Tuesday, January 26, 2010

نعت رسولِ مقبول آقاِ دو جہاں سرورِ کونین



نعت رسولِ مقبول آقاِ دو جہاں سرورِ کونین




مدینے بلانا ہمیں یا محمد درِ پاک کا ہم نظارہ کریں گے
وہیں پر جئیں گے وہیں پر مریں گے وہیں زندگانی گزارا کریں گے

یہ مانا کہ تم سے بہت دور ہیں ہم یہ مانا کہ آنے سے مجبور ہیں ہم
مگر یہ سمجھ لو کہ دیوانے تم کو یونہی زندگی بھر پکارا کریں گے

کسی اور در پر کبھی نہ جھکیں گے کسی اور کا ہم سہارا نہ لیں گے
گزر اس جہاں میں اگر ہم کریں گے تو لے کر تمھارا سہارا کریں گے

نہ گھبرانا اے دل کبھی رنج و غم سے ہراساں نہ ہونا ان کے کرم سے
یہ بگڑی تیری اک پل میں بنے گی حبیبِ خدا جب اشارہ کریں گے

یہ کشتی ہوا جس سے ٹکرا رہی ہے تمھارے سہارے چلی آ رہی ہے
جو ہاتھوں میں دامن تمھارا رہے گا نہ طوفاں سے ہم کنارا کریں گے

مدینے جو پہنچائے تقدیر ہم کو تو آنکھوں سے چُومیں گے اُن کے قدم کو
شب و روز نگاہوں سے خاطر محمد کا صدقہ اتارا کریں گے

انتخاب
واحد محمود- پاک نیٹ

Friday, January 22, 2010

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا - اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا - اے چاند یہاں نہ نکلا کر


بے نام سے سپنے دِکھلا کر
اے دل ہر جا نہ پِھسلا کر
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

نہ ڈرتے ہیں نہ نادِم ہیں
ہاں کہنے کو وہ خادِم ہیں
یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکِم ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں راقِم سارے لکھتے ہیں
قوانین یہاں نہ ٹکِتے ہیں
ہیں یہاں پر کاروبار بہت
اس دیس میں گُردے بکتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں ڈالر ڈالر ہوتی ہے
کسوٹی ہے GDPاور
کچھ لوگ ہیں عالیشان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

اُمّید کو لے کر پڑھتے ہیں
پھر ڈِگری لے کر پِھرتے ہیں
جب جاب نہ ان کو ملتی ہے
پھر خُود کش حملے کرتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

وہ کہتے ہیں سب اچّھا ہے
اور فوج کا راج ہی سچّا ہے
کھوتا گاڑی والا کیوں مانے
جب بھُوکا اس کا بچّہ ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

انتخاب
طاہر- پاک نیٹ

Tuesday, January 19, 2010

ہونا چاہیے

ہونا چاہیے


مرد ہونی چا ہیے خاتون ہو نا چا ہیے
اب گرا ئمر کا یہی قانون ہو نا چا ہیے

نرسری کا داخلہ بھی سرسری مت جانیے
آپ کے بچے کو افلاطون ہو نا چاہیے

رات کو بچے پڑھا ئی کی اذیت سے بچے
ان کو ٹی وی کا بہت ممنون ہو نا چاہیے

دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے
فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہیے

صرف محنت کیا ہے انور کامیابی کے لئے
کوئی اوپر سے بھی ٹیلی فون ہو نا چا ہیے

انور مسعود

Monday, January 18, 2010

میرا انتخاب

میں اپنی دوستی کو شہر میں رسوا نہیں‌کرتی
محبت میں بھی کرتی ہوں‌ مگر چرچہ نہیں‌کرتی

جو مجھ سے ملنے آ جائے میں اس کی دل سے خادم ہوں
جو اٹھ کے جانا چاہے میں اسے روکا نہیں کرتی

جسے میں چھوڑ دیتی ہوں اسے پھر بھول جاتی ہوں
پھر اس ہستی کی جانب میں کبھی دیکھا نہیں کرتی

تیرا اصرار سر آنکھوں پہ "کہ تم کو بھول جاؤں میں"
میں کوشش کر کے دیکھوں گی مگر وعدہ نہیں کرتی

انتیخاب :نیلم خان

Saturday, January 9, 2010

ایک خوبصورت نظم

ایک خوبصورت نظم

اسے کہنا
گِلے بھی ان سے ہوتے ہیں
جو دل کے پاس ہوتے ہیں
شکایت ان سے ہوتی ہے
جو بے حد خاص ہوتے ہیں
میرا تجھ سے گلہ کرنا
تمہیں‌یوں ہی رلا دیناخفا کرنا
تیری تائید کے بدلے جفا کرنا
محبت کی علامت ہے
یہ الفت کی علامت ہے
جفا نہ تم سمجھ لینا
محبت میں کبھی ہرگز
اسے دل پر نہیں لینا
اسے کہنا محبت کی
توقع ان سے ہوتی ہے
کہ جن سے یاس ہوتے ہیں
گِلے بھی ان سے ہوتے ہیں
جو دل کے پاس ہوتے ہیں

انتخاب : نیلم خان