو کہا کہ وہ اپنی بیوی کو طلا ق دے دے۔ وہ اسکی دوسری شادی کرے گی۔ سونو نے ہمیشہ انکار کیا۔
سونو نے ان بارہ سالوں میں اپنی بیوی کی ہر طرح سے دلجوئی کی۔ وہ اس سے
محبت کر تا تھا ۔ اسے ہر طرح سے خوش رکھنا چا ہتا تھا۔ مگر اسکی ماں اتنی
ضدی اور سخت گیر تھی کہ اس نے اپنا رویہ نہ بدلا۔
اس نے اپنی بھابی سے ضد کا بدلہ اپنی بہو سے نکالا۔
سونو کا باپ اسکی ماں کے آگے بے بس تھا۔وہ تھی ہی ایسی ضدی
سونو کی بیوی ذہنی مر یض بنتی گئی۔
اس دوران ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی مگر اسکی زندگی تھوڑی تھی ۔پیدائش کے چند ماہ ہی فوت ہو گئی۔
سونو بھی بارہ سال تک ذہنی اذیت کا سامنا کر تا رہا۔ اس کا کا روبار بھی متاثر
ہوا۔ بالاخر اسے کا روبار بند کر نا پڑا۔
کچھ عرصہ بے روزگا ر رہنے کے بعد اس نے ایک ٹیکسی خرید لی۔ اب وہ زیادہ وقت گھر سے باہر ہی رہتا۔
لیکن اس کا اثر اسکی بیوی پر بہت شدید پڑا ۔
اس نے اپنے ماں باپ سے مشورے کے بعد خو د ہی طلا ق کا مطالبہ کردیا۔
سونو جو اپنے ماں کے آگے نہ جھکا۔
بیوی کے مطالبے پر جھک گیا۔
اس نے بہتے آنسووں کے سا تھ بیوی کے ساتھ اپنی بارہ سالہ رفاقت کا خاتمہ کردیا-
اب اسکی ماں اسکی دوسری شادی کرنا چا ہتی ہے۔
اس نے ماں سے کہا
" میری اور میری معصوم بیوی کی زندگی کے بارہ سال تباہ کرکے ۔۔۔
آپ کو کیا ملا۔ جو اب آپ میری دوسری شا دی کرنا چاہتی ہیں ۔
مجھے میرے حال چھوڑ دیں - میں شادی نہیں کر وں گا"

کیا عورت کی ضد ایسی ہی ہوتی ہے کہ اپنے بیٹے کا گھر بھی اجاڑ دیتی ہے۔؟

Thursday, November 11, 2010

عیدقربان اور ہماری ذمہ داریاں

عیدقربان اور ہماری ذمہ داریاں

محترم ساتھیو
عید قربان میں اب چند ہی دن باقی ہیں
جگہ جگہ عید کے جانوروں کے میلے سجے ہیں، اور
لوگ جانوروں کے ریٹ پوچھ کر ہی دل بہلا رہے ہیں
سچ تو یہ ہے اب کی بار قربانی جانور کی نہیں اپنی جان کی لگ رہی ہے کہ قیمتیںآسمان کو چھو رہی ہیں۔
یہ فرض بھی ادا کرنا ہے اور ضرور ادا کرنا ہے
ممکن ہے کہ آپ میں سے کچھ ساتھیوں نے قربانی کا جانور خرید لیا ہو
یا پھر کسی سے حصہ داری کی با ت کر لی ہو
لیکن اکثریت ابھی سوچ میں ہوگی کہ
بکرا خریدیں یا حصہ ڈالیں؟
میں الحمدللہ ہر سال بکرے کی قربانی کرتا ہوں
ایک اپنی اور ایک والدین کی
لیکن اس دفعہ تو قیمتیں سن کر میں بھی سوچ رہا ہوں کہ
کسی بڑے جانور میں حصہ ڈالیں۔۔
ایک دوست سے بات ہوئی ۔ کہنے لگا اسلام آباد سے قریب ایک جگہ
فتح جنگ سے بکرے خرید کر لانے کا پروگرام ہے۔ اگر آپ بھی ساتھ چلیں تو
گپ شپ بھی ہو جائے گی اور مناسب ہوا تو خریداری بھی کر لیں گے۔
ہو سکتا ہے ایسا ہی کریں
تاہم آپ دوستوں سے بات کرنے کا مقصد کچھ اور تھا
وہ یہ کہ قربانی کی عید پر ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟

عموما دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے قربانی کے جانور کی نمائش کا اہتما م کرتے ہیں- جو میرے خیال میں انتہائی نا مناسب ہے۔ اس سے جہاں تکبر کا پہلو نکلتا ہے- وہیں یہ فعل دوسروں کی دل آزاری کا بھی سبب بنتا ہے۔

ہم نے قربانی اللہ کی رضا کے سر جھکانے کی علامت کے طور پراور حضرت
ابراہیم کی سنت سمجھ کر دینی ہے نہ کہ محلے میں ٹور بنا نے کیلئے۔

دوسری بات گوشت کی تقسیم کے حوالے سے ہے۔ ہم لوگ زیادہ سے زیا دہ گوشت اپنے فریزر میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ

ہم زیا دہ سے زیا دہ غریب افراد تک گوشت پہچائیں۔ جن کو واقعی اسکی ضرورت ہو۔
منا سب ہو گا کہ واقف کاروں ، رشتہ داروں میں انکو گوشت بھیجا جائے جنہوں نے قربانی نہ کی ہو۔

قربانی کرنے کی جگہ ایسی ہوجس سے بعد میں پورے محلے میں گندگی نہ پھیلے


اس سلسلے میں مزید آپ کی رائے اور مشورے کی ضرورت ہے

Tuesday, September 28, 2010

میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں




خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں
میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

اُوپر سے اُتر کے تازہ دم تھا
نیچے سے اُتر کے تھک گیا ہوں

اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو
اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں

میں یعنی ازل کا آرمیدہ
لمحوں میں بِکھر کے تھک گیا ہوں

اب جان کا میری جسم شَل ہے
میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں

جون ایلیاء

Monday, September 27, 2010

بکھرنے سے نہ روکے کوئی


بکھرنے سے نہ روکے کوئی

عکسِ خوشبو ہوں،بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بِکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اُٹھتی ہوں مَیں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب مرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اِس طرح سے نہ کبھی ٹُوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اُس دِن سے ہراساں ہوں کہ جب حُکم ملے
خشک پُھولوں کی کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آہٹ ،کوئی آواز ،کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں کوئی


پروین شاکر

شہر بھر میں سب سے اونچا

شہر بھر میں سب سے اونچا گھر بنانے کے لیے
بجلیاں چنتے رہے ہم آشیانے کے لیے

دست و پا شل ہوں تو ساحل دور کیا نزدیک کیا

ایک قطرہ ہی بہت ہے ڈوب جانے کے لیے

کوئی آنسو،کوئی شعلہ ،کوئی تارہ کوئی پھول

کوئی تو سوغات دے جاؤ زمانے کے لیے

کتنی شمعیں بجھ گئیں کتنے ستارے سو گئے

اک کرن کا جشن بیداری منانے کے لیے

میرا چہرہ دیکھنے والوں کو کیا معلوم ہے

کتنےآنسو پی گیا ہوں مسکرانے کے لیے

حیف ان پھولوں پہ جن کے رنگ ہو جاتے ہیں قتل

کچھ گھروں کی چند دیواریں سجانے کے لیے

Sunday, September 26, 2010

محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا

محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا



محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا
بہت آساں نہیں ہوتا جدائی مانگتے رہنا

ذرا سا عشق کر لینا،ذرا سی آنکھ بھر لینا

عوض اِس کے مگر ساری خدائی مانگتے رہنا

کبھی محروم ہونٹوں پر دعا کا حرف رکھ دینا

کبھی وحشت میں اس کی نا رسائی مانگتے رہنا

وفاؤں کے تسلسل سے محبت روٹھ جاتی ہے

کہانی میں ذرا سی بے وفائی مانگتے رہنا

عجب ہے وحشت ِ جاں بھی کہ عادت ہو گئی دل کی

سکوتِ شام ِ غم سے ہم نوائی مانگتے رہنا

کبھی بچے کا ننھے ہاتھ پر تتلی کے پر رکھنا

کبھی پھر اُس کے رنگوں سے رہائی مانگتے رہنا


نوشی گیلانی

کتاب: محبتیں جب شمار کرنا

Friday, August 6, 2010

یاد ہے

یاد ہے

اپنے ہاتھوں گلشن ِ ہستی جلانا یاد ہے
وقتِ شادی احمقانہ مُسکرانا یاد ہے

زندگی اک عیش تھی اور ہرطرف رنگِ بہار

ہم کو اپنی زندگی کا وہ زمانہ یاد ہے

دوپہر کی دھوپ میں کپڑے سُکھانے کے لئے

اب میرا کوٹھے پہ ننگے پاوں جانا یاد ہے

چھین لینا پرس میرا ہر یکم کو ، اور پھر

دل جلانے کے لئے شاپنگ دکھانا یاد ہے

دیکھنا دعوت میں ہمسائی کو وہ "بِٹ بِٹ " میرا

اُس پہ بیگم کی نگہہ کا تازیانہ یاد ہے

آ گیا بُھولے سے بھی گر عقدِ ثانی کا خیال

میرے سالوں کا مجھے "پھینٹی " لگانا یاد ہے

حضرتِ انجم کہیں بیگم بھی اِس کو پڑھ نہ لیں

ورنہ پچھلی نظم پر مُرغا بنانا یاد ہے ؟

محمد اجمل انجم

Thursday, August 5, 2010

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

آپ عنوان دیکھ کر چونکے ہوں گے
شاید کہ کسی میاں بیوی کے جوڑے کی بات ہوگی

لیکن میں تو ایک اور ہی جوڑے کی بات کررہا ہوں

جی ہاں ۔۔

آنسو اور مسکراہٹ دنیا کا بہترین جوڑا ہے
مگر آنسو کے ساتھ مسکراہٹ کا تصور کچھ عجیب سا ہے
بہت منفرد سا ہے

