Thursday, February 25, 2010

محبت سب کیلئے

محبت سب کیلئے

جی ہاں محبت سب کیلئے۔

نفرت کو دلوں نکال سےکر محبت کو دل میں سجا لیجئے۔ آپ کے دل میں موجود نفرت کا ایک ذرہ بھی آپ کے دل کو میلا کر دیتا ہے۔ شاید ایسے آپ کو یہ بات سمجھ نہ آئے۔ تو ایک خوبصورت مثال سے اس بات کو واضح کرتے ہیں

ایک ٹیچر اپنی کلاس کے معصوم بچوں کو محبت اور نفرت کا فرق سمجھا نا چاہ رہی تھی ۔ اس نے بچوں کو ایک کھیل کے ذریعے یہ سبق سکھا نے کا فیصلہ کیا ۔ اور بہت سوچنے کے بعد اس نے بچوں کو کہا
" بچو ہم ایک کھیل کھیلنے جا رہے ہیں ۔ جس کے آخر میں آپ کو ایک بہت شاندار سبق بھی حا صل ہو گا۔ کیا آپ سب یہ کھیل کھیلنے کیلئے تیار ہیں"
بچوں نے یک زبان ہو کر کہا" جی ۔ بالکل"
" تو بچو۔ آپ کو کرنا یہ ہے کہ کل جب آپ سکول آئیں تو اپنے ساتھ ایک شاپنگ بیگ میں اتنے ٹماٹر ڈال کرلائیں جتنے لوگوں سے آپ نفرت کرتے ہیں"
ٹیچر نے کہا
سب بچوں نے بڑے جوش و خروش سے ٹیچر سے وعدہ کیا کہ کل وہ ایسا ہی کریں گے۔
چنانچہ دوسرے دن ہر بچے کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا۔ کسی میں ایک ٹماٹر ، کسی میں دو اور کسی میں پانچ ٹماٹرتھے۔ غرضیکہ ٹماٹڑوں کی تعداد ان لوگوں کی تعداد ظاہر کررہی تھی جتنے لوگوں سے وہ نفرت کرتے تھے۔
اب ٹیچر نے سب بچوں سے کہا۔" بچو۔ آپ سب لوگ اپنے اپنے شاپنگ بیگز کو
بند کرلیں اور ان کو ہر وقت اپنے پاس رکھنا ہے۔ چاہے آپ کلاس میں ہوں ، گھر میں ہوں، سورہے ہوں، کھانا کھا رہے ہوں۔ بس یہ شاپنگ بیگ آپ کے پاس رہے۔ اور ہاں یہ کھیل ایک ہفتہ کیلئے ہے۔ ایک ہفتے کے بعد اس کھیل کا اختتام ہوگا"
سب بچوں نے کہا" جی ۔ ہم سمجھ گئے۔ یہ تو بڑا آسان سا کھیل ہے"
لیکن یہ آسان کھیل بچوں کیلئے بہت مشکل ثابت ہوا۔ دوسرے ہی دن ٹماٹروں سے بد بو آنا شروع ہوگئ۔ مزید یہ کہ جن کے پاس زیادہ ٹماٹر تھے یعنی جو بچے زیادہ لوگوں سے نفرت کرتے تھے۔ ان کیلئے دہری مصیبت تھی۔ بدبو کے ساتھ وزن بھی اٹھانا، ہر وقت اپنے پاس رکھنا، ایک عذاب بن گیا ۔
جلد ہی بچے تنگ آگئے۔ لیکن کھیل تو ایک ہفتے کا تھا۔
تیسرے چوتھے دن ہی بچوں کی ہمت جواب دینے لگی۔ بد بو سے سب کا برا حال تھا۔ انہوں نے ٹیچر سے کہا" میڈم یہ کھیل جلدی ختم کریں ورنہ ہم بیمار ہو جائیں گے"
ٹیچر نے جو بچوں کی پریشانی دیکھی تو کہا" ٹھیک کھیل آج ہی ختم کردیتے ہیں- آپ لوگ جلدی اپنے اپنے شاپنگ بیگ متعلقہ جگہ پر ڈال کر ، ہاتھ دھو کر آئیں - پھر اس کھیل کے بارے میں بات کرتے ہیں"
بچے تو خوشی سے اچھل پڑے اور فورا باہر بھاگے۔ تھوڑی دیر جب سب بچے واپس کلاس میں آئے تو انکے چہروں پر تازگی کے ساتھ تجسس کے تاثرات موجود تھے اور وہ منتظر تھے کہ اس کھیل کا مقصد اور نتیجہ جان سکیں۔
ٹیچر نے سب بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
" بچو۔ آپ نے دیکھا کہ آپ جتنے لوگوں سے نفرت کرتے تھے ۔ انکی علامت کے طور پر ٹماٹر ساتھ رکھنا کتنا مشکل اور تکلیف دہ کام تھا۔
ہم جب کسی سے نفرت کرتے ہیں تو اس کا احساس ہمارے دل میں رہتا ہے۔
یہ احساس، یہ سوچ دماغ میں رہتی ہے۔ اور
یہ سوچ، یہ احساس ان ٹماٹروں کی طرح جب کئی دنوں تک پڑی رہتی ہے تو
بدبو پیدا کردیتی ہے، تعفن پھیلا دیتی ہے۔ ذرا سوچئے ہم کتنے مہینوں، سالوں سے یہ بدبو بھرا تعفن زدہ احساس اپنے دل میں رکھے ہوئے ہیں ۔ کیا ہمارا دل اس سے تنگ نہیں ہوتا؟
اس گندگی سے ہمارا دل اور دماغ میلے نہیں ہو جاتے ۔؟
اگر ہم اس بدبو اور گندگی کی جگہ محبت جیسا خوشبو انگیز احساس دل میں رکھیں تو ہمارا دل خوش نہیں ہوگا۔"
بچوں کو اب احسا س ہو رہا تھا۔ کہ میڈم کتنی بڑی سچائی بیان کررہی ہیں۔

