ماہ رمضان کیلئے سامان کی خریداری۔ کیا ابھی سے؟
دوستو، بہنو اور بھائیو
کل میری بیگم مجھے کہنے لگی
رمضان آنے والا ہے۔ بہتر ہو گا کچھ چیزیں ابھی سے خرید لی جا ئیں۔ کیونکہ بعد میں تو اتی مہنگا ئی ہو جائے گی کہ چیزوں کو ہاتھ لگا نا بھی مشکل ہوگا۔
میں بے بیگم کو " اچھا ٹھیک ہے" کہ کے ٹال دیا مگر سو چ میں پڑ گیا ۔۔۔
یہ ہم کیسے مسلمان ہیں۔؟
اس ماہ کی برکتیں چیزیں مہنگی کرکے حاصل کرنا چا ہتے ہیں؟
رمضان سے ایک ہفتہ پہلے بازاروں میں وہ رش ہو تا ہے کہ الا مان
لوگوں میں سامان اکٹھا کر نے کا گو یا مقا بلہ جاری ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر جہآں حیرت ہو تی ہے۔ وہیں افسوس بھی ہو تا ہے۔ کیونکہ تما م تر حکومتی دعووں کے با وجود ہر چیز کے نرخ ما ہ رمضان میں آسمان سے با تیں کرنے لگتے ہیں۔ اب لوگ اگر پہلے سے خریداری نہ کریں تو کیا کریں۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہر فرد ایسے ذرائع رکھتا ہے کہ ایک ماہ پہلے ہی ہزاروں کا سامان خرید سکے۔
یقینا نہیں۔
گویا سب سے زیا دہ مہنگا ئی کا بوجھ وہ طبقہ اٹھا ئے گا جو پہلے سے خریداری کرنا افورڈ نہیں کرتا۔۔
دنیا بھر میں مذہبی تہواروں پر چیزیں سستی کر دی جا تی ہیں مگر ہمارے ہا ں الٹ ہو تا ہے۔
کیوں؟
ہم کیسے مسلمان ہیں۔؟
میرے ایک دوست مجھے ایک واقعہ سنا رہے تھے۔
وہ ایک ٹریننگ کے سلسلے میں لندن گئے ۔ وہاں ایک سٹور سے انہوں نے ایک شرٹ خریدی جو بہت سستی تھی ۔
وہ جب واپس پاکستا ن آئے تو دوستوں نے شرٹ بہت پسند کی ۔ اور قیمت پوچھی تو سب حیران رہ گئے ۔ کہ یہ تو پا کستان سےبھی سستی ہے اور کوالٹی بہت عمدہ ہے۔
چنا نچہ کچھ عرصہ بعد ان کے ایک اور دوست لندن گئے تو اس نے خصوصی طور اس دکان کا پتہ سمجھا یا اور کہا کہ وہاں سے اسی طرح کی چند شرٹیں اور لیتے آنا۔
وہ دوست جب واپس آئے تو اس نے بتا یا کہ اب تو شرٹ انتہائی مہنگی تھیں۔ اور قیمت دگنے سے بھی زیا دہ تھی۔ میں نے آپ کا حوالہ دیا کہ چند ماہ بیشتر میرا ایک دوست یہاں سے یہی شرٹ آدھی قیمت سے بھی کم پر لے گیا ہے۔ تو دوکاندار جو کہ ایک یہودی تھا ۔ ماننے کو تیا ر نہ تھا کہ اتنی سستی شرٹ تو دو سال پہلے بھی نہ تھی۔ پھر اچانک کہنے لگا
" اچھا آپ کے دوست کس ما ہ کی کن تاریخوں میں لندن آئے تھے"
جب میں نے مہینہ اور تاریخ بتا ئی تو کہنے لگا
" با لکل صحیح ۔ ہم ان دنوں میں یہ شرٹ واقعی آدھی سے بھی کم قیمت پر بیچ رہے تھے کیونکہ ہمار ا مذہبی تہوار چل رہا تھا مگر اب قیمت کسی صورت کم نہیں ہو گی"
واہ واہ
غیر مسلم تو اپنے مذہبی تہواروں کو ایسے جذبے سے منا ئیں کہ ہراچھی کوالٹی کی چیز کی ہر امیر وغریب تک رسا ئی ہو
