اے ماہ ربیع الاول
تیری قسمت کے قربان
تیرے بارہویں روز کو آیا
نبیوں کا سلطان
وہ سلطان کہ جس نے توڑے جہل کے سارے مان
امن ، محبت ، بھائی چارہ
جس نے کیا ہے عام
ہم اس پاک نبی کی امت
کہلاتے شرمائیں
جب آنکھوں کے سامنے آئیں
روتی بہنیں مائیں
ہر سو پھیلی لاشیں،
خون کی لالی،
پھٹتے بموں کے شور سے
اڑتے دھویں کے بادل
چیختے بچے،
گم سم چہرے
بجتےسائرن
اور
وہی بے ربط سے، معنوں سے خالی جملے
ہم اس پاک نبی کی امت
کہلاتے شرمائیں
جس نے اپنے دشمن سے بھی
پیار کا سبق پڑھایا۔
اے ماہ ربیع الاول
تیری قسمت کے قربان
تیرے بارہویں روز کو آیا
نبیوں کا سلطان
؎
جس سلطان کا یہ فرمان ہے
ایک انسان کا قتل ہے گویا انسانیت کا خون
اس سلطان کی امت
پھر سے راہیں بھول گئی
اسکی باتیں بھول گئی
اے ماہ ربیع الاول
ہم کو پھرسے
پیار ے نبی کی پیاری باتیں
یاد دلادے
ہم کو پیار سکھادے
M. Noor Asi
No comments:
Post a Comment