تو بھائیو- بہنو
کیا ہم نفرت نہیں چھوڑ سکتے ۔
کیاہم اپنےدل و دماغ صاف نہیں رکھ سکتے ؟

صرف ایک احساس ، ایک جذبہ
محبت سب کیلئے
((ماخوذ

ماں تو بس ماں ہی ہو تی ہے

ماں تو بس ماں ہی ہو تی ہے

آج ایک ایک بہت ہی خوبصورت تحریر کا یہ ٹکڑا نظر سے گذرا۔
آپ سے شئیر کر رہا ہوں

"دسمبر کی ایک سہ پہر میں سکول سے نکلا تو آسمان پر کالے بادل چھا ئے ہوئے تھے ۔میں نے سوچا بارش آنے سے پہلے گھر پہنچ جا وءں گا ۔ابھی آدھا بھی فاصلہ طے نہیں ہوا تھا کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ کانپتا ہوا گھر پہنچا تو بھائی نے کہا۔موصوف نظر نہیں آرہا تھا کہ بارش ہو رہی ہے۔
بہن نے کہا۔ تھوڑی دیر رک جا تے ۔ بارش تھم جا تی ۔ تب نکل آتے۔
ابا جی نے کہا۔ بیٹا بہت شوق ہے بارش میں بھیگنے کا۔ ٹھنڈ لگے گی تو لگ پتہ جائے گا۔
اتنے میں ماں جی آئی ۔ میرے سر پر تولیہ رکھ کر بولی
کم بخت بارش تھوڑی دیر رک نہیں سکتی تھی کہ میرا لال گھر پہنچ جاتا تو پھر آجا تی ۔
اور
اور پانی میرے گالوں پر سے ہوتا ہوا نیچے گرنے لگا
مگر وہ بارش کا پا نی نہیں تھا۔
"

Monday, February 22, 2010

اے ماہ ربیع الاول۔۔۔۔۔۔

اے ماہ ربیع الاول۔۔۔۔۔۔

اے ماہ ربیع الاول
تیری قسمت کے قربان
تیرے بارہویں روز کو آیا
نبیوں کا سلطان
وہ سلطان کہ جس نے توڑے جہل کے سارے مان
امن ، محبت ، بھائی چارہ
جس نے کیا ہے عام

