Monday, December 6, 2010

پٹھان زندہ باد

پٹھان زندہ باد


یہ آج سے کئی سال پہلے کی بات ہے
ہم کچھ دوست پشاور میں تھے۔ ایک دن" علاقہ غیر" جانے کا پروگرام بنا
بارڈر سے ذرا پہلے ایک مشہور چپل کبا ب والا تھا
سب نے کہا یہاں چپل کباب کھاتے ہیں۔
چپل کباب کا آرڈر دے دیا گیا۔
ہمارے ساتھ ہی دوسری ٹیبل پر کچھ نوجوان پٹھان لڑکے بیٹھے تھے۔
انکی عمریں بمشکل 12 سے 14 سال ہوں گی۔
جب کباب آگئے تو
ہمارے ایک دوست نے اپنی عادت کے مطابق
کبا ب کی پلیٹ اٹھائی اور ساتھ ہی بیٹھے پٹھان لڑکوں کو
جھک کر پیش کی - اور بہت خلوص سے کہا
" یہ لو بیٹے - کباب لے لیں- اور ہمارے ساتھ مل کر کھائیں"
اب ہم سب نےبھی انہیں کھانے کی دعوت دی
لڑکوں نے بہت حیرت سے ہماری طرف دیکھا۔
اور کہا
نہیں کاکا ۔۔ ہم نے آرڈر دے دیا ہے۔ ہمارا کباب ابھی آ جا تا ہے۔
آپ کا شکریہ آپ کھائیں"
لیکن اب ان کی آنکھوں میں حیر ت کی جگہ پیار تھا۔
شاید انہیں ہمارا خلوص بھری پیشکش اچھی لگی۔
انہوں نے ہم پو چھا
آپ لو گ کدھر سے آئے ہیں۔
ہم نے بتایا کہ ہمارا تعلق پنجاب سے ہے۔
اور ادھر سیر کرنے گھومنے پھر نے آئے ہیں۔
اتنی دیر میں ان کے کباب بھی آگئے اور سب اپنے اپنے کھا نے میں
مصروف ہو گئے۔
ہم گپیں بھی لگاتے رہے اورکبا ب بھی کھاتے رہے۔
کبا ب واقعی بہت مزیدارتھے۔
ہم کبا ب کھا کر فارغ ہوئے تو قہوہ آگیا ۔
ہم نے قہوے کا آرڈر تو نہیں دیا تھا۔ تاہم سب نے کہاکہ اب آگیا ہے
تو پی لیتے ہیں۔
قہوہ پی کر ہم لوگ اٹھے اور پیسے دینے لگے تو
کبا ب والا بولا
" آپ کا پیسے ہو گیا ہے"
ہم حیران رہ گئے۔
" کیسے؟ ہمارا مطلب ہے کس نے دیے ہمارے پیسے؟"
بات تھی بھی حیرت کی ۔ ہمارا ادھر کوئی جاننے والا نہ تھا۔
اس سے پہلے کہ کباب والے خان بھائی بولتے۔
ہمارے ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھے لڑکوں میں سے ایک لڑکا اٹھ کر آیا
اور کہا کہ آپ کے کباب اور قہوے کے پیسے میں نے دے دیا ہے۔
"وہ کس لئے؟"
"وہ اس لئے کہ تم ہمارا مہمان ہے"
ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ لڑکے نہ مانے۔
پھر وہ لڑکے ہمارے ساتھ کا فی دیر رہے۔ ہمیں شاپنگ کروائی
اور بہت سستی کروائی- اور بہت مزے کی باتیں سنائیں
ان نوجوان لڑکو ں کی مہمان نوازی نے ہمارے دل پر انمٹ تقوش چھوڑے۔
ہمارے دل جیت لئے۔
پٹھان زندہ باد
پٹھانوں کی مہمان نوازی پائندہ باد

