Monday, May 31, 2010

تم چپ رہنا

کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں
تم کہ دینا
اک سپنا ہے
جو میں نے اکثر دیکھا ہے
گولگتا ہے کچھ غیروں سا
پر میرے لئے تو اپنا ہے

کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں

تم کہ دینا
یہ ڈھرکن ہے
جو میرے دل جو میرے دل میں بستی ہے
جومیری دل پر حاوی ہے


کوئی تم سے پو چھے کون ہوں میں

تم کہ دینا
یہ میرے روپ کا زیورہے
یہ کنگن ہے
جو میرے ہاتھ میں سجتا ہے
یہ موتی ہے
جو میرے ماتھے ٹیکا ہے

تم کہ دینا

یہ سب کچھ ہے
تم کہ دینا
تم کہ دینا
پر کیسے کہو گی
یہ سب کچھ
میں جانتا ہوں

تم کچھ بھی بول نہ پاو گی

تم کچھ بھی کہ نہ پاو گی

میں جانتاہوں

تم چب چب رہنے والی نے
کیا کہنا ہے
کیا بولناہے

پریاد رکھو


خاموشی بھی تو بولتی ہے

تم ہونٹوں کو تو سی لوگی
پر آنکھیں کب چپ رہتی ہیں
ان دیکھے سپنے دیکھتی ہیں
انجانی باتیں کہتی ہیں


کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں

تم چپ رہنا
بس چپ رہنا

Sunday, May 30, 2010

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
مرا لفظ لٍفظ ہو آئینہ تجھے آئینے میں اتار لوں

میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا
ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر ترے ساتھ شام گزار لوں

اگر آسماں کی نمائشوں میں مجھے بھی اذن قیام ہو

تومیں موتیوں کی دکان سے تری بالیاں ترے ہار لوں

کہیں اور بانٹ دے شہرتیں کہیں اور بخش دے عزتیں

مرے پاس ھے مرا آئینہ میں کبھی نہ گردو غبار لوں

کئی اجنبی تری راہ میں مرے پاس سے یوں گزر گئے

جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی ترا نام لے کے پکار لوں

Tuesday, May 25, 2010

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں
اِک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں
کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
پرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں
ہم کو ستم عزیز، ستم گر کو ہم عزیز
نا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں
بوسہ نہیں، نہ دیجیے دشنام ہی سہی
آخر زباں تو رکھتے ہو تم، گر دہاں نہیں
ہر چند جاں گدازئِ قہروعتاب ہے
ہر چند پشت گرمئِ تاب و تواں نہیں
جاں مطربِ ترانہ ھَل مِن مَزِید ہے
لب پر دہ سنجِ زمزمۂِ الاَماں نہیں
خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم
دل میں چُھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں
ہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
ہے عارِدل نفس اگر آذر فشاں نہیں
نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں
کہتے ہو “ کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں“
گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
رُوح القُدُس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں
جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی
غالب کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں‌نہیں

نور کی سچائی

نور کی سچائی

جو نور کی سچائی کو لکھتے ہیں زمیں پر

اس طرح کے مہتاب بھی اترے ہیں کہیں پر



احساس ہیں یہ تیری رفاقت کے کرشمے


بانہوں میں تری لگتا تھا ہیں عرشِ بریں پر



آنچل میں ٹکے تیرے تبسم کے ستارے


جھومر کی طرح خواب نگاہوں کی جبیں پر



وہ رُخ کو مرے دیکھتا جاتا تھا مسلسل


اور تتلیاں دھڑکن کی اُڑیں دل کی زمیں پر



ہاں صدقِ محبت سے ملا کرتی ہے منزل


تم پختہ عقیدہ تو رکھو اپنے یقیں پر



اخلاص کے مخمل میں ہیں پیوند وفائیں


قیمت یہی لکھی ہے مرے دل کی نگیں پر



سہمی ہوئی خواہش پہ ابھی جس کا اثر ہے


وہ چوٹ ہے صدمات کی اس جانِ حزیں پر

Friday, May 21, 2010

مذاق ہی مذاق میں

مذاق ہی مذاق میں

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں

بنے پھر اُن کے ہمسفر مذاق ہی مذاق میں
پڑے رہے پھرا ن کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہوگئی بسر مذاق ہی مذاق میں
ہوا ہے جدے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آگئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں
لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ
اُبل پڑے کئی گڑ مذاق ہی مذاق میں
اٹھو کہ اَب نمازِ فجر کے لئے وضو کریں
کہ رات تو گئی گزر مذاق ہی مذاق میں
یہاں عنایت آپ کو مشاعروں کی داد نے
چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں


عنایت علی خاں

مرے ھمدم ، مرے دوست

مرے ھمدم ، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقین ھو کہ ِترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی ، ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرفِ تسلّی وہ دوا ھو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ھوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ھو جائے

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
روز و شب ، شام و سحر
میں تجھے بہلاتا رھوں
میں تجھے گیت سناتا رھوں
ھلکے ، شیریں
آبشاروں کے
بہاروں کے ،
چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے ،
مہتاب کے ،
سیّاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن و محبت کی
حکایات کہوں

کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
گرم ھاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ھیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ھوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ھیں
کس طرح عارضِ محبوب کا شفّاف بلور
یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ھے
کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ھے خود شاخِ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ھے

یونہی گاتا رھوں ، گاتا رھوں تیری خاطر
گیت ُبنتا رھوں، بیٹھا رھوں تیری خاطر
پر مرے گیت ترے دکھ کا ُمداوا ھی نہیں
نغمہ جرّاح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں ، مرھم ِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں،
نشتر کے سوا
اور یہ سفّاک مسیحا
مرے قضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ھاں مگر تیرے سوا ،
تیرے سوا ،
تیرے سوا

فیض احمد فیض

Thursday, May 20, 2010

کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے

کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے

کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے
جو یوں کیا ھے تو پھر کیوں گلہ کرو اس سے

نصیب پھر کوئی تقریبِ قرب ہو کہ نہ ہو
جو دل میں ہوں وہی باتیں کہا کرو اس سے

یہ اہل بزم تنک حوصلہ سہی پھر بھی
ذرا فسانہ دل ابتدا کرو اس سے

یہ کیا کہ تم ہی غم ہجر کے فسانے کہو
کبھی تو اس کے بہانے سنا کرو اس سے

فراز ترکِ تعلق تو خیر کیا ہو گا !
یہی بہت ھے کہ کم کم ملا کرو اس سے