ہم اس پاک نبی کی امت
کہلاتے شرمائیں
جب آنکھوں کے سامنے آئیں
روتی بہنیں مائیں

ہر سو پھیلی لاشیں،
خون کی لالی،
پھٹتے بموں کے شور سے
اڑتے دھویں کے بادل
چیختے بچے،
گم سم چہرے
بجتےسائرن
اور
وہی بے ربط سے، معنوں سے خالی جملے

ہم اس پاک نبی کی امت
کہلاتے شرمائیں
جس نے اپنے دشمن سے بھی
پیار کا سبق پڑھایا۔

اے ماہ ربیع الاول
تیری قسمت کے قربان
تیرے بارہویں روز کو آیا
نبیوں کا سلطان

؎
جس سلطان کا یہ فرمان ہے
ایک انسان کا قتل ہے گویا انسانیت کا خون
اس سلطان کی امت
پھر سے راہیں بھول گئی
اسکی باتیں بھول گئی
اے ماہ ربیع الاول
ہم کو پھرسے
پیار ے نبی کی پیاری باتیں
یاد دلادے
ہم کو پیار سکھادے

M. Noor Asi

Sunday, February 21, 2010

آپ کے سوال اور میرے جواب-2

آپ کے سوال اور میرے جواب-2

عاشق حسین نے معشوق آبا د سے خامہ فر سائی کی ہے
ڈاکٹر صاحب ۔ او کہندی اے سیا ں میں تیری آں۔۔


جواب۔
جناب بھولے بھالے عاشق صاحب۔زیا دا خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ صر ف آپ کو ہی نہیں دس اور بندوں کو بھی یہی کہ چکی ہے۔

اوکاڑہ سے اللہ دتہ تحریر کرتے ہیں

ڈاکٹر صاحب میرا مسئلہ سب سے انوکھا ہے۔ میں جب بھی آنکھیں بند کر تا ہوں مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔ کھانا کھانے کے بھوک بالکل نہیں۔ اور تو اور صبح جب گیارہ بجے سو کر اٹھتا ہوں تو لاکھ کوشش کے با وجو د نیند نہیں آتی۔
آپ کیا فرما تے ہیں اس مسئلے کے بیچ؟

جواب۔
آپ ایسا کریں اپنے قریبی پنسار سٹور معجون زہرقندمنگوا لیں۔ ایک ما شہ رات سونے کے آدھا گھنٹہ بعد ایک صبیح گیارہ بجے اٹھنے سے 20 پہلے چھ ما ہ تک کھا ئیں۔
بیگم کی چھاڑ حسب معمول روزا نہ لینی ہے۔ نا غہ ہونے کی صورت میں مجھ سے گلہ نہ کرنا۔

Thursday, February 18, 2010

مزاحیہ سوال و جواب

مزاحیہ سوال و جواب

آپ کے سوال اور میرے جواب



السلام علیکم
خوانین و حضرات
آج سے ہم آپ کے سوالات کے جوابا ت پر مبنی یہ نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔
امید سب لوگ بھر پور طریقے سے شرکت کریں گے

آج ہم ان سوالوں کے جواب دیں گے جو ہمیں بذریعہ الہام موصو ل ہوئے ہیں۔
شکریہ

ساجدہ بی بی راولپنڈی سے پوچھتی ہیں
ڈاکٹر صاحب۔ میر ا ایک بیٹا بہت عجیب سی حر کتیں کر تا ہے۔ ہر وقت گھر افرا تفری پھیلائے رکھتا ہے۔ جھوٹ بھی بولتا ہے۔ اپنے بہن بھا ئیوں سے لڑتا رہتا ہے۔ پیسے چوری کر لیتا ہے پھر ما نتا بھی نہیں۔
کو ئی بات پوچھی جا ئے تو چا ر گھنٹے تک تقریر شروع کر دیتا ہے۔ اور وہ بھی ایسی جسکا سر نہ پیر- بہت ڈاکڑوں کو دکھا یا ۔ حکیموں کے پا س گئی ۔ پیر وں فقیروں کے آستانے چھان مارے مگر اسکی حر کتیں وہی کی ہی ہیں
کیا کروں۔۔۔ یہ بڑا ہو کر کیا کر ے گا۔؟

