Tuesday, September 28, 2010

میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں




خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں
میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

اُوپر سے اُتر کے تازہ دم تھا
نیچے سے اُتر کے تھک گیا ہوں

اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو
اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں

میں یعنی ازل کا آرمیدہ
لمحوں میں بِکھر کے تھک گیا ہوں

اب جان کا میری جسم شَل ہے
میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں

جون ایلیاء

Monday, September 27, 2010

بکھرنے سے نہ روکے کوئی


بکھرنے سے نہ روکے کوئی

عکسِ خوشبو ہوں،بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بِکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اُٹھتی ہوں مَیں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب مرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اِس طرح سے نہ کبھی ٹُوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اُس دِن سے ہراساں ہوں کہ جب حُکم ملے
خشک پُھولوں کی کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آہٹ ،کوئی آواز ،کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں کوئی


پروین شاکر

شہر بھر میں سب سے اونچا

شہر بھر میں سب سے اونچا گھر بنانے کے لیے
بجلیاں چنتے رہے ہم آشیانے کے لیے

دست و پا شل ہوں تو ساحل دور کیا نزدیک کیا

ایک قطرہ ہی بہت ہے ڈوب جانے کے لیے

کوئی آنسو،کوئی شعلہ ،کوئی تارہ کوئی پھول

کوئی تو سوغات دے جاؤ زمانے کے لیے

کتنی شمعیں بجھ گئیں کتنے ستارے سو گئے

اک کرن کا جشن بیداری منانے کے لیے

میرا چہرہ دیکھنے والوں کو کیا معلوم ہے

کتنےآنسو پی گیا ہوں مسکرانے کے لیے

حیف ان پھولوں پہ جن کے رنگ ہو جاتے ہیں قتل

کچھ گھروں کی چند دیواریں سجانے کے لیے

Sunday, September 26, 2010

محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا

محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا



محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا
بہت آساں نہیں ہوتا جدائی مانگتے رہنا

ذرا سا عشق کر لینا،ذرا سی آنکھ بھر لینا

عوض اِس کے مگر ساری خدائی مانگتے رہنا

کبھی محروم ہونٹوں پر دعا کا حرف رکھ دینا

کبھی وحشت میں اس کی نا رسائی مانگتے رہنا

وفاؤں کے تسلسل سے محبت روٹھ جاتی ہے

کہانی میں ذرا سی بے وفائی مانگتے رہنا

عجب ہے وحشت ِ جاں بھی کہ عادت ہو گئی دل کی

سکوتِ شام ِ غم سے ہم نوائی مانگتے رہنا

کبھی بچے کا ننھے ہاتھ پر تتلی کے پر رکھنا

کبھی پھر اُس کے رنگوں سے رہائی مانگتے رہنا


نوشی گیلانی

کتاب: محبتیں جب شمار کرنا