Friday, July 30, 2010

دشمن ہوں تو نظروں سے گرا کیوں نہیں دیتے

دشمن ہوں تو نظروں سے گرا کیوں نہیں دیتے
اپنا ہوں ، تو پھر دل میں جگہ کیوں نہیں دیتے

ہے بات محبت کی ، تو پھر سب سے محبت
ہم دل سے عداوت کو مٹا کیوں نہیں دیتے

ہرموڑ پہ لٹ جا تے ہیں ، کیوں قا فلے والے
راہبر ہی تو راہزن ہیں بتا کیوں نہیں دیتے

جب ظلم بڑھے حد سے تو پھر چپ ہے بڑا ظلم
تم لوگ کوئی حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

مظلوم ہیں ، لاچار ہیں، داہر کے ستائے
یہ پھر کسی بن قاسم کو صدا کیوں نہیں دیتے

معصوم ہے پھانسی پہ ، تو مظلوم کو کوڑے
منصف ہو تو مجرم کو سزا کیوں نہیں دیتے

مہنگا ئی ہے، نا یا بی ہے ہر روز کا مرنا
اک بار ہی پھانسی پہ چڑھا کیوں نہیں دیتے


اغیا ر کے وعدے ہوں ، وعیدیں ہوں کہ معاہدے
سب جھوٹ ہیں، دامن کو چھڑا کیوں نہیں دیتے

اب خواب نہیں ، اٹھو کوئی تعبیر تراشیں
"سوئے ہوئے انساں کو جگا کیوں نہیں دیتے"

ماہ رمضان کیلئے سامان کی خریداری۔ کیا ابھی سے؟


ماہ رمضان کیلئے سامان کی خریداری۔ کیا ابھی سے؟

دوستو، بہنو اور بھائیو
کل میری بیگم مجھے کہنے لگی
رمضان آنے والا ہے۔ بہتر ہو گا کچھ چیزیں ابھی سے خرید لی جا ئیں۔ کیونکہ بعد میں تو اتی مہنگا ئی ہو جائے گی کہ چیزوں کو ہاتھ لگا نا بھی مشکل ہوگا۔
میں بے بیگم کو " اچھا ٹھیک ہے" کہ کے ٹال دیا مگر سو چ میں پڑ گیا ۔۔۔

یہ ہم کیسے مسلمان ہیں۔؟
اس ماہ کی برکتیں چیزیں مہنگی کرکے حاصل کرنا چا ہتے ہیں؟

رمضان سے ایک ہفتہ پہلے بازاروں میں وہ رش ہو تا ہے کہ الا مان
لوگوں میں سامان اکٹھا کر نے کا گو یا مقا بلہ جاری ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر جہآں حیرت ہو تی ہے۔ وہیں افسوس بھی ہو تا ہے۔ کیونکہ تما م تر حکومتی دعووں کے با وجود ہر چیز کے نرخ ما ہ رمضان میں آسمان سے با تیں کرنے لگتے ہیں۔ اب لوگ اگر پہلے سے خریداری نہ کریں تو کیا کریں۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہر فرد ایسے ذرائع رکھتا ہے کہ ایک ماہ پہلے ہی ہزاروں کا سامان خرید سکے۔
یقینا نہیں۔
گویا سب سے زیا دہ مہنگا ئی کا بوجھ وہ طبقہ اٹھا ئے گا جو پہلے سے خریداری کرنا افورڈ نہیں کرتا۔۔

دنیا بھر میں مذہبی تہواروں پر چیزیں سستی کر دی جا تی ہیں مگر ہمارے ہا ں الٹ ہو تا ہے۔
کیوں؟
ہم کیسے مسلمان ہیں۔؟


میرے ایک دوست مجھے ایک واقعہ سنا رہے تھے۔

وہ ایک ٹریننگ کے سلسلے میں لندن گئے ۔ وہاں ایک سٹور سے انہوں نے ایک شرٹ خریدی جو بہت سستی تھی ۔
وہ جب واپس پاکستا ن آئے تو دوستوں نے شرٹ بہت پسند کی ۔ اور قیمت پوچھی تو سب حیران رہ گئے ۔ کہ یہ تو پا کستان سےبھی سستی ہے اور کوالٹی بہت عمدہ ہے۔
چنا نچہ کچھ عرصہ بعد ان کے ایک اور دوست لندن گئے تو اس نے خصوصی طور اس دکان کا پتہ سمجھا یا اور کہا کہ وہاں سے اسی طرح کی چند شرٹیں اور لیتے آنا۔