جواب
ًمحترمہ ساجدہ صا حبہ ۔ پریشان ہونے کی قطعا ضرورت نہیں ۔۔ آپ کے بیٹے کی حرکتیں واضح اشارہ کر رہی ہیں کہ آپ کا بیٹا بڑا ہو کر ہما رے ملک کا نا مور سیا ست دان بنے گا۔



شیخ مختار نے لاہور سے سوال بھیجا ہے

سوال: ڈاکٹر صاحب ۔ میں ایک محلے میں کریا نہ کی دکا ن چلاتا ہوں۔ ایک خاتوں اکثر مجھ سے سودا لینے آتی ہے۔
جب میں سودا دینے لگتا ہوں تو وہ ہلکے سے میر ا ہا تھ دبا تی ہے ۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب" جناب شیخ صاحب ۔۔ آپ بھی بھولے ہو۔ سا منے کی با ت ہے ۔ وہ خاتون آپ سے سودا مفت لینا چا ہتی ہیں۔

پشاور سے شیربہادر خان نے سوال پوچھا ہے

جناب امارے سا تھ عجیب نفسیا تی مسئلہ ہو گئی ہے۔ ام سارا دن ٹھکا ٹھک بو لتی ہے۔ امارا زبان ایک دم تیر کا مافک چلتی ہے- مگر عجیب ام جب گھر جا تا ہے تو اپنی بیگم کے سا منے اما را زبا ن رک جا تا ہے۔ ام بولنا چا ہتا ہے مگر نہیں بول سکتا۔

جواب۔
جناب شیربہادر خان صاحب۔ یہ صر ف آپ کا مسئلہ نہیں پوری مرد برادری اسی مسئلے سے دوچار ہے۔ میں اپنی بیگم سے پوچھ کر آپ کو اس مسئلے کا حل بتا ئوں گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں اپنی بیگم سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کر سکا تو۔۔۔

Wednesday, February 10, 2010

ویلنٹائن ڈے:: یوم محبت یا دعوت تباہی

::ویلنٹائن ڈے:: یوم محبت یا دعوت تباہی ؟

14فروری آنے کو ہے۔دنیا بھر میں یہ دن ”یوم محبت “ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ قوم، نسل اور مذہب کی قید سے بالا تر ہو کر انسانوں کی ایک بڑی تعدا د بشمول مسلمان اس کا اہتمام کرتی ہے۔ ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اس ”یوم محبت“ کی تاریخی حقیقت سے سوائے چند ایک کے کوئی واقف نہیں۔

ویلنٹائن کی حقیقت کیا ہے؟

یہ رسم کئی صدیاں پرانی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس دن کی حقیقت کے بارے میں ایک سے زائد آراء ہیں۔ ”ویلنٹائن“ نامی کسی شخص کی طرف منسوب تقریبا نصف درجن کہانیاں ایسی ہیں جن کو اس ”یوم محبت“ کا یوم آغاز تصور کیا جاتا ہے ۔ ان تمام روایات کو یہاں ذکرکرنا ، پھر تاریخی تحقیق کے ذریعے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا، تاریخی شواہد کی روشنی میں کسی ایک کو اس ”یوم محبت “ کا نقطہ آغاز قرار دینا ہمارا مقصود نہیں ۔ ان بے شمار قصوں میں سے چند ایک کا ذکرکافی ہو گا جن کو پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ یہ واقعہ کس حد تک حقیقی ہے، اس کو بنیاد بنا کر ایک پورا دن اس کردار کے لئے خاص کرنا کس کہاں تک عقلمندی ہے ۔