عام زندگی میں تو آنسو جب آتے ہیں تو مسکراہٹ کو غائب کردیتے ہیں

اورمسکراہٹ چھلکتے آنسووں کو روک دیتی ہے

لیکن آپ نے کبھی وہ منظر دیکھا ہے

جب آپ چھلکتے آنسووں کے ساتھ مسکراتے ہیں
وہ منظر ، وہ لمحہ دنیا کا خوبصورت ترین منظر ، یادگارترین لمحہ ہوتا ہے
آنسو اور مسکراہٹ کا بہترین امتزاج ، بہتر ین جوڑا

ایسے لمحے بہت کم ، بہت ہی شاذ ہو تے ہیں مگر بہت قیمتی ہو تے ہیں


کیا آپ ایسے کسی لمحے سے واقف ہیں۔۔۔؟

ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم


ہم میں سے ہر شخص اپنے ماں باپ، بہن بھائی ،اولاد، دوستوں وغیرہ سے محبت رکھتا ہے اور یہ ایک فطری بات ہے ۔ ہم جس سے بھی محبت کرتے ہیں اسکی تما م تر خامیوں سمیت اسے قبول کرتے ہیں ۔ اور جب کبھی ان کے خلاف کہیں بھی بات کی جائے تو بعض اوقات جھوٹ بول کر بھی حمائت کرتے ہیں۔

لیکن اگر ایک ہستی جو جن میں کوئی خامی ہی نہ ہو۔ اور جوہماری بخشش کی خاطر راتوں کو سجدوں میں روتی رہی ہو- تو کیا ایسی ہستی کی حرمت کیلئے ہماری جان بھی چلی جائے تو ایک اعزاز نہ ہوگا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لبوں پر آتے ہی پورے جسم میں ایک بے پایاں سرور سرائت کر نے لگتا ہے۔ محبت سے آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگتے ہیں۔

میں تو یہاں کوئی اپنے جذبا ت بیان کر نا چا ہتا ہوں۔

بہت بچپن کی بات ہے۔ مجھے رونا بہت کم آتا تھا۔ تو میں سوچتا تھا کہ ایسا میرے کیوں ہے۔ کئی ایسے مواقع آئے کہ میرا جی ڈھاریں مار مار کر رونے کو چا ہا مگر پتہ نہیں کیوں میں خواہش کے با وجو د رو نہ سکا۔
پھر ایسا ہو ا کہ کسی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پڑھی اور میری آنکھو ں سے آنسو رواں ہوگئے۔
تب مجھے پتہ چلا کہ یہ آنسو تومحبت رسول کے تھے۔ سو پہلے نہ بہے۔
ہمارے لیےنبی کریم کی ذات ہر دور میں ہادی و رہبرتھی، رہی ہے، اور رہے گی۔
میں نے تو جب کبھی پریشانی مصیبت میں اپنے پیا رے نبی کو یا د کیا ۔ اپنے پیارے محبوب کے حوالے اپنے اللہ سے مانگا ۔ مجھے مل گیا۔
جب بھی درود پڑھا۔ دل میں ایک سکون سا سما گیا۔
یہ نا م جب بھی لیا - ہر درد کی دوا بنا۔
پھر میرے لئے ، ہر مسلمان کیلئے اپنے پیارے پیغمبر کی عزت و حرمت سے بڑھ کر
کچھ نہیں ۔ کچھ نہیں۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جب غازی علم دین شہید میانوالی جیل میں تھا ۔ تو قائد اعظم
اس سے ملنے گئے اور کہا کہ میں تمھا را کیس لڑوں گا۔ ہاں تمھیں اپنے بیان میں تھوڑی سی ترمیم کرنی پڑے گی۔ اور وہ یہ کہ تم کہنا۔ کہ میں نے جب شاتم رسول کو قتل کیاا تھا تو جذبات کے غلبے میں تھا اور ہوش و حواس میں نہ تھا۔
اگر تم یہ کہ دو تومیں تمھیں شا ید پھانسی سے بچانے سے کا میاب ہو جاوں۔
قربان عاشق رسول پر کہ اس نے کہا
پھانسی ملتی ہے تو ملے۔ لیکن میں نے زندگی میں یہی ایک کام تو پورے ہوش وحواس سے کیا ہے۔ لہذا اپنے اقبالی پر قائم رہوں گا ۔ چائے پھائسی کی سزا ہی کیوں نہ ملے۔

دوستو محبت کبھی اپنے محبوب کی بے حرمتی برداشت نہیں کرتی

اور ہماری محبت اپنے پیارے رسول کیلئے سب محبتوں سے بڑھ کر ہے
ہم میں سے ہر محب رسول اپنی استطاعت کے مطابق ، شاتم رسول کے خلاف اپنا کردار ضرور ادا کرے۔
اس سلسلے میں اپنے جذبا ت کا اظہار بھر پور طریقے سے کرے۔ اور ہمیشہ اپنے سامنے حضرت بلال،حضرت اویس کی مثال رکھے
اللہ کی ذات ہم سب کو عشق رسول سے سرافراز فرمائے۔
آمین

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہء بطحا کی حرمت پر

خدا شا ہد ہے کامل میر ا ایماں ہو نہیں سکتا

ڈاکٹر نور

Friday, July 30, 2010

دشمن ہوں تو نظروں سے گرا کیوں نہیں دیتے

دشمن ہوں تو نظروں سے گرا کیوں نہیں دیتے
اپنا ہوں ، تو پھر دل میں جگہ کیوں نہیں دیتے

ہے بات محبت کی ، تو پھر سب سے محبت
ہم دل سے عداوت کو مٹا کیوں نہیں دیتے

ہرموڑ پہ لٹ جا تے ہیں ، کیوں قا فلے والے
راہبر ہی تو راہزن ہیں بتا کیوں نہیں دیتے

جب ظلم بڑھے حد سے تو پھر چپ ہے بڑا ظلم
تم لوگ کوئی حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

مظلوم ہیں ، لاچار ہیں، داہر کے ستائے
یہ پھر کسی بن قاسم کو صدا کیوں نہیں دیتے

معصوم ہے پھانسی پہ ، تو مظلوم کو کوڑے
منصف ہو تو مجرم کو سزا کیوں نہیں دیتے

مہنگا ئی ہے، نا یا بی ہے ہر روز کا مرنا
اک بار ہی پھانسی پہ چڑھا کیوں نہیں دیتے


اغیا ر کے وعدے ہوں ، وعیدیں ہوں کہ معاہدے
سب جھوٹ ہیں، دامن کو چھڑا کیوں نہیں دیتے

اب خواب نہیں ، اٹھو کوئی تعبیر تراشیں
"سوئے ہوئے انساں کو جگا کیوں نہیں دیتے"

ماہ رمضان کیلئے سامان کی خریداری۔ کیا ابھی سے؟


ماہ رمضان کیلئے سامان کی خریداری۔ کیا ابھی سے؟

دوستو، بہنو اور بھائیو
کل میری بیگم مجھے کہنے لگی
رمضان آنے والا ہے۔ بہتر ہو گا کچھ چیزیں ابھی سے خرید لی جا ئیں۔ کیونکہ بعد میں تو اتی مہنگا ئی ہو جائے گی کہ چیزوں کو ہاتھ لگا نا بھی مشکل ہوگا۔
میں بے بیگم کو " اچھا ٹھیک ہے" کہ کے ٹال دیا مگر سو چ میں پڑ گیا ۔۔۔

یہ ہم کیسے مسلمان ہیں۔؟
اس ماہ کی برکتیں چیزیں مہنگی کرکے حاصل کرنا چا ہتے ہیں؟

رمضان سے ایک ہفتہ پہلے بازاروں میں وہ رش ہو تا ہے کہ الا مان
لوگوں میں سامان اکٹھا کر نے کا گو یا مقا بلہ جاری ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر جہآں حیرت ہو تی ہے۔ وہیں افسوس بھی ہو تا ہے۔ کیونکہ تما م تر حکومتی دعووں کے با وجود ہر چیز کے نرخ ما ہ رمضان میں آسمان سے با تیں کرنے لگتے ہیں۔ اب لوگ اگر پہلے سے خریداری نہ کریں تو کیا کریں۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہر فرد ایسے ذرائع رکھتا ہے کہ ایک ماہ پہلے ہی ہزاروں کا سامان خرید سکے۔
یقینا نہیں۔
گویا سب سے زیا دہ مہنگا ئی کا بوجھ وہ طبقہ اٹھا ئے گا جو پہلے سے خریداری کرنا افورڈ نہیں کرتا۔۔

دنیا بھر میں مذہبی تہواروں پر چیزیں سستی کر دی جا تی ہیں مگر ہمارے ہا ں الٹ ہو تا ہے۔
کیوں؟
ہم کیسے مسلمان ہیں۔؟