وہ دوست جب واپس آئے تو اس نے بتا یا کہ اب تو شرٹ انتہائی مہنگی تھیں۔ اور قیمت دگنے سے بھی زیا دہ تھی۔ میں نے آپ کا حوالہ دیا کہ چند ماہ بیشتر میرا ایک دوست یہاں سے یہی شرٹ آدھی قیمت سے بھی کم پر لے گیا ہے۔ تو دوکاندار جو کہ ایک یہودی تھا ۔ ماننے کو تیا ر نہ تھا کہ اتنی سستی شرٹ تو دو سال پہلے بھی نہ تھی۔ پھر اچانک کہنے لگا
" اچھا آپ کے دوست کس ما ہ کی کن تاریخوں میں لندن آئے تھے"
جب میں نے مہینہ اور تاریخ بتا ئی تو کہنے لگا
" با لکل صحیح ۔ ہم ان دنوں میں یہ شرٹ واقعی آدھی سے بھی کم قیمت پر بیچ رہے تھے کیونکہ ہمار ا مذہبی تہوار چل رہا تھا مگر اب قیمت کسی صورت کم نہیں ہو گی"

واہ واہ
غیر مسلم تو اپنے مذہبی تہواروں کو ایسے جذبے سے منا ئیں کہ ہراچھی کوالٹی کی چیز کی ہر امیر وغریب تک رسا ئی ہو
اور ہم ۔۔۔۔
بس آگے کچھ لکھنے ہو ئے ۔۔۔ شرم آتی ہے۔۔۔۔

Thursday, July 22, 2010

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون4

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون
یہ صورت حال کا فی خطرناک نظر آرہی تھی ۔
کیونکہ مس کا لوجسٹ سے بات کرنے کے بعد جب میں نے غور کیا تو
یہ بات واضح ہو ئی کہ میں ان معصوم شہریوں میں شا مل ہوں جو اس سائنس کا شکا ر ہو چکے ہیں
میں خود کئی ایسے پیشنٹس کو کال کرچکا ہوں جنہوں نے مس کا ل مارکر
دس دس منٹ بات کی ۔
کئی واقفت کا ر میرے خرچے پر آدھا آدھا گھنٹہ بات کرتے رہے۔ اور میں سمجھتا رہا
کہ وہ میری ہمدردی میں بات کررہے ہیں ۔ حالانکہ انہوں نے مس کالوجی کی سا ئنس استعمال کی تھی۔
میں اس صورت حال پر کا فی پریشان ہو ا تو ایک ماہر مس کا لیا ت سے رابطہ کیا
جنہوں نے کچھ نکتے سمجھا ئے
آپ بھی سنئے ، سر دھنئے ، اور عمل کیجیئے

- مس کال سے بچنے کیلئے اپنا موبا ئل ہا تھ میں رکھیں۔

انگلی یس بٹن پر ہو۔
- موبائل وائبریشن پر رکھیں ۔
جیسے ہی وائبر یشن ہو ۔ نمبر دیکھے بغیر یس کا بٹن پر یس کر دیں۔
منا سب ہو کہ موبا ئل پر لائٹ سسٹم لگوا لیں ۔
جیسے لائٹ جلے ۔ یس کا بٹن دبا دیں۔
امید ہےدوچار کا لیں بجایے مس کال کے مسٹر کا ل ہو نے سے دشمن کا دماغ اور بیلنس ٹھکا نےپر آ جا ئے گا۔

تو یہ تھا مس کا لوجی کا تعارف ۔

امید ہے آپ کو نئے سائنسی اور فنی مضمون سے دلچسپی پیدا ہو ئی گی ۔
آج ہی کسی ماہر مس کا لو جسٹ سے رابطہ کریں۔

زندگی رہی تو مزید تفصیلا ت پھر کبھی ۔

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون3

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی کے فن سے ناواقف جہاں اپنا بیلنس بھی ضائع کر بیٹھتے ہیں اور بات بھی نہیں ہو پاتی ۔ وہیں اس کے سائنس کے ماہرین اس سے بے تحا شا فوائد بھی حا صل کررہے ہیں ۔
ایک ماہر مس کا لوجسٹ نے بتا یا کہ مس کال مارنے کے اہم نکا ت درج ذیل ہیں