ایک قصہ اس طرح ہے کہ رومی بت پرست تھے ۔ ان رومیوں کے ایک پوپ نے ،جس کا نام ”ویلنٹائن “ تھا ،نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔ لیکن بعد میں جب رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کے یوم وفات کو ”یوم محبت “ کے طور پر منایا۔ اس طرح ویلنٹائن ڈے کا آغاز ہوا۔ اس روایت کا مبنی بر حقیقت ہونا تقریبا محال لگتا ہے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ رومی فوج کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا، لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے کتراتے تھے۔ بادشاہ نے جب محسوس کیا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو اس نے شادیوں پر پابندی لگا دی۔ ایک رائے یہ ہے کہ بادشاہ کا خیال تھا کہ بہادر اور جرات مند فوجی کا غیر شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ ایسے نوجوان دیگر افکار سے آزاد ہوتے ہیں ۔ الغرض فلسفہ جو بھی تھا ، بادشاہ نے شادی پر پابندی لگا دی۔ ویلنٹائن نامی ایک پادری نے بادشاہ کے حکم کے خلاف چھپ کر شادیاں کروانا شروع کردیں، یا خود شادی کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے کی گئی۔ اور یہ 14فروری کا دن تھا۔ بعد میں اس ویلنٹائن کی یاد میں یہ دن منایا جانے لگا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویلنٹائن نے ایک راہبہ سے 14فروری کو یہ کہہ کر شادی رچالی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس دن اگر راہب اور راہبہ آپس میں میلاپ کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ یاد رہے کہ عیسائی مذاہب میں ایک فرقے کے عقائد کے مطابق راہب اور راہبہ زندگی بھر کنوانے رہتے ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات کے مطابق جو کوئی اپنے آپ کو کلیساءکی خدمت کے لئے پیش کر دے تو وہ عمر بھر شادی نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ شادی اور پھر ازدواجی زندگی کی صورت میں وہ اصلی گناہ دوبارہ ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے جس کا ارتکاب آدم علیہ السلام اور بی بی حوا نے کیا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے صولی پر چڑھ کر تمام انسانیت کی جانب سے اس کا کفارہ ادا کیا تھا۔

ویلنٹائن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے راہبہ نے ہاں کر دی اور انہوں نے شادی رچا لی۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں سزا ئے موت دے دی گئی۔ تب سے لوگ اس دن کو یوم محبت کے نام سے مناتے ہیں۔

اگر اس واقعہ کو سچ مان لیا جائے تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ عیسائی مذہب کے مطابق اس دن کو ”یوم مذمت “ کے طور پر منانا جاتا۔ کیوں کہ اس دن ایک مذہبی روایت کے خلاف قدم اٹھایا گیا ۔ کلیسا کے اصولوں کو پامال کیا گیا ، اور اہل کلیسا میں سے دو اہم لوگوں نے مذہبی تعلیمات کے صراحتا خلاف کام کیا ۔ لیکن اس سب کے باوجود عیسائیت کے پیروکار اس دن کو ”یوم محبت“ کے طور پر مناتے ہیں اور مذہبی پادریوں کی جانب سے کبھی اس کی مذمت نہیں کی گئی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل کلیسا کو بھی اپنی تعلیمات کے غیر فطری ہونے کا احساس ہو چکا ہے ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ عیسائی تاریخ میں ویلنٹائن نامی تین افراد کا ذکر ملتا ہے اور تینوں کو کسی نہ کسی جرم میں موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔

حقیقت کچھ بھی ہو یہ دن عیسائی برادری کے لئے عید کی حیثیت اختیار کر گیا، جو پہلے پہل تو صرف بعض جگہوں پر منایا جاتا تھا لیکن ذرائع ابلاغ کی وسعت نے اس طرح کی کئی خبائث کو اسلامی معاشروں میں بھی پروان چڑھا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دن ہمارے ہاں بھی اسی اہتمام و احترام سے منایا جانے لگا۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم احساس کمتری کا اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ مغرب کی ہر روایت اپنانے کو نہ صرف قابل فخر سمجھتے ہیںبلکہ اسی تقلید کو ہر قسم کی روشن خیالی اور جدیدیت کا معیار سمجھتے ہیں۔

اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ فطری مذہب ہے۔ اس نے اپنے ماننے والوں کی تمام طبعی خواہشات کے پیش نظر ان تمام معاملات زندگی کو اپنی تعلیمات میں سمویا ہے جو تقاضائے بشری ہیں۔ لیکن ان جذبات کی تکمیل و تسکین کے لئے اسلام نے مسلمانوں کو بے لگا م نہیں چھوڑا بلکہ کچھ اصول وضع کئے ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق کئے جانے والا ہر کام عبادت شمار ہوتا ہے ۔ اسلام خوشی اور تفریح سے ہر گز منع نہیں کرتا بلکہ صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی کے پیش نظر مسلمانوں کے لئے سال میں دو عیدیں رکھی ہیں۔ تا کہ مسلمان اس دن خوشی کا اظہار کر سکیں، ایک دوسرے کو تحائف دیں، دعوتیں کریں۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ کی تقریبات یا اس طرح کے دیگر ایسے مواقع جو انسانی زندگی کا لازمہ اور معاشرے کی ضرورت ہیں ان میں بھی خوشی منانے کی پوری اجازت ہے۔

اسلام خوشی منانے کا ہر گز مخالف نہیں۔ لیکن جو تہوار کوئی مذہبی یا تہذیبی پس منظر رکھتے ہوں۔ جس کا منایا جانا کسی مذہبی واقعے کی یاد دلاتا ہو، اس کو منانا اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں۔ مذہبی تہواروں کی کو منانے کا مقصد کچھ روایات ، تصورات اور عقائد کو انسانی معاشروں میں پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ اس لئے دیگر مذاہب کے مذہبی تہوار منانا خطرے سے خالی نہیں۔

ان اسلامی ایام کے علاوہ کسی بھی ایسے دن کا منانا جس کا ہماری روایات سے تعلق نہیں علماءکے متفقہ فتویٰ کے مطابق بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس دن تحفے دینا اور کسی بھی سرگرمی میں شامل ہونا ”تعاون علی الاثم و العدوان“ (برائی اور زیادتی کے کام میں تعاون) کے تحت آتا ہے۔

ایک طبقہ کی رائے ہے کہ اسلام خوشی منانے سے ہر گز منع نہیں کرتا اس لئے اس دن خوشی منانے میں کوئی حرج نہیں۔ مزید یہ کہ آپ ان کے طریقے مت اپنائیں بلکہ اسلامی طریقے اپناکر اسلامی انداز میں یہ دن منا سکتے ہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔ افسوس ہے ان دانشوروں پر ۔ طریقہ بدلنے سے کوئی غلط کام جائز نہیں ہو جاتا۔ اگر خوشی ہی منانی ہے تو کسی اور دن کا انتخاب کر لیجئے۔ اسی دن منانا ضروری ہے؟

اس دن خوشی منانے کا مطلب ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے، اور اسلام کی واضح تعلیمات ہیں کہ ”جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہے“ اب ہر انسان خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کن میں سے ہونا پسند کرتا ہے۔

یہ تو مذہبی پہلو ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی پہلو سے یہ دن جو برائیاں ساتھ لاتا ہے وہ کوئی بھی شریف النفس قبول نہیں کر سکتا۔ مغربی اور غیر اسلامی معاشروں کا جو کلچر میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو یہ دن منانے کی دعوت دیتا ہے ، وہ طریقے بھی سکھاتا ہے، اس دن کی راہ و رسم سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔ محبت اور عشق کے خوبصورت پردوں میں جنسی بے راہ روی اس دن کا خاصہ ہے۔ بظاہر محبت کا پرچار ہے لیکن درحقیقت تباہی ہی تباہی ہے ۔ اخلاق کی تباہی، معاشرتی اقدار کی تباہی، وسائل اور اوقات کی تباہی اور بالآخر خاندانی نظام کی تباہی۔

یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس برائی کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ لوگوں میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے آگہی پیدا کریں، اس دن اور ایسے دیگر تہواروں کی خرابیوں اور خرافات سے اپنی نوجوان نسل کو آگا کرنے کے ساتھ اسے اس دلدل میں گرنے سے بچانے کی کوشش کریں۔

