Thursday, December 2, 2010

میں شادی نہیں کر وں گا

میں شادی نہیں کر وں گا



اسکے شادی اسکی ماموں زاد اور پھوپھی زاد سے ہوئی۔
اسکی والدہ وہاں شادی کیلئے رضامند نہ تھیں حالانکہ وہ لڑکی اسکے سگے بھائی کی بیٹی تھی۔ مگر وہ اپنی بھابی سے اختلاف رکھتی تھی۔ یہ اختلاف بھی اسکی اپنی ضد کی سے وجہ تھا۔
تاہم سونو کی شادی اسی پھوپھی زاد اور ما موں زاد سے ہوئی۔
شادی کیا ہوئی ۔ سونو کیلئے ایک عجیب ٹینشن شروع ہوگئی۔
اسکی ماں جو ایک سرکاری سکول میں ہیڈمسٹریس تھیں ، نے اپنی بہو سے بات کرنا ، اسے گھر کے معاملات میں شریک کرنے سے انکا ر کر دیا۔
سونو کو پتہ تھا ۔ میری ماں کو میری بیوی کی ماں سے کچھ خاندانی چپقلش کی وجہ سے ضد ہے۔ سو اس وجہ سے وہ ایسا کر رہی ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ حالات بہتر ہو جائیں گے۔
لیکن سونو کی ماں اپنے ضد میں 'تریا ہٹ" پر پوری اتری۔
شادی کو بارہ سال گذر گئے مگر سونو کی ماں نے بہو کو بہو نہ سمجھا اور اس سے کبھی بات نہ کی۔ بلکہ اس نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو کہا کہ وہ اپنی بیوی کو طلا ق دے دے۔ وہ اسکی دوسری شادی کرے گی۔ سونو نے ہمیشہ انکار کیا۔
سونو نے ان بارہ سالوں میں اپنی بیوی کی ہر طرح سے دلجوئی کی۔ وہ اس سے
محبت کر تا تھا ۔ اسے ہر طرح سے خوش رکھنا چا ہتا تھا۔ مگر اسکی ماں اتنی
ضدی اور سخت گیر تھی کہ اس نے اپنا رویہ نہ بدلا۔
اس نے اپنی بھابی سے ضد کا بدلہ اپنی بہو سے نکالا۔
سونو کا باپ اسکی ماں کے آگے بے بس تھا۔وہ تھی ہی ایسی ضدی
سونو کی بیوی ذہنی مر یض بنتی گئی۔
اس دوران ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی مگر اسکی زندگی تھوڑی تھی ۔پیدائش کے چند ماہ ہی فوت ہو گئی۔
سونو بھی بارہ سال تک ذہنی اذیت کا سامنا کر تا رہا۔ اس کا کا روبار بھی متاثر
ہوا۔ بالاخر اسے کا روبار بند کر نا پڑا۔
کچھ عرصہ بے روزگا ر رہنے کے بعد اس نے ایک ٹیکسی خرید لی۔ اب وہ زیادہ وقت گھر سے باہر ہی رہتا۔
لیکن اس کا اثر اسکی بیوی پر بہت شدید پڑا ۔
اس نے اپنے ماں باپ سے مشورے کے بعد خو د ہی طلا ق کا مطالبہ کردیا۔
سونو جو اپنے ماں کے آگے نہ جھکا۔
بیوی کے مطالبے پر جھک گیا۔
اس نے بہتے آنسووں کے سا تھ بیوی کے ساتھ اپنی بارہ سالہ رفاقت کا خاتمہ کردیا-
اب اسکی ماں اسکی دوسری شادی کرنا چا ہتی ہے۔
اس نے ماں سے کہا
" میری اور میری معصوم بیوی کی زندگی کے بارہ سال تباہ کرکے ۔۔۔
آپ کو کیا ملا۔ جو اب آپ میری دوسری شا دی کرنا چاہتی ہیں ۔
مجھے میرے حال چھوڑ دیں - میں شادی نہیں کر وں گا"

کیا عورت کی ضد ایسی ہی ہوتی ہے کہ اپنے بیٹے کا گھر بھی اجاڑ دیتی ہے۔؟

No comments:

Post a Comment