-
وقت
مس کال مارنے کا وقت موزوں ہو نا چا ہیے ۔ یعنی ایسا وقت جب مس کال " وصولی" کا امکان نہ ہو۔ ورنہ مس کال مسٹر کا ل ہو جا ئے گی ۔ یعنی لینے کے دینے پڑ جا ئیں گے۔
ماہر مس کا لوجسٹ کے بقول جس بندے یا بندی کو مس کال مارنی ہو اسکے معمولات سے واقفیت بہت ضروری ہے

مس کا ل کا دورانیہ
یہ بہت اہم ہے۔ مس کال مارتے وقت ایک انگلی ریڈ بٹن پر رکھنی چائیے ۔ جیسے ہی بیل بجے ٹھک سے کال کا ٹ دیجیئے ۔ ایک لمحے کی تا خیر گلے پڑ سکتی ہے۔
اس کے لئے پہلے ریا ضت بہت ضروری ہے۔
اپنے گھر کے افراد یا دوستوں کے ساتھ اسکی بار بار پریکٹس کر نے سے ہی کمال حا صل ہو گا۔

مس کا ل میں وقفہ کا استعمال
یہ ایک پر لطف سائنس ہے۔ جس سے آپ مس کا ل وصول کرنے والے کو جوابی کال کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
مس کا ل کبھی ایک ساتھ دوبار ہ نہیں مارنی چا ہیے ۔ اس طرح مسٹر کا ل ہونے کا احتمال بڑھ جا تا ہے
وقفے کا استعمال بھی ایک فن ہے
اس کے لیے ایک مس کا ل مارنے کے بعد لمبا وقفہ دینا چا یئے ۔
تاکہ اگر مخالف پارٹی آپ کے خلاف جا رحا نہ عزائم رکھتی ہو تو اسے انتظار کی مار دیں ۔ یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر مو بائل پاکٹ، پرس میں ڈال دے۔
پھر دوبارہ مس کا ل دیں ۔
یوں وقفوں وقفوںسے دی گئی مس کا لیں ۔ وصول کرنے والے کو زچ کر دیں گی اور اسکے پاس اس کے علا وہ چارہ نہ ہو گا کہ آپ کو کال کرے

جاری ہے

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون2

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون


مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے
یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔
بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ
مس کا لیں مارتے مارتے اپنا بیلنس زیر و کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان
ہو کر کہتے ہیں
" یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا
ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی پر"
اب ان سیدھے سادے ، مس کالوجی کے فن سے ناواقف لوگوں کو کون سمجھائے کہ
وہ تما م مس کا لیں جو انہوں نے مفت با ت کرنے کے چکر میں ماری تھیں وہ
" وصول" ہو چکی ہیں ۔ اب بیلنس زیر و تو ہو نا ہی ہے

ہماری نوجوان نسل کے قربان ۔ مس کا لوجی کے فن میں اس قدر طاق اور
اس سائنس کی باریکیوں سے اس قدر واقف ہیں کہ دس روپے سو دفعہ بات کرلیتے
ہیں اور مجا ل ہے جو ایک پیسہ بھی ضا ئع ہو
اور مس کالوں کی مخصوص تھیوری پر انکی تحقیق تو کمال کی ہے
ایک نوجوان نسل کے نمائند ہ مس کا لو جسٹ سے پچھلے دنوں بات ہوئی
وہ وہ نکتے بتا ئے کہ الامان
مثلا ۔ اگر لڑکی کو ایک مس کال ماری جا ئے تو اس کا مطلب یہ ہو گا
اور اگر دو کالیں ماری جا ئیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا
اسی طرح جو ابی کالوں کی تھیوری بھی بہت پر لطف تھی
۔۔۔
کہنے لگا " دیکھیں جی۔ ہم تو سدا سے جیب خرچ پر چلنے والے لو گ ہیں ۔
تو مس کا لوجی میں کمال حا صل کر کے ہم نے اس سا ئنس کو اپنی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔"
جاری ہے

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون1

مس کا لوجی ۔ ایک نیا مضمون

محترم قارئین

آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا

یہ مس کا لوجی کیا ہے؟
یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں

یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے

مس کال Miss Call اور لوجی
یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے

جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے

اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے

سب سے پہلے کس نے مس کال ماری- اس کے بارے میں کوئی مصدقہ حوالہ

موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہی ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو ماری ہوگی۔
راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟
جاری ہے