میرے ایک دوست مجھے ایک واقعہ سنا رہے تھے۔

وہ ایک ٹریننگ کے سلسلے میں لندن گئے ۔ وہاں ایک سٹور سے انہوں نے ایک شرٹ خریدی جو بہت سستی تھی ۔
وہ جب واپس پاکستا ن آئے تو دوستوں نے شرٹ بہت پسند کی ۔ اور قیمت پوچھی تو سب حیران رہ گئے ۔ کہ یہ تو پا کستان سےبھی سستی ہے اور کوالٹی بہت عمدہ ہے۔
چنا نچہ کچھ عرصہ بعد ان کے ایک اور دوست لندن گئے تو اس نے خصوصی طور اس دکان کا پتہ سمجھا یا اور کہا کہ وہاں سے اسی طرح کی چند شرٹیں اور لیتے آنا۔

وہ دوست جب واپس آئے تو اس نے بتا یا کہ اب تو شرٹ انتہائی مہنگی تھیں۔ اور قیمت دگنے سے بھی زیا دہ تھی۔ میں نے آپ کا حوالہ دیا کہ چند ماہ بیشتر میرا ایک دوست یہاں سے یہی شرٹ آدھی قیمت سے بھی کم پر لے گیا ہے۔ تو دوکاندار جو کہ ایک یہودی تھا ۔ ماننے کو تیا ر نہ تھا کہ اتنی سستی شرٹ تو دو سال پہلے بھی نہ تھی۔ پھر اچانک کہنے لگا
" اچھا آپ کے دوست کس ما ہ کی کن تاریخوں میں لندن آئے تھے"
جب میں نے مہینہ اور تاریخ بتا ئی تو کہنے لگا
" با لکل صحیح ۔ ہم ان دنوں میں یہ شرٹ واقعی آدھی سے بھی کم قیمت پر بیچ رہے تھے کیونکہ ہمار ا مذہبی تہوار چل رہا تھا مگر اب قیمت کسی صورت کم نہیں ہو گی"

واہ واہ
غیر مسلم تو اپنے مذہبی تہواروں کو ایسے جذبے سے منا ئیں کہ ہراچھی کوالٹی کی چیز کی ہر امیر وغریب تک رسا ئی ہو
اور ہم ۔۔۔۔
بس آگے کچھ لکھنے ہو ئے ۔۔۔ شرم آتی ہے۔۔۔۔

Thursday, July 22, 2010

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون4

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون
یہ صورت حال کا فی خطرناک نظر آرہی تھی ۔
کیونکہ مس کا لوجسٹ سے بات کرنے کے بعد جب میں نے غور کیا تو
یہ بات واضح ہو ئی کہ میں ان معصوم شہریوں میں شا مل ہوں جو اس سائنس کا شکا ر ہو چکے ہیں
میں خود کئی ایسے پیشنٹس کو کال کرچکا ہوں جنہوں نے مس کا ل مارکر
دس دس منٹ بات کی ۔
کئی واقفت کا ر میرے خرچے پر آدھا آدھا گھنٹہ بات کرتے رہے۔ اور میں سمجھتا رہا
کہ وہ میری ہمدردی میں بات کررہے ہیں ۔ حالانکہ انہوں نے مس کالوجی کی سا ئنس استعمال کی تھی۔
میں اس صورت حال پر کا فی پریشان ہو ا تو ایک ماہر مس کا لیا ت سے رابطہ کیا
جنہوں نے کچھ نکتے سمجھا ئے
آپ بھی سنئے ، سر دھنئے ، اور عمل کیجیئے

- مس کال سے بچنے کیلئے اپنا موبا ئل ہا تھ میں رکھیں۔

انگلی یس بٹن پر ہو۔
- موبائل وائبریشن پر رکھیں ۔
جیسے ہی وائبر یشن ہو ۔ نمبر دیکھے بغیر یس کا بٹن پر یس کر دیں۔
منا سب ہو کہ موبا ئل پر لائٹ سسٹم لگوا لیں ۔
جیسے لائٹ جلے ۔ یس کا بٹن دبا دیں۔
امید ہےدوچار کا لیں بجایے مس کال کے مسٹر کا ل ہو نے سے دشمن کا دماغ اور بیلنس ٹھکا نےپر آ جا ئے گا۔

تو یہ تھا مس کا لوجی کا تعارف ۔

امید ہے آپ کو نئے سائنسی اور فنی مضمون سے دلچسپی پیدا ہو ئی گی ۔
آج ہی کسی ماہر مس کا لو جسٹ سے رابطہ کریں۔

زندگی رہی تو مزید تفصیلا ت پھر کبھی ۔

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون3

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی کے فن سے ناواقف جہاں اپنا بیلنس بھی ضائع کر بیٹھتے ہیں اور بات بھی نہیں ہو پاتی ۔ وہیں اس کے سائنس کے ماہرین اس سے بے تحا شا فوائد بھی حا صل کررہے ہیں ۔
ایک ماہر مس کا لوجسٹ نے بتا یا کہ مس کال مارنے کے اہم نکا ت درج ذیل ہیں

-
وقت
مس کال مارنے کا وقت موزوں ہو نا چا ہیے ۔ یعنی ایسا وقت جب مس کال " وصولی" کا امکان نہ ہو۔ ورنہ مس کال مسٹر کا ل ہو جا ئے گی ۔ یعنی لینے کے دینے پڑ جا ئیں گے۔
ماہر مس کا لوجسٹ کے بقول جس بندے یا بندی کو مس کال مارنی ہو اسکے معمولات سے واقفیت بہت ضروری ہے

مس کا ل کا دورانیہ
یہ بہت اہم ہے۔ مس کال مارتے وقت ایک انگلی ریڈ بٹن پر رکھنی چائیے ۔ جیسے ہی بیل بجے ٹھک سے کال کا ٹ دیجیئے ۔ ایک لمحے کی تا خیر گلے پڑ سکتی ہے۔
اس کے لئے پہلے ریا ضت بہت ضروری ہے۔
اپنے گھر کے افراد یا دوستوں کے ساتھ اسکی بار بار پریکٹس کر نے سے ہی کمال حا صل ہو گا۔

مس کا ل میں وقفہ کا استعمال
یہ ایک پر لطف سائنس ہے۔ جس سے آپ مس کا ل وصول کرنے والے کو جوابی کال کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
مس کا ل کبھی ایک ساتھ دوبار ہ نہیں مارنی چا ہیے ۔ اس طرح مسٹر کا ل ہونے کا احتمال بڑھ جا تا ہے
وقفے کا استعمال بھی ایک فن ہے
اس کے لیے ایک مس کا ل مارنے کے بعد لمبا وقفہ دینا چا یئے ۔
تاکہ اگر مخالف پارٹی آپ کے خلاف جا رحا نہ عزائم رکھتی ہو تو اسے انتظار کی مار دیں ۔ یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر مو بائل پاکٹ، پرس میں ڈال دے۔
پھر دوبارہ مس کا ل دیں ۔
یوں وقفوں وقفوںسے دی گئی مس کا لیں ۔ وصول کرنے والے کو زچ کر دیں گی اور اسکے پاس اس کے علا وہ چارہ نہ ہو گا کہ آپ کو کال کرے

جاری ہے

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون2

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون


مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے
یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔
بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ
مس کا لیں مارتے مارتے اپنا بیلنس زیر و کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان
ہو کر کہتے ہیں
" یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا
ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی پر"
اب ان سیدھے سادے ، مس کالوجی کے فن سے ناواقف لوگوں کو کون سمجھائے کہ
وہ تما م مس کا لیں جو انہوں نے مفت با ت کرنے کے چکر میں ماری تھیں وہ
" وصول" ہو چکی ہیں ۔ اب بیلنس زیر و تو ہو نا ہی ہے

ہماری نوجوان نسل کے قربان ۔ مس کا لوجی کے فن میں اس قدر طاق اور
اس سائنس کی باریکیوں سے اس قدر واقف ہیں کہ دس روپے سو دفعہ بات کرلیتے
ہیں اور مجا ل ہے جو ایک پیسہ بھی ضا ئع ہو
اور مس کالوں کی مخصوص تھیوری پر انکی تحقیق تو کمال کی ہے
ایک نوجوان نسل کے نمائند ہ مس کا لو جسٹ سے پچھلے دنوں بات ہوئی
وہ وہ نکتے بتا ئے کہ الامان
مثلا ۔ اگر لڑکی کو ایک مس کال ماری جا ئے تو اس کا مطلب یہ ہو گا
اور اگر دو کالیں ماری جا ئیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا
اسی طرح جو ابی کالوں کی تھیوری بھی بہت پر لطف تھی
۔۔۔
کہنے لگا " دیکھیں جی۔ ہم تو سدا سے جیب خرچ پر چلنے والے لو گ ہیں ۔
تو مس کا لوجی میں کمال حا صل کر کے ہم نے اس سا ئنس کو اپنی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔"
جاری ہے

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون1

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون

محترم قارئین

آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا

یہ مس کا لوجی کیا ہے؟
یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں

یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے

مس کال Miss Call اور لوجی
یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے

جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے

اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے

سب سے پہلے کس نے مس کال ماری- اس کے بارے میں کوئی مصدقہ حوالہ

موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہی ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو ماری ہوگی۔
راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟
جاری ہے

