Sunday, May 30, 2010

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
مرا لفظ لٍفظ ہو آئینہ تجھے آئینے میں اتار لوں

میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا
ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر ترے ساتھ شام گزار لوں

اگر آسماں کی نمائشوں میں مجھے بھی اذن قیام ہو

تومیں موتیوں کی دکان سے تری بالیاں ترے ہار لوں

کہیں اور بانٹ دے شہرتیں کہیں اور بخش دے عزتیں

مرے پاس ھے مرا آئینہ میں کبھی نہ گردو غبار لوں

کئی اجنبی تری راہ میں مرے پاس سے یوں گزر گئے

جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی ترا نام لے کے پکار لوں

No comments:

Post a Comment