Friday, August 6, 2010

یاد ہے

یاد ہے

اپنے ہاتھوں گلشن ِ ہستی جلانا یاد ہے
وقتِ شادی احمقانہ مُسکرانا یاد ہے

زندگی اک عیش تھی اور ہرطرف رنگِ بہار

ہم کو اپنی زندگی کا وہ زمانہ یاد ہے

دوپہر کی دھوپ میں کپڑے سُکھانے کے لئے

اب میرا کوٹھے پہ ننگے پاوں جانا یاد ہے

چھین لینا پرس میرا ہر یکم کو ، اور پھر

دل جلانے کے لئے شاپنگ دکھانا یاد ہے

دیکھنا دعوت میں ہمسائی کو وہ "بِٹ بِٹ " میرا

اُس پہ بیگم کی نگہہ کا تازیانہ یاد ہے

آ گیا بُھولے سے بھی گر عقدِ ثانی کا خیال

میرے سالوں کا مجھے "پھینٹی " لگانا یاد ہے

حضرتِ انجم کہیں بیگم بھی اِس کو پڑھ نہ لیں

ورنہ پچھلی نظم پر مُرغا بنانا یاد ہے ؟

محمد اجمل انجم

Thursday, August 5, 2010

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

آپ عنوان دیکھ کر چونکے ہوں گے
شاید کہ کسی میاں بیوی کے جوڑے کی بات ہوگی

لیکن میں تو ایک اور ہی جوڑے کی بات کررہا ہوں

جی ہاں ۔۔

آنسو اور مسکراہٹ دنیا کا بہترین جوڑا ہے
مگر آنسو کے ساتھ مسکراہٹ کا تصور کچھ عجیب سا ہے
بہت منفرد سا ہے

عام زندگی میں تو آنسو جب آتے ہیں تو مسکراہٹ کو غائب کردیتے ہیں

اورمسکراہٹ چھلکتے آنسووں کو روک دیتی ہے

لیکن آپ نے کبھی وہ منظر دیکھا ہے

جب آپ چھلکتے آنسووں کے ساتھ مسکراتے ہیں
وہ منظر ، وہ لمحہ دنیا کا خوبصورت ترین منظر ، یادگارترین لمحہ ہوتا ہے
آنسو اور مسکراہٹ کا بہترین امتزاج ، بہتر ین جوڑا

ایسے لمحے بہت کم ، بہت ہی شاذ ہو تے ہیں مگر بہت قیمتی ہو تے ہیں


کیا آپ ایسے کسی لمحے سے واقف ہیں۔۔۔؟

ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم


ہم میں سے ہر شخص اپنے ماں باپ، بہن بھائی ،اولاد، دوستوں وغیرہ سے محبت رکھتا ہے اور یہ ایک فطری بات ہے ۔ ہم جس سے بھی محبت کرتے ہیں اسکی تما م تر خامیوں سمیت اسے قبول کرتے ہیں ۔ اور جب کبھی ان کے خلاف کہیں بھی بات کی جائے تو بعض اوقات جھوٹ بول کر بھی حمائت کرتے ہیں۔

لیکن اگر ایک ہستی جو جن میں کوئی خامی ہی نہ ہو۔ اور جوہماری بخشش کی خاطر راتوں کو سجدوں میں روتی رہی ہو- تو کیا ایسی ہستی کی حرمت کیلئے ہماری جان بھی چلی جائے تو ایک اعزاز نہ ہوگا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لبوں پر آتے ہی پورے جسم میں ایک بے پایاں سرور سرائت کر نے لگتا ہے۔ محبت سے آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگتے ہیں۔

میں تو یہاں کوئی اپنے جذبا ت بیان کر نا چا ہتا ہوں۔

بہت بچپن کی بات ہے۔ مجھے رونا بہت کم آتا تھا۔ تو میں سوچتا تھا کہ ایسا میرے کیوں ہے۔ کئی ایسے مواقع آئے کہ میرا جی ڈھاریں مار مار کر رونے کو چا ہا مگر پتہ نہیں کیوں میں خواہش کے با وجو د رو نہ سکا۔
پھر ایسا ہو ا کہ کسی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پڑھی اور میری آنکھو ں سے آنسو رواں ہوگئے۔
تب مجھے پتہ چلا کہ یہ آنسو تومحبت رسول کے تھے۔ سو پہلے نہ بہے۔
ہمارے لیےنبی کریم کی ذات ہر دور میں ہادی و رہبرتھی، رہی ہے، اور رہے گی۔
میں نے تو جب کبھی پریشانی مصیبت میں اپنے پیا رے نبی کو یا د کیا ۔ اپنے پیارے محبوب کے حوالے اپنے اللہ سے مانگا ۔ مجھے مل گیا۔
جب بھی درود پڑھا۔ دل میں ایک سکون سا سما گیا۔
یہ نا م جب بھی لیا - ہر درد کی دوا بنا۔
پھر میرے لئے ، ہر مسلمان کیلئے اپنے پیارے پیغمبر کی عزت و حرمت سے بڑھ کر
کچھ نہیں ۔ کچھ نہیں۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جب غازی علم دین شہید میانوالی جیل میں تھا ۔ تو قائد اعظم
اس سے ملنے گئے اور کہا کہ میں تمھا را کیس لڑوں گا۔ ہاں تمھیں اپنے بیان میں تھوڑی سی ترمیم کرنی پڑے گی۔ اور وہ یہ کہ تم کہنا۔ کہ میں نے جب شاتم رسول کو قتل کیاا تھا تو جذبات کے غلبے میں تھا اور ہوش و حواس میں نہ تھا۔
اگر تم یہ کہ دو تومیں تمھیں شا ید پھانسی سے بچانے سے کا میاب ہو جاوں۔
قربان عاشق رسول پر کہ اس نے کہا
پھانسی ملتی ہے تو ملے۔ لیکن میں نے زندگی میں یہی ایک کام تو پورے ہوش وحواس سے کیا ہے۔ لہذا اپنے اقبالی پر قائم رہوں گا ۔ چائے پھائسی کی سزا ہی کیوں نہ ملے۔

دوستو محبت کبھی اپنے محبوب کی بے حرمتی برداشت نہیں کرتی

اور ہماری محبت اپنے پیارے رسول کیلئے سب محبتوں سے بڑھ کر ہے
ہم میں سے ہر محب رسول اپنی استطاعت کے مطابق ، شاتم رسول کے خلاف اپنا کردار ضرور ادا کرے۔
اس سلسلے میں اپنے جذبا ت کا اظہار بھر پور طریقے سے کرے۔ اور ہمیشہ اپنے سامنے حضرت بلال،حضرت اویس کی مثال رکھے
اللہ کی ذات ہم سب کو عشق رسول سے سرافراز فرمائے۔
آمین

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہء بطحا کی حرمت پر

خدا شا ہد ہے کامل میر ا ایماں ہو نہیں سکتا

ڈاکٹر نور