بطور خاص وطن عزیز جن اخلاقی، معاشرتی، اور معاشی بحرانوں سے گزر رہا ہے وہ کسی صورت بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تہواروں پر سرکاری طور پر پابندی لگائیں۔ تاکہ اخلاقی اور جانی نقصان کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کا نقصان بھی روکا جا سکے۔

اگر ہم نے ابھی آنکھیں نہ کھولیں، اپنی روایات کا پاس نہ رکھا اور مغرب کی تقلید میں مست رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم اخلاقی زوال میں مغرب سے آگے نکل جائیں۔

اپنی ملت پے قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی


تحریر: راجہ اکرام
ذیلی ناظم پاک نیٹ

Monday, February 8, 2010

خوش فہم

خوش فہم

یہ جو نور کی اک ہلکی سی کرن پھوٹی ہے
کون کہتا ہے اسے صبح ِ درخشاں ،اے دوست
مجھ کو احساس ہے ،باقی ہے شبِ تار ابھی
لیکن اے دوست !
مجھے چند لمحے خوش فہم تو رہنے دے
کم سے کم نور نے الٹا تو ہے اک بار نقاب
اک لمحے کو تو ٹوٹا ہے طلسمِ شبِ تار
اس سے ثابت تو ہوا کہ صبح بھی ہو سکتی ہے
پردہ ظلمتِ شب چاک بھی ہو سکتا ہے
صبح ِ کاذب بھی تو ہے اصل میں دیباچہ صبح
صبح ِ کاذب بھی تو ہے صبح درخشاں کی نوید
ایک اعلان، کہ ہنگامِ وداعِ شب ہے
قافلہ نورِ سحر کا ہے بہت ہی نزدیک
جلد ہونے کو ہے خورشیدِ درخشاں کی نمود
ہاں اس طرح چند لمحے ہی سہی
اے دوست!
مجھےخوش فہم تو رہنے دے۔۔

انتخاب: حریم خان
پاک نیٹ
!!

مجھے یقیں ہے

مجھے یقیں ہے

یہ رات ہوگی طویل کتنی
بلند ہو گی فصیل کتنی
یہ خوف و دہشت کا دور دورہ
رہے گا کب تک؟
فلک سے برسے گی راکھ کب تک؟
ستارے ٹوٹیں گے آسماں سے
پرند روٹھیں گے آشیاں سے
یہ پھول ، پتے ، ہوائیں ، شبنم
کریں گے کس کس کا اور ماتم
سیاہ پر ہول آندھیوں کا
یہ موج میلہ
رہے گا کب تک؟
کڑکتی ، بے چین بجلیوں کے مقابلے میں
شجر اکیلا رہے گا کب تک؟
مجھے یقیں ہے
پھریں گے دھرتی کے دن یقیناً
کبھی تو بندوں پہ لطفِ رب انعام ہوگا
حسین تتلی کے نرم و نازک پروں کی جنبش
دھنک کے خوش دیدہ رنگ ہر سو
بکھیر دے گی
مجھے یقیں ہے
کہ کل کے سورج کی مسکراہٹ
زمیں کے محروم باسیوں کو
نئی سحر کا پیام دے گی
لبوں کو اذنِ کلام دے گی
مجھے یقیں ہے وہ دن بھی آئے گا
جب بہار لمحوں کی گنگناہٹ
سنائی دے گی
کبھی تو دیکھے گا سر اٹھا کر
چمن میں ننھا سا کوئی پودا
کبھی تو دیکھے گا بادلوں کا ہٹا کے گھونگھٹ
کہیں پہ چھوٹا سا ایک ستارہ
کبھی تو نکلے گا چاند پورا
یہ گھر یہ آنگن چمک اٹھے گا
فلک سے برسیں گی نور کرنیں
زمیں کا دامن چمک اٹھے گا
کبھی تو اترے گا آسماں سے کوئی فرشتہ
پڑھے گا چہرے پہ جو لکھا ہے
سنے گا وہ بھی جو ہم نے اب تک
نہیں کہا ہے
مجھے یقیں ہے

انتخاب: حریم خان
پاک نیٹ