یہ آج سے کئی سال پہلے کی بات ہے
ہم کچھ دوست پشاور میں تھے۔ ایک دن" علاقہ غیر" جانے کا پروگرام بنا
بارڈر سے ذرا پہلے ایک مشہور چپل کبا ب والا تھا
سب نے کہا یہاں چپل کباب کھاتے ہیں۔
چپل کباب کا آرڈر دے دیا گیا۔
ہمارے ساتھ ہی دوسری ٹیبل پر کچھ نوجوان پٹھان لڑکے بیٹھے تھے۔
انکی عمریں بمشکل 12 سے 14 سال ہوں گی۔
جب کباب آگئے تو
ہمارے ایک دوست نے اپنی عادت کے مطابق
کبا ب کی پلیٹ اٹھائی اور ساتھ ہی بیٹھے پٹھان لڑکوں کو
جھک کر پیش کی - اور بہت خلوص سے کہا
" یہ لو بیٹے - کباب لے لیں- اور ہمارے ساتھ مل کر کھائیں"
اب ہم سب نےبھی انہیں کھانے کی دعوت دی
لڑکوں نے بہت حیرت سے ہماری طرف دیکھا۔
اور کہا
نہیں کاکا ۔۔ ہم نے آرڈر دے دیا ہے۔ ہمارا کباب ابھی آ جا تا ہے۔
آپ کا شکریہ آپ کھائیں"
لیکن اب ان کی آنکھوں میں حیر ت کی جگہ پیار تھا۔
شاید انہیں ہمارا خلوص بھری پیشکش اچھی لگی۔
انہوں نے ہم پو چھا
آپ لو گ کدھر سے آئے ہیں۔
ہم نے بتایا کہ ہمارا تعلق پنجاب سے ہے۔
اور ادھر سیر کرنے گھومنے پھر نے آئے ہیں۔
اتنی دیر میں ان کے کباب بھی آگئے اور سب اپنے اپنے کھا نے میں
مصروف ہو گئے۔
ہم گپیں بھی لگاتے رہے اورکبا ب بھی کھاتے رہے۔
کبا ب واقعی بہت مزیدارتھے۔
ہم کبا ب کھا کر فارغ ہوئے تو قہوہ آگیا ۔
ہم نے قہوے کا آرڈر تو نہیں دیا تھا۔ تاہم سب نے کہاکہ اب آگیا ہے
تو پی لیتے ہیں۔
قہوہ پی کر ہم لوگ اٹھے اور پیسے دینے لگے تو
کبا ب والا بولا
" آپ کا پیسے ہو گیا ہے"
ہم حیران رہ گئے۔
" کیسے؟ ہمارا مطلب ہے کس نے دیے ہمارے پیسے؟"
بات تھی بھی حیرت کی ۔ ہمارا ادھر کوئی جاننے والا نہ تھا۔
اس سے پہلے کہ کباب والے خان بھائی بولتے۔
ہمارے ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھے لڑکوں میں سے ایک لڑکا اٹھ کر آیا
اور کہا کہ آپ کے کباب اور قہوے کے پیسے میں نے دے دیا ہے۔
"وہ کس لئے؟"
"وہ اس لئے کہ تم ہمارا مہمان ہے"
ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ لڑکے نہ مانے۔
پھر وہ لڑکے ہمارے ساتھ کا فی دیر رہے۔ ہمیں شاپنگ کروائی
اور بہت سستی کروائی- اور بہت مزے کی باتیں سنائیں
ان نوجوان لڑکو ں کی مہمان نوازی نے ہمارے دل پر انمٹ تقوش چھوڑے۔
ہمارے دل جیت لئے۔
پٹھان زندہ باد
پٹھانوں کی مہمان نوازی پائندہ باد
No comments:
Post a Comment