میں اپنی دوستی کو شہر میں رسوا نہیںکرتی
محبت میں بھی کرتی ہوں مگر چرچہ نہیںکرتی
جو مجھ سے ملنے آ جائے میں اس کی دل سے خادم ہوں
جو اٹھ کے جانا چاہے میں اسے روکا نہیں کرتی
جسے میں چھوڑ دیتی ہوں اسے پھر بھول جاتی ہوں
پھر اس ہستی کی جانب میں کبھی دیکھا نہیں کرتی
تیرا اصرار سر آنکھوں پہ "کہ تم کو بھول جاؤں میں"
میں کوشش کر کے دیکھوں گی مگر وعدہ نہیں کرتی
انتیخاب :نیلم خان
محبت میں بھی کرتی ہوں مگر چرچہ نہیںکرتی
جو مجھ سے ملنے آ جائے میں اس کی دل سے خادم ہوں
جو اٹھ کے جانا چاہے میں اسے روکا نہیں کرتی
جسے میں چھوڑ دیتی ہوں اسے پھر بھول جاتی ہوں
پھر اس ہستی کی جانب میں کبھی دیکھا نہیں کرتی
تیرا اصرار سر آنکھوں پہ "کہ تم کو بھول جاؤں میں"
میں کوشش کر کے دیکھوں گی مگر وعدہ نہیں کرتی
انتیخاب :نیلم خان
No comments:
Post a Comment