جو نور کی سچائی کو لکھتے ہیں زمیں پر
اس طرح کے مہتاب بھی اترے ہیں کہیں پر
احساس ہیں یہ تیری رفاقت کے کرشمے
بانہوں میں تری لگتا تھا ہیں عرشِ بریں پر
آنچل میں ٹکے تیرے تبسم کے ستارے
جھومر کی طرح خواب نگاہوں کی جبیں پر
وہ رُخ کو مرے دیکھتا جاتا تھا مسلسل
اور تتلیاں دھڑکن کی اُڑیں دل کی زمیں پر
ہاں صدقِ محبت سے ملا کرتی ہے منزل
تم پختہ عقیدہ تو رکھو اپنے یقیں پر
اخلاص کے مخمل میں ہیں پیوند وفائیں
قیمت یہی لکھی ہے مرے دل کی نگیں پر
سہمی ہوئی خواہش پہ ابھی جس کا اثر ہے
وہ چوٹ ہے صدمات کی اس جانِ حزیں پر
No comments:
Post a Comment