Thursday, December 2, 2010

میں شادی نہیں کر وں گا

میں شادی نہیں کر وں گا



اسکے شادی اسکی ماموں زاد اور پھوپھی زاد سے ہوئی۔
اسکی والدہ وہاں شادی کیلئے رضامند نہ تھیں حالانکہ وہ لڑکی اسکے سگے بھائی کی بیٹی تھی۔ مگر وہ اپنی بھابی سے اختلاف رکھتی تھی۔ یہ اختلاف بھی اسکی اپنی ضد کی سے وجہ تھا۔
تاہم سونو کی شادی اسی پھوپھی زاد اور ما موں زاد سے ہوئی۔
شادی کیا ہوئی ۔ سونو کیلئے ایک عجیب ٹینشن شروع ہوگئی۔
اسکی ماں جو ایک سرکاری سکول میں ہیڈمسٹریس تھیں ، نے اپنی بہو سے بات کرنا ، اسے گھر کے معاملات میں شریک کرنے سے انکا ر کر دیا۔
سونو کو پتہ تھا ۔ میری ماں کو میری بیوی کی ماں سے کچھ خاندانی چپقلش کی وجہ سے ضد ہے۔ سو اس وجہ سے وہ ایسا کر رہی ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ حالات بہتر ہو جائیں گے۔
لیکن سونو کی ماں اپنے ضد میں 'تریا ہٹ" پر پوری اتری۔
شادی کو بارہ سال گذر گئے مگر سونو کی ماں نے بہو کو بہو نہ سمجھا اور اس سے کبھی بات نہ کی۔ بلکہ اس نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو کہا کہ وہ اپنی بیوی کو طلا ق دے دے۔ وہ اسکی دوسری شادی کرے گی۔ سونو نے ہمیشہ انکار کیا۔
سونو نے ان بارہ سالوں میں اپنی بیوی کی ہر طرح سے دلجوئی کی۔ وہ اس سے
محبت کر تا تھا ۔ اسے ہر طرح سے خوش رکھنا چا ہتا تھا۔ مگر اسکی ماں اتنی
ضدی اور سخت گیر تھی کہ اس نے اپنا رویہ نہ بدلا۔
اس نے اپنی بھابی سے ضد کا بدلہ اپنی بہو سے نکالا۔
سونو کا باپ اسکی ماں کے آگے بے بس تھا۔وہ تھی ہی ایسی ضدی
سونو کی بیوی ذہنی مر یض بنتی گئی۔
اس دوران ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی مگر اسکی زندگی تھوڑی تھی ۔پیدائش کے چند ماہ ہی فوت ہو گئی۔
سونو بھی بارہ سال تک ذہنی اذیت کا سامنا کر تا رہا۔ اس کا کا روبار بھی متاثر
ہوا۔ بالاخر اسے کا روبار بند کر نا پڑا۔
کچھ عرصہ بے روزگا ر رہنے کے بعد اس نے ایک ٹیکسی خرید لی۔ اب وہ زیادہ وقت گھر سے باہر ہی رہتا۔
لیکن اس کا اثر اسکی بیوی پر بہت شدید پڑا ۔
اس نے اپنے ماں باپ سے مشورے کے بعد خو د ہی طلا ق کا مطالبہ کردیا۔
سونو جو اپنے ماں کے آگے نہ جھکا۔
بیوی کے مطالبے پر جھک گیا۔
اس نے بہتے آنسووں کے سا تھ بیوی کے ساتھ اپنی بارہ سالہ رفاقت کا خاتمہ کردیا-
اب اسکی ماں اسکی دوسری شادی کرنا چا ہتی ہے۔
اس نے ماں سے کہا
" میری اور میری معصوم بیوی کی زندگی کے بارہ سال تباہ کرکے ۔۔۔
آپ کو کیا ملا۔ جو اب آپ میری دوسری شا دی کرنا چاہتی ہیں ۔
مجھے میرے حال چھوڑ دیں - میں شادی نہیں کر وں گا"

کیا عورت کی ضد ایسی ہی ہوتی ہے کہ اپنے بیٹے کا گھر بھی اجاڑ دیتی ہے۔؟