یاد ہے
اپنے ہاتھوں گلشن ِ ہستی جلانا یاد ہے
وقتِ شادی احمقانہ مُسکرانا یاد ہے
زندگی اک عیش تھی اور ہرطرف رنگِ بہار
ہم کو اپنی زندگی کا وہ زمانہ یاد ہے
دوپہر کی دھوپ میں کپڑے سُکھانے کے لئے
اب میرا کوٹھے پہ ننگے پاوں جانا یاد ہے
چھین لینا پرس میرا ہر یکم کو ، اور پھر
دل جلانے کے لئے شاپنگ دکھانا یاد ہے
دیکھنا دعوت میں ہمسائی کو وہ "بِٹ بِٹ " میرا
اُس پہ بیگم کی نگہہ کا تازیانہ یاد ہے
آ گیا بُھولے سے بھی گر عقدِ ثانی کا خیال
میرے سالوں کا مجھے "پھینٹی " لگانا یاد ہے
حضرتِ انجم کہیں بیگم بھی اِس کو پڑھ نہ لیں
ورنہ پچھلی نظم پر مُرغا بنانا یاد ہے ؟
محمد اجمل انجم
اپنے ہاتھوں گلشن ِ ہستی جلانا یاد ہے
وقتِ شادی احمقانہ مُسکرانا یاد ہے
زندگی اک عیش تھی اور ہرطرف رنگِ بہار
ہم کو اپنی زندگی کا وہ زمانہ یاد ہے
دوپہر کی دھوپ میں کپڑے سُکھانے کے لئے
اب میرا کوٹھے پہ ننگے پاوں جانا یاد ہے
چھین لینا پرس میرا ہر یکم کو ، اور پھر
دل جلانے کے لئے شاپنگ دکھانا یاد ہے
دیکھنا دعوت میں ہمسائی کو وہ "بِٹ بِٹ " میرا
اُس پہ بیگم کی نگہہ کا تازیانہ یاد ہے
آ گیا بُھولے سے بھی گر عقدِ ثانی کا خیال
میرے سالوں کا مجھے "پھینٹی " لگانا یاد ہے
حضرتِ انجم کہیں بیگم بھی اِس کو پڑھ نہ لیں
ورنہ پچھلی نظم پر مُرغا بنانا یاد ہے ؟
محمد اجمل انجم
No comments:
Post a Comment