محترم ساتھیو
عید قربان میں اب چند ہی دن باقی ہیں
جگہ جگہ عید کے جانوروں کے میلے سجے ہیں، اور
لوگ جانوروں کے ریٹ پوچھ کر ہی دل بہلا رہے ہیں
سچ تو یہ ہے اب کی بار قربانی جانور کی نہیں اپنی جان کی لگ رہی ہے کہ قیمتیںآسمان کو چھو رہی ہیں۔
یہ فرض بھی ادا کرنا ہے اور ضرور ادا کرنا ہے
ممکن ہے کہ آپ میں سے کچھ ساتھیوں نے قربانی کا جانور خرید لیا ہو
یا پھر کسی سے حصہ داری کی با ت کر لی ہو
لیکن اکثریت ابھی سوچ میں ہوگی کہ
بکرا خریدیں یا حصہ ڈالیں؟
میں الحمدللہ ہر سال بکرے کی قربانی کرتا ہوں
ایک اپنی اور ایک والدین کی
لیکن اس دفعہ تو قیمتیں سن کر میں بھی سوچ رہا ہوں کہ
کسی بڑے جانور میں حصہ ڈالیں۔۔
ایک دوست سے بات ہوئی ۔ کہنے لگا اسلام آباد سے قریب ایک جگہ
فتح جنگ سے بکرے خرید کر لانے کا پروگرام ہے۔ اگر آپ بھی ساتھ چلیں تو
گپ شپ بھی ہو جائے گی اور مناسب ہوا تو خریداری بھی کر لیں گے۔
ہو سکتا ہے ایسا ہی کریں
تاہم آپ دوستوں سے بات کرنے کا مقصد کچھ اور تھا
وہ یہ کہ قربانی کی عید پر ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟
عموما دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے قربانی کے جانور کی نمائش کا اہتما م کرتے ہیں- جو میرے خیال میں انتہائی نا مناسب ہے۔ اس سے جہاں تکبر کا پہلو نکلتا ہے- وہیں یہ فعل دوسروں کی دل آزاری کا بھی سبب بنتا ہے۔
ہم نے قربانی اللہ کی رضا کے سر جھکانے کی علامت کے طور پراور حضرت
ابراہیم کی سنت سمجھ کر دینی ہے نہ کہ محلے میں ٹور بنا نے کیلئے۔
دوسری بات گوشت کی تقسیم کے حوالے سے ہے۔ ہم لوگ زیادہ سے زیا دہ گوشت اپنے فریزر میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ
ہم زیا دہ سے زیا دہ غریب افراد تک گوشت پہچائیں۔ جن کو واقعی اسکی ضرورت ہو۔
منا سب ہو گا کہ واقف کاروں ، رشتہ داروں میں انکو گوشت بھیجا جائے جنہوں نے قربانی نہ کی ہو۔
قربانی کرنے کی جگہ ایسی ہوجس سے بعد میں پورے محلے میں گندگی نہ پھیلے
اس سلسلے میں مزید آپ کی رائے اور مشورے کی ضرورت ہے