Monday, May 31, 2010

تم چپ رہنا

کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں
تم کہ دینا
اک سپنا ہے
جو میں نے اکثر دیکھا ہے
گولگتا ہے کچھ غیروں سا
پر میرے لئے تو اپنا ہے

کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں

تم کہ دینا
یہ ڈھرکن ہے
جو میرے دل جو میرے دل میں بستی ہے
جومیری دل پر حاوی ہے


کوئی تم سے پو چھے کون ہوں میں

تم کہ دینا
یہ میرے روپ کا زیورہے
یہ کنگن ہے
جو میرے ہاتھ میں سجتا ہے
یہ موتی ہے
جو میرے ماتھے ٹیکا ہے

تم کہ دینا

یہ سب کچھ ہے
تم کہ دینا
تم کہ دینا
پر کیسے کہو گی
یہ سب کچھ
میں جانتا ہوں

تم کچھ بھی بول نہ پاو گی

تم کچھ بھی کہ نہ پاو گی

میں جانتاہوں

تم چب چب رہنے والی نے
کیا کہنا ہے
کیا بولناہے

پریاد رکھو


خاموشی بھی تو بولتی ہے

تم ہونٹوں کو تو سی لوگی
پر آنکھیں کب چپ رہتی ہیں
ان دیکھے سپنے دیکھتی ہیں
انجانی باتیں کہتی ہیں


کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں

تم چپ رہنا
بس چپ رہنا

Sunday, May 30, 2010

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
مرا لفظ لٍفظ ہو آئینہ تجھے آئینے میں اتار لوں

میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا
ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر ترے ساتھ شام گزار لوں

اگر آسماں کی نمائشوں میں مجھے بھی اذن قیام ہو

تومیں موتیوں کی دکان سے تری بالیاں ترے ہار لوں

کہیں اور بانٹ دے شہرتیں کہیں اور بخش دے عزتیں

مرے پاس ھے مرا آئینہ میں کبھی نہ گردو غبار لوں

کئی اجنبی تری راہ میں مرے پاس سے یوں گزر گئے

جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی ترا نام لے کے پکار لوں

Tuesday, May 25, 2010

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں
اِک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں
کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
پرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں
ہم کو ستم عزیز، ستم گر کو ہم عزیز
نا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں
بوسہ نہیں، نہ دیجیے دشنام ہی سہی
آخر زباں تو رکھتے ہو تم، گر دہاں نہیں
ہر چند جاں گدازئِ قہروعتاب ہے
ہر چند پشت گرمئِ تاب و تواں نہیں
جاں مطربِ ترانہ ھَل مِن مَزِید ہے
لب پر دہ سنجِ زمزمۂِ الاَماں نہیں
خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم
دل میں چُھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں
ہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
ہے عارِدل نفس اگر آذر فشاں نہیں
نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں
کہتے ہو “ کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں“
گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
رُوح القُدُس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں
جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی
غالب کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں‌نہیں

نور کی سچائی

نور کی سچائی

جو نور کی سچائی کو لکھتے ہیں زمیں پر

اس طرح کے مہتاب بھی اترے ہیں کہیں پر



احساس ہیں یہ تیری رفاقت کے کرشمے


بانہوں میں تری لگتا تھا ہیں عرشِ بریں پر



آنچل میں ٹکے تیرے تبسم کے ستارے


جھومر کی طرح خواب نگاہوں کی جبیں پر



وہ رُخ کو مرے دیکھتا جاتا تھا مسلسل


اور تتلیاں دھڑکن کی اُڑیں دل کی زمیں پر



ہاں صدقِ محبت سے ملا کرتی ہے منزل


تم پختہ عقیدہ تو رکھو اپنے یقیں پر



اخلاص کے مخمل میں ہیں پیوند وفائیں


قیمت یہی لکھی ہے مرے دل کی نگیں پر



سہمی ہوئی خواہش پہ ابھی جس کا اثر ہے


وہ چوٹ ہے صدمات کی اس جانِ حزیں پر

Friday, May 21, 2010

مذاق ہی مذاق میں

مذاق ہی مذاق میں

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں

بنے پھر اُن کے ہمسفر مذاق ہی مذاق میں
پڑے رہے پھرا ن کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہوگئی بسر مذاق ہی مذاق میں
ہوا ہے جدے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آگئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں
لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ
اُبل پڑے کئی گڑ مذاق ہی مذاق میں
اٹھو کہ اَب نمازِ فجر کے لئے وضو کریں
کہ رات تو گئی گزر مذاق ہی مذاق میں
یہاں عنایت آپ کو مشاعروں کی داد نے
چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں


عنایت علی خاں

مرے ھمدم ، مرے دوست

مرے ھمدم ، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقین ھو کہ ِترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی ، ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرفِ تسلّی وہ دوا ھو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ھوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ھو جائے

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
روز و شب ، شام و سحر
میں تجھے بہلاتا رھوں
میں تجھے گیت سناتا رھوں
ھلکے ، شیریں
آبشاروں کے
بہاروں کے ،
چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے ،
مہتاب کے ،
سیّاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن و محبت کی
حکایات کہوں

کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
گرم ھاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ھیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ھوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ھیں
کس طرح عارضِ محبوب کا شفّاف بلور
یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ھے
کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ھے خود شاخِ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ھے

یونہی گاتا رھوں ، گاتا رھوں تیری خاطر
گیت ُبنتا رھوں، بیٹھا رھوں تیری خاطر
پر مرے گیت ترے دکھ کا ُمداوا ھی نہیں
نغمہ جرّاح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں ، مرھم ِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں،
نشتر کے سوا
اور یہ سفّاک مسیحا
مرے قضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ھاں مگر تیرے سوا ،
تیرے سوا ،
تیرے سوا

فیض احمد فیض

Thursday, May 20, 2010

کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے

کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے

کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے
جو یوں کیا ھے تو پھر کیوں گلہ کرو اس سے

نصیب پھر کوئی تقریبِ قرب ہو کہ نہ ہو
جو دل میں ہوں وہی باتیں کہا کرو اس سے

یہ اہل بزم تنک حوصلہ سہی پھر بھی
ذرا فسانہ دل ابتدا کرو اس سے

یہ کیا کہ تم ہی غم ہجر کے فسانے کہو
کبھی تو اس کے بہانے سنا کرو اس سے

فراز ترکِ تعلق تو خیر کیا ہو گا !
یہی بہت ھے کہ کم کم ملا کرو اس سے

Tuesday, April 20, 2010

چوہا اور انسان

چوہا اور انسان

(ریحان احمد یوسفی)

جنیاتی طور پر چوہا ایک ایسا جانور ہے جو انسانوں سے بہت قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان جب انسانی بیماریوں پر تحقیق کرتے ہیں تو بالعموم چوہوں کو تختۂ مشق بناتے ہیں۔ ان میں بیماریوں کے جراثیم داخل کئے جاتے ہیں اور پھر مختلف تجرباتی دوائیں اور ویکسین دے کر ان کے نتائج دیکھے جاتے ہیں ۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہتے ہیں تو پھر انسانوں کو یہ دوائیں دی جاتی ہیں، تاکہ حتمی نتائج کی جانچ کی جاسکے ۔

شاید یہ اسی جنیاتی مماثلت کا نتیجہ ہے کہ چوہے گھروں میں گھس کر انسانی غذائیں مثلاً روٹی وغیرہ شوق سے کھاتے ہیں اور دیگر کارآمد اشیا بھی کتر جاتے ہیں۔ اس لیے انسان انہیں سخت ناپسند کرتے ہیں اور ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔

آج کل چوہوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک نئی قسم کا ٹریپ استعمال ہورہا ہے۔ اس میں سے انسانی غذا مثلاً روٹی، چاول وغیرہ کی انتہائی تیز خوشبو اٹھ رہی ہوتی ہے۔ اس کی ایک سائیڈ خالی ہوتی ہے اور دوسری سائیڈ پر ایک انتہائی طاقت ور گلو (ایک اچھی قسم کا گوند) لگا ہوتا ہے۔ رات کے وقت اسے چوہوں کی آمدورفت کے راستے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اندھیرا ہوتے ہی چوہے خوشبو کے پیچھے دوڑتے ہوئے آتے ہیں اور اس پر چڑھ جاتے ہیں، مگر پھر انہیں اس سے کبھی اترنا نصیب نہیں ہوتا، کیونکہ انتہائی طاقت ور گلو ان کے پاؤں جکڑ لیتا ہے۔

عام چوہے دان ایک چوہے کو پکڑ کر غیر مؤثر ہوجاتا ہے، مگر یہ ٹریپ انسانی خوراک کی خوشبو کے پیچھے آنے والے مزید چوہوں کا شکار کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ٹریپ کی جگہ ختم ہوجائے یا چوہے ختم ہوجائیں یارات ختم ہوجائے ۔ پھر صبح اس قید خانے کو چیختے چلاتے قیدیوں کے ساتھ اٹھاکر کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ جہاں وہ جان سے چلے جاتے ہیں، مگر اپنی جگہ سے ہل نہیں پاتے ۔

