Tuesday, May 25, 2010

نور کی سچائی

نور کی سچائی

جو نور کی سچائی کو لکھتے ہیں زمیں پر

اس طرح کے مہتاب بھی اترے ہیں کہیں پر



احساس ہیں یہ تیری رفاقت کے کرشمے


بانہوں میں تری لگتا تھا ہیں عرشِ بریں پر



آنچل میں ٹکے تیرے تبسم کے ستارے


جھومر کی طرح خواب نگاہوں کی جبیں پر



وہ رُخ کو مرے دیکھتا جاتا تھا مسلسل


اور تتلیاں دھڑکن کی اُڑیں دل کی زمیں پر



ہاں صدقِ محبت سے ملا کرتی ہے منزل


تم پختہ عقیدہ تو رکھو اپنے یقیں پر



اخلاص کے مخمل میں ہیں پیوند وفائیں


قیمت یہی لکھی ہے مرے دل کی نگیں پر



سہمی ہوئی خواہش پہ ابھی جس کا اثر ہے


وہ چوٹ ہے صدمات کی اس جانِ حزیں پر

No comments:

Post a Comment