وہ اسد اور تنویر ہی تھے۔ لیکن دونوں بے ہوش تھے۔
لوگوں کی نظریں خوف سے ان کا طواف کر رہی تھیں-
شاید وہ آس پاس کہیں جن کی موجودگی کے آثار تلاش کررہے تھے۔
کسی کی ہمت نہ ہورہی تھی کہ وہ لڑکوں کے پاس جائے۔
اچانک چچا سلطان کا بیٹا کاشف جو چند دن پہلے ہی شہر سے آیا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور ایک لڑکے کو سیدھا کیا۔ وہ تنویر تھا ۔ اس نے اسکی نبض چیک کی۔ دل پر ہاتھ رکھا۔ اور زور سے کہا۔
یہ صرف بے ہوش ہے۔ اسے اٹھا لیں۔
گاوں والے اپنے ساتھ ایک چارپا ئی بھی لائے تھے ۔ فورا ہی تنویر کو اٹھا کر چارپا ئی پر ڈال دیا گیا۔ لیکن سب بہت خوفزدہ سے انداز میں کام کر رہے تھے۔ کچھ لوگ کلمہ کا ورد کررہے تھے۔
اب کاشف اسد کی طرف بڑھا۔
وہ تھوڑا آگے تھا۔ اس کو سیدھا کیا اور اٹھانے کی کوشش کی۔
لیکن کاشف کو ایسے لگا جیسے پیچھے سے کسی نے اسد کو پکڑا ہو ا ہو۔۔
خوف کی ایک سرد لہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاشف کے جسم سے سرسراتی ہوئی گذری۔۔
گرچہ لالٹینوں کی روشنی تھی مگروہ لوگ پیچھے ذرا فاصلے پر تھے۔ ویسے بھی روشنی صرف ایک رخ یعنی سامنے سے تھی۔
پیچھے کی طرف تو کچھ بھی نظرنہیں آتا تھا۔
کاشف پہلی مرتبہ خوف زدہ ہوا۔
لیکن ہمت کرکے اس نے اسد کو پھر اٹھانے کی کوشش کی ۔۔۔
اسے پھر ایسے لگا جیسے کسی نے اسد کو پیچھے سے پکڑ رکھا ہو۔۔
وہ اپنی خوف کی کیفیت کا اظہار نہیں کر نا چاہتا تھا۔
اسے پتہ تھا۔
یہ دیہاتی لوگ توہم پر ست ہیں۔۔
یہ اور بھی خوف زدہ ہو جائیں گے۔۔
اس کا ذہن بہت تیزی سے سوچ رہا تھا۔۔۔
اسکے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔۔۔
لوگوں کی نظریں خوف سے ان کا طواف کر رہی تھیں-
شاید وہ آس پاس کہیں جن کی موجودگی کے آثار تلاش کررہے تھے۔
کسی کی ہمت نہ ہورہی تھی کہ وہ لڑکوں کے پاس جائے۔
اچانک چچا سلطان کا بیٹا کاشف جو چند دن پہلے ہی شہر سے آیا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور ایک لڑکے کو سیدھا کیا۔ وہ تنویر تھا ۔ اس نے اسکی نبض چیک کی۔ دل پر ہاتھ رکھا۔ اور زور سے کہا۔
یہ صرف بے ہوش ہے۔ اسے اٹھا لیں۔
گاوں والے اپنے ساتھ ایک چارپا ئی بھی لائے تھے ۔ فورا ہی تنویر کو اٹھا کر چارپا ئی پر ڈال دیا گیا۔ لیکن سب بہت خوفزدہ سے انداز میں کام کر رہے تھے۔ کچھ لوگ کلمہ کا ورد کررہے تھے۔
اب کاشف اسد کی طرف بڑھا۔
وہ تھوڑا آگے تھا۔ اس کو سیدھا کیا اور اٹھانے کی کوشش کی۔
لیکن کاشف کو ایسے لگا جیسے پیچھے سے کسی نے اسد کو پکڑا ہو ا ہو۔۔
خوف کی ایک سرد لہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاشف کے جسم سے سرسراتی ہوئی گذری۔۔
گرچہ لالٹینوں کی روشنی تھی مگروہ لوگ پیچھے ذرا فاصلے پر تھے۔ ویسے بھی روشنی صرف ایک رخ یعنی سامنے سے تھی۔
پیچھے کی طرف تو کچھ بھی نظرنہیں آتا تھا۔
کاشف پہلی مرتبہ خوف زدہ ہوا۔
لیکن ہمت کرکے اس نے اسد کو پھر اٹھانے کی کوشش کی ۔۔۔
اسے پھر ایسے لگا جیسے کسی نے اسد کو پیچھے سے پکڑ رکھا ہو۔۔
وہ اپنی خوف کی کیفیت کا اظہار نہیں کر نا چاہتا تھا۔
اسے پتہ تھا۔
یہ دیہاتی لوگ توہم پر ست ہیں۔۔
یہ اور بھی خوف زدہ ہو جائیں گے۔۔
اس کا ذہن بہت تیزی سے سوچ رہا تھا۔۔۔
اسکے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔۔۔
جاری ہے
No comments:
Post a Comment