یہ عجیب سانحہ ہے یا شاید یہ بھی جنیاتی مماثلت کا اثر ہے کہ اتنی ہوشیاری سے چوہوں کا شکار کرنے والا انسان خود بھی اکثر ایک "چوہا " ثابت ہوتا ہے۔جنس اور پیٹ کے تقاضے، اولاد کی محبت، مال کی حرص، شہرت کا نشہ، اقتدار کی ہوس، معاشرے میں بلند اسٹیٹس کی تمنا، وسیع بینک بیلنس ، بڑی بڑی جائدادیں، ترقی کرتے ہوئے کاروبار، چلتے ہوئے کارخانے، نئے ماڈل کی چمکتی دمکتی گاڑیاں، عالیشان گھر ، فارن ٹرپس اور نہ جانے کیا کچھ، یہ سب آدمی کے لیے اکثر اوقات چوہے دان ثابت ہوتے ہیں، جنھیں اس کا شکاری ، ابلیس، اس کی راہ میں رکھ دیتا ہے۔ ان کی کشش میں انسان پیغمبروں سے انگلی چھڑاکر دیوانہ وار ان کی طرف بھاگتا ہے ۔ قرآن پیچھے سے آوازیں دیتا رہ جاتا ہے کہ "یہ تو دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ٹھکانہ ہے" مگر کون پلٹ کر دیکھتا ہے۔

انسان خواہشات کی ایک فہرست بناتا ہے اور ان کے پیچھے دوڑ لگادیتا ہے ۔یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کو پالیتا ہے، مگر عین اسی لمحے حالات کا "گلو" اسے جکڑلیتا ہے۔ خواہشات کی محدود فہرست ایک لامحدود چکر میں بدل جاتی ہے ۔ وہ لاکھ سر پٹخ لے، اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے کہ وہ اس چکر سے نکل جائے۔ اس کے بعد صرف موت اس کا مقدر ہوتی ہے، پھر جو بچتا ہے، وہ درحقیقت صرف ایک چلتی پھرتی زندہ لاش ہوتی ہے، جس سے اٹھنے والے تعفن کو ہم جیسے لوگ شاید محسوس نہ کرسکیں ، مگر خدا کے فرشتے وہاں سے ناک بند کرکے گزرتے ہیں، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ نیکی کے فرشتے تو وہاں سے گزرتے ہی نہیں، ہاں صرف وہ فرشتے گزرتے ہیں جن کا کام ایسے "چوہوں" کو وقت آنے پر اٹھا کر جہنم کے کوڑے دان میں پھینکنا ہوتا ہے۔

انسانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک کے بعد ایک اس ’’ٹریپ‘‘ میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پہلا ’’چوہا‘‘ بھی وہاں مزے کررہا ہے۔ اس کے دیکھا دیکھی وہ بھی اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اس دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ بالآخر سب کا ایک ہی انجام ہوتا ہے۔ البتہ جو لوگ خواہشات کے اس جال سے بچ کر نکل جائیں، ان کا استقبال عالم کا پروردگار خود یوں کرے گا:

’’اے نفس مطمئنہ، لوٹ چل اپنے رب کی طرف اس طرح کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ پھر داخل ہوجا میرے بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں ‘‘۔

چوہوں کو پکڑنے والو! اپنے چوہے دان کو پہچانو۔ تمہارے شکاری ابلیس نے اس دور میں نت نئے چوہے دان بنالیے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہوکسی روز تم بھی کسی جال میں جکڑے جاؤ اور تمہیں خبر تک نہ ہو۔


Monday, March 1, 2010

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

آپ عنوان دیکھ کر چونکے ہوں گے
شاید کہ کسی میاں بیوی کے جوڑے کی بات ہوگی

لیکن میں تو ایک اور ہی جوڑے کی بات کررہا ہوں

جی ہاں ۔۔
آنسو اور مسکراہٹ دنیا کا بہترین جوڑا ہے
مگر آنسو کے ساتھ مسکراہٹ کا تصور کچھ عجیب سا ہے
بہت منفرد سا ہے

عام زندگی میں تو آنسو جب آتے ہیں تو مسکراہٹ کو غائب کردیتے ہیں
اورمسکراہٹ چھلکتے آنسووں کو روک دیتی ہے

لیکن آپ نے کبھی وہ منظر دیکھا ہے
جب آپ چھلکتے آنسووں کے ساتھ مسکراتے ہیں
وہ منظر ، وہ لمحہ دنیا کا خوبصورت ترین منظر ، یادگارترین لمحہ ہوتا ہے
آنسو اور مسکراہٹ کا بہترین امتزاج ، بہتر ین جوڑا

ایسے لمحے بہت کم ، بہت ہی شاذ ہو تے ہیں مگر بہت قیمتی ہو تے ہیں

کیا آپ ایسے کسی لمحے سے واقف ہیں۔۔۔؟

Thursday, February 25, 2010

محبت سب کیلئے

محبت سب کیلئے

جی ہاں محبت سب کیلئے۔

نفرت کو دلوں نکال سےکر محبت کو دل میں سجا لیجئے۔ آپ کے دل میں موجود نفرت کا ایک ذرہ بھی آپ کے دل کو میلا کر دیتا ہے۔ شاید ایسے آپ کو یہ بات سمجھ نہ آئے۔ تو ایک خوبصورت مثال سے اس بات کو واضح کرتے ہیں

ایک ٹیچر اپنی کلاس کے معصوم بچوں کو محبت اور نفرت کا فرق سمجھا نا چاہ رہی تھی ۔ اس نے بچوں کو ایک کھیل کے ذریعے یہ سبق سکھا نے کا فیصلہ کیا ۔ اور بہت سوچنے کے بعد اس نے بچوں کو کہا
" بچو ہم ایک کھیل کھیلنے جا رہے ہیں ۔ جس کے آخر میں آپ کو ایک بہت شاندار سبق بھی حا صل ہو گا۔ کیا آپ سب یہ کھیل کھیلنے کیلئے تیار ہیں"
بچوں نے یک زبان ہو کر کہا" جی ۔ بالکل"
" تو بچو۔ آپ کو کرنا یہ ہے کہ کل جب آپ سکول آئیں تو اپنے ساتھ ایک شاپنگ بیگ میں اتنے ٹماٹر ڈال کرلائیں جتنے لوگوں سے آپ نفرت کرتے ہیں"
ٹیچر نے کہا
سب بچوں نے بڑے جوش و خروش سے ٹیچر سے وعدہ کیا کہ کل وہ ایسا ہی کریں گے۔
چنانچہ دوسرے دن ہر بچے کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا۔ کسی میں ایک ٹماٹر ، کسی میں دو اور کسی میں پانچ ٹماٹرتھے۔ غرضیکہ ٹماٹڑوں کی تعداد ان لوگوں کی تعداد ظاہر کررہی تھی جتنے لوگوں سے وہ نفرت کرتے تھے۔
اب ٹیچر نے سب بچوں سے کہا۔" بچو۔ آپ سب لوگ اپنے اپنے شاپنگ بیگز کو
بند کرلیں اور ان کو ہر وقت اپنے پاس رکھنا ہے۔ چاہے آپ کلاس میں ہوں ، گھر میں ہوں، سورہے ہوں، کھانا کھا رہے ہوں۔ بس یہ شاپنگ بیگ آپ کے پاس رہے۔ اور ہاں یہ کھیل ایک ہفتہ کیلئے ہے۔ ایک ہفتے کے بعد اس کھیل کا اختتام ہوگا"
سب بچوں نے کہا" جی ۔ ہم سمجھ گئے۔ یہ تو بڑا آسان سا کھیل ہے"
لیکن یہ آسان کھیل بچوں کیلئے بہت مشکل ثابت ہوا۔ دوسرے ہی دن ٹماٹروں سے بد بو آنا شروع ہوگئ۔ مزید یہ کہ جن کے پاس زیادہ ٹماٹر تھے یعنی جو بچے زیادہ لوگوں سے نفرت کرتے تھے۔ ان کیلئے دہری مصیبت تھی۔ بدبو کے ساتھ وزن بھی اٹھانا، ہر وقت اپنے پاس رکھنا، ایک عذاب بن گیا ۔
جلد ہی بچے تنگ آگئے۔ لیکن کھیل تو ایک ہفتے کا تھا۔
تیسرے چوتھے دن ہی بچوں کی ہمت جواب دینے لگی۔ بد بو سے سب کا برا حال تھا۔ انہوں نے ٹیچر سے کہا" میڈم یہ کھیل جلدی ختم کریں ورنہ ہم بیمار ہو جائیں گے"
ٹیچر نے جو بچوں کی پریشانی دیکھی تو کہا" ٹھیک کھیل آج ہی ختم کردیتے ہیں- آپ لوگ جلدی اپنے اپنے شاپنگ بیگ متعلقہ جگہ پر ڈال کر ، ہاتھ دھو کر آئیں - پھر اس کھیل کے بارے میں بات کرتے ہیں"
بچے تو خوشی سے اچھل پڑے اور فورا باہر بھاگے۔ تھوڑی دیر جب سب بچے واپس کلاس میں آئے تو انکے چہروں پر تازگی کے ساتھ تجسس کے تاثرات موجود تھے اور وہ منتظر تھے کہ اس کھیل کا مقصد اور نتیجہ جان سکیں۔
ٹیچر نے سب بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
" بچو۔ آپ نے دیکھا کہ آپ جتنے لوگوں سے نفرت کرتے تھے ۔ انکی علامت کے طور پر ٹماٹر ساتھ رکھنا کتنا مشکل اور تکلیف دہ کام تھا۔
ہم جب کسی سے نفرت کرتے ہیں تو اس کا احساس ہمارے دل میں رہتا ہے۔
یہ احساس، یہ سوچ دماغ میں رہتی ہے۔ اور
یہ سوچ، یہ احساس ان ٹماٹروں کی طرح جب کئی دنوں تک پڑی رہتی ہے تو
بدبو پیدا کردیتی ہے، تعفن پھیلا دیتی ہے۔ ذرا سوچئے ہم کتنے مہینوں، سالوں سے یہ بدبو بھرا تعفن زدہ احساس اپنے دل میں رکھے ہوئے ہیں ۔ کیا ہمارا دل اس سے تنگ نہیں ہوتا؟
اس گندگی سے ہمارا دل اور دماغ میلے نہیں ہو جاتے ۔؟
اگر ہم اس بدبو اور گندگی کی جگہ محبت جیسا خوشبو انگیز احساس دل میں رکھیں تو ہمارا دل خوش نہیں ہوگا۔"
بچوں کو اب احسا س ہو رہا تھا۔ کہ میڈم کتنی بڑی سچائی بیان کررہی ہیں۔

