دشمن ہوں تو نظروں سے گرا کیوں نہیں دیتے
اپنا ہوں ، تو پھر دل میں جگہ کیوں نہیں دیتے
ہے بات محبت کی ، تو پھر سب سے محبت
ہم دل سے عداوت کو مٹا کیوں نہیں دیتے
ہرموڑ پہ لٹ جا تے ہیں ، کیوں قا فلے والے
راہبر ہی تو راہزن ہیں بتا کیوں نہیں دیتے
جب ظلم بڑھے حد سے تو پھر چپ ہے بڑا ظلم
تم لوگ کوئی حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
مظلوم ہیں ، لاچار ہیں، داہر کے ستائے
یہ پھر کسی بن قاسم کو صدا کیوں نہیں دیتے
معصوم ہے پھانسی پہ ، تو مظلوم کو کوڑے
منصف ہو تو مجرم کو سزا کیوں نہیں دیتے
مہنگا ئی ہے، نا یا بی ہے ہر روز کا مرنا
اک بار ہی پھانسی پہ چڑھا کیوں نہیں دیتے
اغیا ر کے وعدے ہوں ، وعیدیں ہوں کہ معاہدے
سب جھوٹ ہیں، دامن کو چھڑا کیوں نہیں دیتے
اب خواب نہیں ، اٹھو کوئی تعبیر تراشیں
"سوئے ہوئے انساں کو جگا کیوں نہیں دیتے"
اپنا ہوں ، تو پھر دل میں جگہ کیوں نہیں دیتے
ہے بات محبت کی ، تو پھر سب سے محبت
ہم دل سے عداوت کو مٹا کیوں نہیں دیتے
ہرموڑ پہ لٹ جا تے ہیں ، کیوں قا فلے والے
راہبر ہی تو راہزن ہیں بتا کیوں نہیں دیتے
جب ظلم بڑھے حد سے تو پھر چپ ہے بڑا ظلم
تم لوگ کوئی حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
مظلوم ہیں ، لاچار ہیں، داہر کے ستائے
یہ پھر کسی بن قاسم کو صدا کیوں نہیں دیتے
معصوم ہے پھانسی پہ ، تو مظلوم کو کوڑے
منصف ہو تو مجرم کو سزا کیوں نہیں دیتے
مہنگا ئی ہے، نا یا بی ہے ہر روز کا مرنا
اک بار ہی پھانسی پہ چڑھا کیوں نہیں دیتے
اغیا ر کے وعدے ہوں ، وعیدیں ہوں کہ معاہدے
سب جھوٹ ہیں، دامن کو چھڑا کیوں نہیں دیتے
اب خواب نہیں ، اٹھو کوئی تعبیر تراشیں
"سوئے ہوئے انساں کو جگا کیوں نہیں دیتے"
No comments:
Post a Comment