Monday, February 8, 2010

مجھے یقیں ہے

مجھے یقیں ہے

یہ رات ہوگی طویل کتنی
بلند ہو گی فصیل کتنی
یہ خوف و دہشت کا دور دورہ
رہے گا کب تک؟
فلک سے برسے گی راکھ کب تک؟
ستارے ٹوٹیں گے آسماں سے
پرند روٹھیں گے آشیاں سے
یہ پھول ، پتے ، ہوائیں ، شبنم
کریں گے کس کس کا اور ماتم
سیاہ پر ہول آندھیوں کا
یہ موج میلہ
رہے گا کب تک؟
کڑکتی ، بے چین بجلیوں کے مقابلے میں
شجر اکیلا رہے گا کب تک؟
مجھے یقیں ہے
پھریں گے دھرتی کے دن یقیناً
کبھی تو بندوں پہ لطفِ رب انعام ہوگا
حسین تتلی کے نرم و نازک پروں کی جنبش
دھنک کے خوش دیدہ رنگ ہر سو
بکھیر دے گی
مجھے یقیں ہے
کہ کل کے سورج کی مسکراہٹ
زمیں کے محروم باسیوں کو
نئی سحر کا پیام دے گی
لبوں کو اذنِ کلام دے گی
مجھے یقیں ہے وہ دن بھی آئے گا
جب بہار لمحوں کی گنگناہٹ
سنائی دے گی
کبھی تو دیکھے گا سر اٹھا کر
چمن میں ننھا سا کوئی پودا
کبھی تو دیکھے گا بادلوں کا ہٹا کے گھونگھٹ
کہیں پہ چھوٹا سا ایک ستارہ
کبھی تو نکلے گا چاند پورا
یہ گھر یہ آنگن چمک اٹھے گا
فلک سے برسیں گی نور کرنیں
زمیں کا دامن چمک اٹھے گا
کبھی تو اترے گا آسماں سے کوئی فرشتہ
پڑھے گا چہرے پہ جو لکھا ہے
سنے گا وہ بھی جو ہم نے اب تک
نہیں کہا ہے
مجھے یقیں ہے

انتخاب: حریم خان
پاک نیٹ

No comments:

Post a Comment