Monday, February 8, 2010

خوش فہم

خوش فہم

یہ جو نور کی اک ہلکی سی کرن پھوٹی ہے
کون کہتا ہے اسے صبح ِ درخشاں ،اے دوست
مجھ کو احساس ہے ،باقی ہے شبِ تار ابھی
لیکن اے دوست !
مجھے چند لمحے خوش فہم تو رہنے دے
کم سے کم نور نے الٹا تو ہے اک بار نقاب
اک لمحے کو تو ٹوٹا ہے طلسمِ شبِ تار
اس سے ثابت تو ہوا کہ صبح بھی ہو سکتی ہے
پردہ ظلمتِ شب چاک بھی ہو سکتا ہے
صبح ِ کاذب بھی تو ہے اصل میں دیباچہ صبح
صبح ِ کاذب بھی تو ہے صبح درخشاں کی نوید
ایک اعلان، کہ ہنگامِ وداعِ شب ہے
قافلہ نورِ سحر کا ہے بہت ہی نزدیک
جلد ہونے کو ہے خورشیدِ درخشاں کی نمود
ہاں اس طرح چند لمحے ہی سہی
اے دوست!
مجھےخوش فہم تو رہنے دے۔۔

انتخاب: حریم خان
پاک نیٹ
!!

No comments:

Post a Comment