Part -6 ایک سیاہ رات کی کہانی
مجھے ایسے لگا۔۔
میرے پاوں کسی نے زمین سے باندھ دیے ہوں۔۔
اور پھر ۔۔
شاید میں بھی خوف سے بے ہو ش ہوگیا۔۔۔
اب آگے کی کہانی بلکہ اصل کہانی میں سناتا ہوں۔۔۔
اچانک چچا سلطان کا بیٹا کاشف بولا۔۔۔
تم۔۔۔
تنویر، اسد کے ساتھ تقریبا سب ہی لوگ چونک کر بولے۔۔۔
مگر تم تو ہمارے ساتھ ہی وہاں گئے تھے۔۔
جی ہاں ۔۔۔۔
میں آپ لوگوں کے ساتھ ہی گیا تھا۔۔۔
اور ایک لمحے کو تو ۔۔۔۔ سچی بات ہے۔۔۔ میں بھی بہت ڈر گیا تھا۔۔۔
مگرپھر اللہ نے مجھے ہمت دی۔۔۔
اور میں بات کی تہ تک پہنچ گیا۔۔۔
کاشف نے بہت پرسکون انداز میں جواب دیا۔۔
اب لوگ کاشف کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔
سب کی آنکھیں ۔۔
تجسس سے جیسے پھٹ رہی تھیں۔۔۔
--
کاشف دھیما سا مسکرایا۔۔۔ اور کہا۔۔
آپ سب لوگوں کے سامنے میں پہلے تنویر کو جو کہ اسد سے چند قدم پہلے گرا ہوا تھا۔۔ چیک کیا ۔۔ اور آپ لوگوں کو اٹھا نے کا کہا۔۔
پھر
جب میں نےاسد کو اٹھانے کی کوشش کی تو مجھے ایسے لگا
جیسے اسے پیچھے سے کسی نے پکڑا ہوا ہو۔۔
میں لالٹین منگوائی اور جب دیکھا۔۔
تو
اسد کی قمیص ڈنڈے کے ساتھ ہی زمیں میں گڑی ہوئی ۔۔
دراصل اندھیرے میں اسے پتہ نہ چلا۔۔ہوگا۔۔
یوں جب اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو اسے لگا کہ
اسے کسی نے پکڑ لیا۔۔۔
حالانکہ ایسی کوئی بات نہ تھی۔۔
یہ ذہن میں جاگزیں خوف تھا ۔۔۔
جس نے انہیں بے ہوش کردیا۔۔۔۔
سب حیرت سے منہ پھاڑے کاشف کو دیکھے جارہے تھے۔۔۔
-----------------------------------------
THE END
میرے پاوں کسی نے زمین سے باندھ دیے ہوں۔۔
اور پھر ۔۔
شاید میں بھی خوف سے بے ہو ش ہوگیا۔۔۔
اب آگے کی کہانی بلکہ اصل کہانی میں سناتا ہوں۔۔۔
اچانک چچا سلطان کا بیٹا کاشف بولا۔۔۔
تم۔۔۔
تنویر، اسد کے ساتھ تقریبا سب ہی لوگ چونک کر بولے۔۔۔
مگر تم تو ہمارے ساتھ ہی وہاں گئے تھے۔۔
جی ہاں ۔۔۔۔
میں آپ لوگوں کے ساتھ ہی گیا تھا۔۔۔
اور ایک لمحے کو تو ۔۔۔۔ سچی بات ہے۔۔۔ میں بھی بہت ڈر گیا تھا۔۔۔
مگرپھر اللہ نے مجھے ہمت دی۔۔۔
اور میں بات کی تہ تک پہنچ گیا۔۔۔
کاشف نے بہت پرسکون انداز میں جواب دیا۔۔
اب لوگ کاشف کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔
سب کی آنکھیں ۔۔
تجسس سے جیسے پھٹ رہی تھیں۔۔۔
--
کاشف دھیما سا مسکرایا۔۔۔ اور کہا۔۔
آپ سب لوگوں کے سامنے میں پہلے تنویر کو جو کہ اسد سے چند قدم پہلے گرا ہوا تھا۔۔ چیک کیا ۔۔ اور آپ لوگوں کو اٹھا نے کا کہا۔۔
پھر
جب میں نےاسد کو اٹھانے کی کوشش کی تو مجھے ایسے لگا
جیسے اسے پیچھے سے کسی نے پکڑا ہوا ہو۔۔
میں لالٹین منگوائی اور جب دیکھا۔۔
تو
اسد کی قمیص ڈنڈے کے ساتھ ہی زمیں میں گڑی ہوئی ۔۔
دراصل اندھیرے میں اسے پتہ نہ چلا۔۔ہوگا۔۔
یوں جب اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو اسے لگا کہ
اسے کسی نے پکڑ لیا۔۔۔
حالانکہ ایسی کوئی بات نہ تھی۔۔
یہ ذہن میں جاگزیں خوف تھا ۔۔۔
جس نے انہیں بے ہوش کردیا۔۔۔۔
سب حیرت سے منہ پھاڑے کاشف کو دیکھے جارہے تھے۔۔۔
-----------------------------------------
THE END