تو بھائیو- بہنو
کیا ہم نفرت نہیں چھوڑ سکتے ۔
کیاہم اپنےدل و دماغ صاف نہیں رکھ سکتے ؟

صرف ایک احساس ، ایک جذبہ
محبت سب کیلئے
((ماخوذ

ماں تو بس ماں ہی ہو تی ہے

ماں تو بس ماں ہی ہو تی ہے

آج ایک ایک بہت ہی خوبصورت تحریر کا یہ ٹکڑا نظر سے گذرا۔
آپ سے شئیر کر رہا ہوں

"دسمبر کی ایک سہ پہر میں سکول سے نکلا تو آسمان پر کالے بادل چھا ئے ہوئے تھے ۔میں نے سوچا بارش آنے سے پہلے گھر پہنچ جا وءں گا ۔ابھی آدھا بھی فاصلہ طے نہیں ہوا تھا کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ کانپتا ہوا گھر پہنچا تو بھائی نے کہا۔موصوف نظر نہیں آرہا تھا کہ بارش ہو رہی ہے۔
بہن نے کہا۔ تھوڑی دیر رک جا تے ۔ بارش تھم جا تی ۔ تب نکل آتے۔
ابا جی نے کہا۔ بیٹا بہت شوق ہے بارش میں بھیگنے کا۔ ٹھنڈ لگے گی تو لگ پتہ جائے گا۔
اتنے میں ماں جی آئی ۔ میرے سر پر تولیہ رکھ کر بولی
کم بخت بارش تھوڑی دیر رک نہیں سکتی تھی کہ میرا لال گھر پہنچ جاتا تو پھر آجا تی ۔
اور
اور پانی میرے گالوں پر سے ہوتا ہوا نیچے گرنے لگا
مگر وہ بارش کا پا نی نہیں تھا۔
"

Monday, February 22, 2010

اے ماہ ربیع الاول۔۔۔۔۔۔

اے ماہ ربیع الاول۔۔۔۔۔۔

اے ماہ ربیع الاول
تیری قسمت کے قربان
تیرے بارہویں روز کو آیا
نبیوں کا سلطان
وہ سلطان کہ جس نے توڑے جہل کے سارے مان
امن ، محبت ، بھائی چارہ
جس نے کیا ہے عام

ہم اس پاک نبی کی امت
کہلاتے شرمائیں
جب آنکھوں کے سامنے آئیں
روتی بہنیں مائیں

ہر سو پھیلی لاشیں،
خون کی لالی،
پھٹتے بموں کے شور سے
اڑتے دھویں کے بادل
چیختے بچے،
گم سم چہرے
بجتےسائرن
اور
وہی بے ربط سے، معنوں سے خالی جملے

ہم اس پاک نبی کی امت
کہلاتے شرمائیں
جس نے اپنے دشمن سے بھی
پیار کا سبق پڑھایا۔

اے ماہ ربیع الاول
تیری قسمت کے قربان
تیرے بارہویں روز کو آیا
نبیوں کا سلطان

؎
جس سلطان کا یہ فرمان ہے
ایک انسان کا قتل ہے گویا انسانیت کا خون
اس سلطان کی امت
پھر سے راہیں بھول گئی
اسکی باتیں بھول گئی
اے ماہ ربیع الاول
ہم کو پھرسے
پیار ے نبی کی پیاری باتیں
یاد دلادے
ہم کو پیار سکھادے

M. Noor Asi

Sunday, February 21, 2010

آپ کے سوال اور میرے جواب-2

آپ کے سوال اور میرے جواب-2

عاشق حسین نے معشوق آبا د سے خامہ فر سائی کی ہے
ڈاکٹر صاحب ۔ او کہندی اے سیا ں میں تیری آں۔۔


جواب۔
جناب بھولے بھالے عاشق صاحب۔زیا دا خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ صر ف آپ کو ہی نہیں دس اور بندوں کو بھی یہی کہ چکی ہے۔

اوکاڑہ سے اللہ دتہ تحریر کرتے ہیں

ڈاکٹر صاحب میرا مسئلہ سب سے انوکھا ہے۔ میں جب بھی آنکھیں بند کر تا ہوں مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔ کھانا کھانے کے بھوک بالکل نہیں۔ اور تو اور صبح جب گیارہ بجے سو کر اٹھتا ہوں تو لاکھ کوشش کے با وجو د نیند نہیں آتی۔
آپ کیا فرما تے ہیں اس مسئلے کے بیچ؟

جواب۔
آپ ایسا کریں اپنے قریبی پنسار سٹور معجون زہرقندمنگوا لیں۔ ایک ما شہ رات سونے کے آدھا گھنٹہ بعد ایک صبیح گیارہ بجے اٹھنے سے 20 پہلے چھ ما ہ تک کھا ئیں۔
بیگم کی چھاڑ حسب معمول روزا نہ لینی ہے۔ نا غہ ہونے کی صورت میں مجھ سے گلہ نہ کرنا۔

Thursday, February 18, 2010

مزاحیہ سوال و جواب

مزاحیہ سوال و جواب

آپ کے سوال اور میرے جواب



السلام علیکم
خوانین و حضرات
آج سے ہم آپ کے سوالات کے جوابا ت پر مبنی یہ نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔
امید سب لوگ بھر پور طریقے سے شرکت کریں گے

آج ہم ان سوالوں کے جواب دیں گے جو ہمیں بذریعہ الہام موصو ل ہوئے ہیں۔
شکریہ

ساجدہ بی بی راولپنڈی سے پوچھتی ہیں
ڈاکٹر صاحب۔ میر ا ایک بیٹا بہت عجیب سی حر کتیں کر تا ہے۔ ہر وقت گھر افرا تفری پھیلائے رکھتا ہے۔ جھوٹ بھی بولتا ہے۔ اپنے بہن بھا ئیوں سے لڑتا رہتا ہے۔ پیسے چوری کر لیتا ہے پھر ما نتا بھی نہیں۔
کو ئی بات پوچھی جا ئے تو چا ر گھنٹے تک تقریر شروع کر دیتا ہے۔ اور وہ بھی ایسی جسکا سر نہ پیر- بہت ڈاکڑوں کو دکھا یا ۔ حکیموں کے پا س گئی ۔ پیر وں فقیروں کے آستانے چھان مارے مگر اسکی حر کتیں وہی کی ہی ہیں
کیا کروں۔۔۔ یہ بڑا ہو کر کیا کر ے گا۔؟

جواب
ًمحترمہ ساجدہ صا حبہ ۔ پریشان ہونے کی قطعا ضرورت نہیں ۔۔ آپ کے بیٹے کی حرکتیں واضح اشارہ کر رہی ہیں کہ آپ کا بیٹا بڑا ہو کر ہما رے ملک کا نا مور سیا ست دان بنے گا۔



شیخ مختار نے لاہور سے سوال بھیجا ہے

سوال: ڈاکٹر صاحب ۔ میں ایک محلے میں کریا نہ کی دکا ن چلاتا ہوں۔ ایک خاتوں اکثر مجھ سے سودا لینے آتی ہے۔
جب میں سودا دینے لگتا ہوں تو وہ ہلکے سے میر ا ہا تھ دبا تی ہے ۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب" جناب شیخ صاحب ۔۔ آپ بھی بھولے ہو۔ سا منے کی با ت ہے ۔ وہ خاتون آپ سے سودا مفت لینا چا ہتی ہیں۔

پشاور سے شیربہادر خان نے سوال پوچھا ہے

جناب امارے سا تھ عجیب نفسیا تی مسئلہ ہو گئی ہے۔ ام سارا دن ٹھکا ٹھک بو لتی ہے۔ امارا زبان ایک دم تیر کا مافک چلتی ہے- مگر عجیب ام جب گھر جا تا ہے تو اپنی بیگم کے سا منے اما را زبا ن رک جا تا ہے۔ ام بولنا چا ہتا ہے مگر نہیں بول سکتا۔

جواب۔
جناب شیربہادر خان صاحب۔ یہ صر ف آپ کا مسئلہ نہیں پوری مرد برادری اسی مسئلے سے دوچار ہے۔ میں اپنی بیگم سے پوچھ کر آپ کو اس مسئلے کا حل بتا ئوں گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں اپنی بیگم سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کر سکا تو۔۔۔

