Friday, January 14, 2011

Part -2 ایک سیاہ رات کی کہانی


Part -2 ایک سیاہ رات کی کہانی


لیکن ایک کے بجائے دوگھنٹے گذر گئے اسد اور تنویر واپس نہ آئے

شہباز پریشان ہو گیا۔
یار یہ لوگ تو واپس نہیں آئے۔ کہیں جنوں کے ہتھے نہ چڑھ گئے ہوں۔
اکرم کو بھی یقین تھا کہ بھن کے پاس جن ہیں۔
وہ بھی خوفزدہ آواز میں بولا۔
ہاں یا ر۔ پتہ نہیں ان کے ساتھ کیا ہو ا ہو گا۔۔
پھر سوچ کر بولا۔
ہم آدھا گھنٹہ اور انتظار کرتے ہیں پھرکچھ اور سوچتے ہیں۔

آدھا گھنٹہ بھی گذر گیا ۔ مگراسد اور تنویر واپس نہ آئے۔

اب تو اکرم اور شہباز ایک دوسرے پرالزام لگانے لگے۔
یہ تم کہاتھا، نہیں یہ تم نے کہاتھا۔
بہرحال بہت سی بحث کے بعد فیصلہ ہو ا کہ دونوں مل کر جاتے ہیں اور گاوں سے باہر تک اسد اور تنویر کو دیکتھے ہیں شاید وہ آرہے ہوں۔
وہ گاوں سے ذرا باہر تک گئے تو خوف نے ان کے قدم روک دیے۔
واپسی پر شہباز کا بڑا بھائی انہیں ڈھونڈتا ہوا مل گیا۔
تم لوگ کہاں گئے تھے -
اب شہباز نے ڈرتے ڈرتے ساری بات بتا دی۔
شہباز کے بھائی نے کہا۔
آپ لوگوں نے بہت برا کیا۔ پتہ نہیں وہ لوگ اب زندہ بھی ہوں گے یا نہیں- بہرحال میں ابو سے بات کرتاہوں۔
تھوڑی دیر بعدپندرہ بیس بندوں کا قافلہ ہاتھوں میں لالٹینیں، لاٹھیاں، کلہاڑیاں وغیرہ اٹھانے گاوں سے باہر بھن کی طرف روانہ ہوگیا۔
شہباز اور تنویر کے گھر کہرام مچا ہوا تھا۔ گاوں کی عورتیں اکٹھی تھیں اور مختلف تبصرے کررہی تھیں۔
گاوں کے مسجد کے امام کو بلا لیا گیا تھا۔
اور قرانی آیا ت کا ورد جاری تھا۔
ادھر قافلہ جوں جوں بھن کے قریب پہنچ رہا تھا۔ لوگوں کے اندر بے چینی ، تجسس، اور ایک نامعلوم خوف بڑھتا جا رہا تھا۔

جیسے وہ لوگ بھن کے پاس پہنچے ۔

انہیں دور ہی سے دو افراد ساتھ ساتھ زمین پر گرے ہوئے نظر آئے۔
وہ اسد اور تنویر ہی تھے۔ لیکن دونوں بے ہوش تھے۔
لوگوں کی نظریں خوف سے ان کا طواف کر رہی تھیں-

جاری ہے

No comments:

Post a Comment