Friday, May 21, 2010

مذاق ہی مذاق میں

مذاق ہی مذاق میں

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں

بنے پھر اُن کے ہمسفر مذاق ہی مذاق میں
پڑے رہے پھرا ن کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہوگئی بسر مذاق ہی مذاق میں
ہوا ہے جدے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آگئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں
لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ
اُبل پڑے کئی گڑ مذاق ہی مذاق میں
اٹھو کہ اَب نمازِ فجر کے لئے وضو کریں
کہ رات تو گئی گزر مذاق ہی مذاق میں
یہاں عنایت آپ کو مشاعروں کی داد نے
چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں


عنایت علی خاں

No comments:

Post a Comment