Wednesday, February 10, 2010

ویلنٹائن ڈے:: یوم محبت یا دعوت تباہی

::ویلنٹائن ڈے:: یوم محبت یا دعوت تباہی ؟

14فروری آنے کو ہے۔دنیا بھر میں یہ دن ”یوم محبت “ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ قوم، نسل اور مذہب کی قید سے بالا تر ہو کر انسانوں کی ایک بڑی تعدا د بشمول مسلمان اس کا اہتمام کرتی ہے۔ ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اس ”یوم محبت“ کی تاریخی حقیقت سے سوائے چند ایک کے کوئی واقف نہیں۔

ویلنٹائن کی حقیقت کیا ہے؟

یہ رسم کئی صدیاں پرانی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس دن کی حقیقت کے بارے میں ایک سے زائد آراء ہیں۔ ”ویلنٹائن“ نامی کسی شخص کی طرف منسوب تقریبا نصف درجن کہانیاں ایسی ہیں جن کو اس ”یوم محبت“ کا یوم آغاز تصور کیا جاتا ہے ۔ ان تمام روایات کو یہاں ذکرکرنا ، پھر تاریخی تحقیق کے ذریعے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا، تاریخی شواہد کی روشنی میں کسی ایک کو اس ”یوم محبت “ کا نقطہ آغاز قرار دینا ہمارا مقصود نہیں ۔ ان بے شمار قصوں میں سے چند ایک کا ذکرکافی ہو گا جن کو پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ یہ واقعہ کس حد تک حقیقی ہے، اس کو بنیاد بنا کر ایک پورا دن اس کردار کے لئے خاص کرنا کس کہاں تک عقلمندی ہے ۔

ایک قصہ اس طرح ہے کہ رومی بت پرست تھے ۔ ان رومیوں کے ایک پوپ نے ،جس کا نام ”ویلنٹائن “ تھا ،نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔ لیکن بعد میں جب رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کے یوم وفات کو ”یوم محبت “ کے طور پر منایا۔ اس طرح ویلنٹائن ڈے کا آغاز ہوا۔ اس روایت کا مبنی بر حقیقت ہونا تقریبا محال لگتا ہے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ رومی فوج کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا، لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے کتراتے تھے۔ بادشاہ نے جب محسوس کیا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو اس نے شادیوں پر پابندی لگا دی۔ ایک رائے یہ ہے کہ بادشاہ کا خیال تھا کہ بہادر اور جرات مند فوجی کا غیر شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ ایسے نوجوان دیگر افکار سے آزاد ہوتے ہیں ۔ الغرض فلسفہ جو بھی تھا ، بادشاہ نے شادی پر پابندی لگا دی۔ ویلنٹائن نامی ایک پادری نے بادشاہ کے حکم کے خلاف چھپ کر شادیاں کروانا شروع کردیں، یا خود شادی کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے کی گئی۔ اور یہ 14فروری کا دن تھا۔ بعد میں اس ویلنٹائن کی یاد میں یہ دن منایا جانے لگا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویلنٹائن نے ایک راہبہ سے 14فروری کو یہ کہہ کر شادی رچالی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس دن اگر راہب اور راہبہ آپس میں میلاپ کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ یاد رہے کہ عیسائی مذاہب میں ایک فرقے کے عقائد کے مطابق راہب اور راہبہ زندگی بھر کنوانے رہتے ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات کے مطابق جو کوئی اپنے آپ کو کلیساءکی خدمت کے لئے پیش کر دے تو وہ عمر بھر شادی نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ شادی اور پھر ازدواجی زندگی کی صورت میں وہ اصلی گناہ دوبارہ ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے جس کا ارتکاب آدم علیہ السلام اور بی بی حوا نے کیا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے صولی پر چڑھ کر تمام انسانیت کی جانب سے اس کا کفارہ ادا کیا تھا۔

ویلنٹائن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے راہبہ نے ہاں کر دی اور انہوں نے شادی رچا لی۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں سزا ئے موت دے دی گئی۔ تب سے لوگ اس دن کو یوم محبت کے نام سے مناتے ہیں۔

اگر اس واقعہ کو سچ مان لیا جائے تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ عیسائی مذہب کے مطابق اس دن کو ”یوم مذمت “ کے طور پر منانا جاتا۔ کیوں کہ اس دن ایک مذہبی روایت کے خلاف قدم اٹھایا گیا ۔ کلیسا کے اصولوں کو پامال کیا گیا ، اور اہل کلیسا میں سے دو اہم لوگوں نے مذہبی تعلیمات کے صراحتا خلاف کام کیا ۔ لیکن اس سب کے باوجود عیسائیت کے پیروکار اس دن کو ”یوم محبت“ کے طور پر مناتے ہیں اور مذہبی پادریوں کی جانب سے کبھی اس کی مذمت نہیں کی گئی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل کلیسا کو بھی اپنی تعلیمات کے غیر فطری ہونے کا احساس ہو چکا ہے ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ عیسائی تاریخ میں ویلنٹائن نامی تین افراد کا ذکر ملتا ہے اور تینوں کو کسی نہ کسی جرم میں موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔

حقیقت کچھ بھی ہو یہ دن عیسائی برادری کے لئے عید کی حیثیت اختیار کر گیا، جو پہلے پہل تو صرف بعض جگہوں پر منایا جاتا تھا لیکن ذرائع ابلاغ کی وسعت نے اس طرح کی کئی خبائث کو اسلامی معاشروں میں بھی پروان چڑھا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دن ہمارے ہاں بھی اسی اہتمام و احترام سے منایا جانے لگا۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم احساس کمتری کا اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ مغرب کی ہر روایت اپنانے کو نہ صرف قابل فخر سمجھتے ہیںبلکہ اسی تقلید کو ہر قسم کی روشن خیالی اور جدیدیت کا معیار سمجھتے ہیں۔

اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ فطری مذہب ہے۔ اس نے اپنے ماننے والوں کی تمام طبعی خواہشات کے پیش نظر ان تمام معاملات زندگی کو اپنی تعلیمات میں سمویا ہے جو تقاضائے بشری ہیں۔ لیکن ان جذبات کی تکمیل و تسکین کے لئے اسلام نے مسلمانوں کو بے لگا م نہیں چھوڑا بلکہ کچھ اصول وضع کئے ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق کئے جانے والا ہر کام عبادت شمار ہوتا ہے ۔ اسلام خوشی اور تفریح سے ہر گز منع نہیں کرتا بلکہ صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی کے پیش نظر مسلمانوں کے لئے سال میں دو عیدیں رکھی ہیں۔ تا کہ مسلمان اس دن خوشی کا اظہار کر سکیں، ایک دوسرے کو تحائف دیں، دعوتیں کریں۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ کی تقریبات یا اس طرح کے دیگر ایسے مواقع جو انسانی زندگی کا لازمہ اور معاشرے کی ضرورت ہیں ان میں بھی خوشی منانے کی پوری اجازت ہے۔

اسلام خوشی منانے کا ہر گز مخالف نہیں۔ لیکن جو تہوار کوئی مذہبی یا تہذیبی پس منظر رکھتے ہوں۔ جس کا منایا جانا کسی مذہبی واقعے کی یاد دلاتا ہو، اس کو منانا اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں۔ مذہبی تہواروں کی کو منانے کا مقصد کچھ روایات ، تصورات اور عقائد کو انسانی معاشروں میں پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ اس لئے دیگر مذاہب کے مذہبی تہوار منانا خطرے سے خالی نہیں۔

ان اسلامی ایام کے علاوہ کسی بھی ایسے دن کا منانا جس کا ہماری روایات سے تعلق نہیں علماءکے متفقہ فتویٰ کے مطابق بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس دن تحفے دینا اور کسی بھی سرگرمی میں شامل ہونا ”تعاون علی الاثم و العدوان“ (برائی اور زیادتی کے کام میں تعاون) کے تحت آتا ہے۔

ایک طبقہ کی رائے ہے کہ اسلام خوشی منانے سے ہر گز منع نہیں کرتا اس لئے اس دن خوشی منانے میں کوئی حرج نہیں۔ مزید یہ کہ آپ ان کے طریقے مت اپنائیں بلکہ اسلامی طریقے اپناکر اسلامی انداز میں یہ دن منا سکتے ہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔ افسوس ہے ان دانشوروں پر ۔ طریقہ بدلنے سے کوئی غلط کام جائز نہیں ہو جاتا۔ اگر خوشی ہی منانی ہے تو کسی اور دن کا انتخاب کر لیجئے۔ اسی دن منانا ضروری ہے؟

اس دن خوشی منانے کا مطلب ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے، اور اسلام کی واضح تعلیمات ہیں کہ ”جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہے“ اب ہر انسان خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کن میں سے ہونا پسند کرتا ہے۔

یہ تو مذہبی پہلو ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی پہلو سے یہ دن جو برائیاں ساتھ لاتا ہے وہ کوئی بھی شریف النفس قبول نہیں کر سکتا۔ مغربی اور غیر اسلامی معاشروں کا جو کلچر میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو یہ دن منانے کی دعوت دیتا ہے ، وہ طریقے بھی سکھاتا ہے، اس دن کی راہ و رسم سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔ محبت اور عشق کے خوبصورت پردوں میں جنسی بے راہ روی اس دن کا خاصہ ہے۔ بظاہر محبت کا پرچار ہے لیکن درحقیقت تباہی ہی تباہی ہے ۔ اخلاق کی تباہی، معاشرتی اقدار کی تباہی، وسائل اور اوقات کی تباہی اور بالآخر خاندانی نظام کی تباہی۔

یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس برائی کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ لوگوں میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے آگہی پیدا کریں، اس دن اور ایسے دیگر تہواروں کی خرابیوں اور خرافات سے اپنی نوجوان نسل کو آگا کرنے کے ساتھ اسے اس دلدل میں گرنے سے بچانے کی کوشش کریں۔

بطور خاص وطن عزیز جن اخلاقی، معاشرتی، اور معاشی بحرانوں سے گزر رہا ہے وہ کسی صورت بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تہواروں پر سرکاری طور پر پابندی لگائیں۔ تاکہ اخلاقی اور جانی نقصان کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کا نقصان بھی روکا جا سکے۔

اگر ہم نے ابھی آنکھیں نہ کھولیں، اپنی روایات کا پاس نہ رکھا اور مغرب کی تقلید میں مست رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم اخلاقی زوال میں مغرب سے آگے نکل جائیں۔

اپنی ملت پے قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی


تحریر: راجہ اکرام
ذیلی ناظم پاک نیٹ

Monday, February 8, 2010

خوش فہم

خوش فہم

یہ جو نور کی اک ہلکی سی کرن پھوٹی ہے
کون کہتا ہے اسے صبح ِ درخشاں ،اے دوست
مجھ کو احساس ہے ،باقی ہے شبِ تار ابھی
لیکن اے دوست !
مجھے چند لمحے خوش فہم تو رہنے دے
کم سے کم نور نے الٹا تو ہے اک بار نقاب
اک لمحے کو تو ٹوٹا ہے طلسمِ شبِ تار
اس سے ثابت تو ہوا کہ صبح بھی ہو سکتی ہے
پردہ ظلمتِ شب چاک بھی ہو سکتا ہے
صبح ِ کاذب بھی تو ہے اصل میں دیباچہ صبح
صبح ِ کاذب بھی تو ہے صبح درخشاں کی نوید
ایک اعلان، کہ ہنگامِ وداعِ شب ہے
قافلہ نورِ سحر کا ہے بہت ہی نزدیک
جلد ہونے کو ہے خورشیدِ درخشاں کی نمود
ہاں اس طرح چند لمحے ہی سہی
اے دوست!
مجھےخوش فہم تو رہنے دے۔۔

انتخاب: حریم خان
پاک نیٹ
!!

مجھے یقیں ہے

مجھے یقیں ہے

یہ رات ہوگی طویل کتنی
بلند ہو گی فصیل کتنی
یہ خوف و دہشت کا دور دورہ
رہے گا کب تک؟
فلک سے برسے گی راکھ کب تک؟
ستارے ٹوٹیں گے آسماں سے
پرند روٹھیں گے آشیاں سے
یہ پھول ، پتے ، ہوائیں ، شبنم
کریں گے کس کس کا اور ماتم
سیاہ پر ہول آندھیوں کا
یہ موج میلہ
رہے گا کب تک؟
کڑکتی ، بے چین بجلیوں کے مقابلے میں
شجر اکیلا رہے گا کب تک؟
مجھے یقیں ہے
پھریں گے دھرتی کے دن یقیناً
کبھی تو بندوں پہ لطفِ رب انعام ہوگا
حسین تتلی کے نرم و نازک پروں کی جنبش
دھنک کے خوش دیدہ رنگ ہر سو
بکھیر دے گی
مجھے یقیں ہے
کہ کل کے سورج کی مسکراہٹ
زمیں کے محروم باسیوں کو
نئی سحر کا پیام دے گی
لبوں کو اذنِ کلام دے گی
مجھے یقیں ہے وہ دن بھی آئے گا
جب بہار لمحوں کی گنگناہٹ
سنائی دے گی
کبھی تو دیکھے گا سر اٹھا کر
چمن میں ننھا سا کوئی پودا
کبھی تو دیکھے گا بادلوں کا ہٹا کے گھونگھٹ
کہیں پہ چھوٹا سا ایک ستارہ
کبھی تو نکلے گا چاند پورا
یہ گھر یہ آنگن چمک اٹھے گا
فلک سے برسیں گی نور کرنیں
زمیں کا دامن چمک اٹھے گا
کبھی تو اترے گا آسماں سے کوئی فرشتہ
پڑھے گا چہرے پہ جو لکھا ہے
سنے گا وہ بھی جو ہم نے اب تک
نہیں کہا ہے
مجھے یقیں ہے

انتخاب: حریم خان
پاک نیٹ

Tuesday, January 26, 2010

نعت رسولِ مقبول آقاِ دو جہاں سرورِ کونین



نعت رسولِ مقبول آقاِ دو جہاں سرورِ کونین




مدینے بلانا ہمیں یا محمد درِ پاک کا ہم نظارہ کریں گے
وہیں پر جئیں گے وہیں پر مریں گے وہیں زندگانی گزارا کریں گے

یہ مانا کہ تم سے بہت دور ہیں ہم یہ مانا کہ آنے سے مجبور ہیں ہم
مگر یہ سمجھ لو کہ دیوانے تم کو یونہی زندگی بھر پکارا کریں گے

کسی اور در پر کبھی نہ جھکیں گے کسی اور کا ہم سہارا نہ لیں گے
گزر اس جہاں میں اگر ہم کریں گے تو لے کر تمھارا سہارا کریں گے

نہ گھبرانا اے دل کبھی رنج و غم سے ہراساں نہ ہونا ان کے کرم سے
یہ بگڑی تیری اک پل میں بنے گی حبیبِ خدا جب اشارہ کریں گے

یہ کشتی ہوا جس سے ٹکرا رہی ہے تمھارے سہارے چلی آ رہی ہے
جو ہاتھوں میں دامن تمھارا رہے گا نہ طوفاں سے ہم کنارا کریں گے

مدینے جو پہنچائے تقدیر ہم کو تو آنکھوں سے چُومیں گے اُن کے قدم کو
شب و روز نگاہوں سے خاطر محمد کا صدقہ اتارا کریں گے

انتخاب
واحد محمود- پاک نیٹ

Friday, January 22, 2010

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا - اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا - اے چاند یہاں نہ نکلا کر


بے نام سے سپنے دِکھلا کر
اے دل ہر جا نہ پِھسلا کر
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

نہ ڈرتے ہیں نہ نادِم ہیں
ہاں کہنے کو وہ خادِم ہیں
یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکِم ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں راقِم سارے لکھتے ہیں
قوانین یہاں نہ ٹکِتے ہیں
ہیں یہاں پر کاروبار بہت
اس دیس میں گُردے بکتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں ڈالر ڈالر ہوتی ہے
کسوٹی ہے GDPاور
کچھ لوگ ہیں عالیشان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

اُمّید کو لے کر پڑھتے ہیں
پھر ڈِگری لے کر پِھرتے ہیں
جب جاب نہ ان کو ملتی ہے
پھر خُود کش حملے کرتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

وہ کہتے ہیں سب اچّھا ہے
اور فوج کا راج ہی سچّا ہے
کھوتا گاڑی والا کیوں مانے
جب بھُوکا اس کا بچّہ ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

انتخاب
طاہر- پاک نیٹ

Tuesday, January 19, 2010

ہونا چاہیے

ہونا چاہیے


مرد ہونی چا ہیے خاتون ہو نا چا ہیے
اب گرا ئمر کا یہی قانون ہو نا چا ہیے

نرسری کا داخلہ بھی سرسری مت جانیے
آپ کے بچے کو افلاطون ہو نا چاہیے

رات کو بچے پڑھا ئی کی اذیت سے بچے
ان کو ٹی وی کا بہت ممنون ہو نا چاہیے

دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے
فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہیے

صرف محنت کیا ہے انور کامیابی کے لئے
کوئی اوپر سے بھی ٹیلی فون ہو نا چا ہیے

انور مسعود

Monday, January 18, 2010

میرا انتخاب

میں اپنی دوستی کو شہر میں رسوا نہیں‌کرتی
محبت میں بھی کرتی ہوں‌ مگر چرچہ نہیں‌کرتی

جو مجھ سے ملنے آ جائے میں اس کی دل سے خادم ہوں
جو اٹھ کے جانا چاہے میں اسے روکا نہیں کرتی

جسے میں چھوڑ دیتی ہوں اسے پھر بھول جاتی ہوں
پھر اس ہستی کی جانب میں کبھی دیکھا نہیں کرتی

تیرا اصرار سر آنکھوں پہ "کہ تم کو بھول جاؤں میں"
میں کوشش کر کے دیکھوں گی مگر وعدہ نہیں کرتی

انتیخاب :نیلم خان

Saturday, January 9, 2010

ایک خوبصورت نظم

ایک خوبصورت نظم

اسے کہنا
گِلے بھی ان سے ہوتے ہیں
جو دل کے پاس ہوتے ہیں
شکایت ان سے ہوتی ہے
جو بے حد خاص ہوتے ہیں
میرا تجھ سے گلہ کرنا
تمہیں‌یوں ہی رلا دیناخفا کرنا
تیری تائید کے بدلے جفا کرنا
محبت کی علامت ہے
یہ الفت کی علامت ہے
جفا نہ تم سمجھ لینا
محبت میں کبھی ہرگز
اسے دل پر نہیں لینا
اسے کہنا محبت کی
توقع ان سے ہوتی ہے
کہ جن سے یاس ہوتے ہیں
گِلے بھی ان سے ہوتے ہیں
جو دل کے پاس ہوتے ہیں

انتخاب : نیلم خان