اور ہم ۔۔۔۔
بس آگے کچھ لکھنے ہو ئے ۔۔۔ شرم آتی ہے۔۔۔۔
دوستو، بہنو اور بھائیو
کل میری بیگم مجھے کہنے لگی
رمضان آنے والا ہے۔ بہتر ہو گا کچھ چیزیں ابھی سے خرید لی جا ئیں۔ کیونکہ بعد میں تو اتی مہنگا ئی ہو جائے گی کہ چیزوں کو ہاتھ لگا نا بھی مشکل ہوگا۔
میں بے بیگم کو " اچھا ٹھیک ہے" کہ کے ٹال دیا مگر سو چ میں پڑ گیا ۔۔۔
یہ ہم کیسے مسلمان ہیں۔؟
اس ماہ کی برکتیں چیزیں مہنگی کرکے حاصل کرنا چا ہتے ہیں؟
رمضان سے ایک ہفتہ پہلے بازاروں میں وہ رش ہو تا ہے کہ الا مان
لوگوں میں سامان اکٹھا کر نے کا گو یا مقا بلہ جاری ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر جہآں حیرت ہو تی ہے۔ وہیں افسوس بھی ہو تا ہے۔ کیونکہ تما م تر حکومتی دعووں کے با وجود ہر چیز کے نرخ ما ہ رمضان میں آسمان سے با تیں کرنے لگتے ہیں۔ اب لوگ اگر پہلے سے خریداری نہ کریں تو کیا کریں۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہر فرد ایسے ذرائع رکھتا ہے کہ ایک ماہ پہلے ہی ہزاروں کا سامان خرید سکے۔
یقینا نہیں۔
گویا سب سے زیا دہ مہنگا ئی کا بوجھ وہ طبقہ اٹھا ئے گا جو پہلے سے خریداری کرنا افورڈ نہیں کرتا۔۔
دنیا بھر میں مذہبی تہواروں پر چیزیں سستی کر دی جا تی ہیں مگر ہمارے ہا ں الٹ ہو تا ہے۔
کیوں؟
ہم کیسے مسلمان ہیں۔؟
میرے ایک دوست مجھے ایک واقعہ سنا رہے تھے۔
وہ ایک ٹریننگ کے سلسلے میں لندن گئے ۔ وہاں ایک سٹور سے انہوں نے ایک شرٹ خریدی جو بہت سستی تھی ۔
وہ جب واپس پاکستا ن آئے تو دوستوں نے شرٹ بہت پسند کی ۔ اور قیمت پوچھی تو سب حیران رہ گئے ۔ کہ یہ تو پا کستان سےبھی سستی ہے اور کوالٹی بہت عمدہ ہے۔
چنا نچہ کچھ عرصہ بعد ان کے ایک اور دوست لندن گئے تو اس نے خصوصی طور اس دکان کا پتہ سمجھا یا اور کہا کہ وہاں سے اسی طرح کی چند شرٹیں اور لیتے آنا۔
وہ دوست جب واپس آئے تو اس نے بتا یا کہ اب تو شرٹ انتہائی مہنگی تھیں۔ اور قیمت دگنے سے بھی زیا دہ تھی۔ میں نے آپ کا حوالہ دیا کہ چند ماہ بیشتر میرا ایک دوست یہاں سے یہی شرٹ آدھی قیمت سے بھی کم پر لے گیا ہے۔ تو دوکاندار جو کہ ایک یہودی تھا ۔ ماننے کو تیا ر نہ تھا کہ اتنی سستی شرٹ تو دو سال پہلے بھی نہ تھی۔ پھر اچانک کہنے لگا
" اچھا آپ کے دوست کس ما ہ کی کن تاریخوں میں لندن آئے تھے"
جب میں نے مہینہ اور تاریخ بتا ئی تو کہنے لگا
" با لکل صحیح ۔ ہم ان دنوں میں یہ شرٹ واقعی آدھی سے بھی کم قیمت پر بیچ رہے تھے کیونکہ ہمار ا مذہبی تہوار چل رہا تھا مگر اب قیمت کسی صورت کم نہیں ہو گی"
واہ واہ
غیر مسلم تو اپنے مذہبی تہواروں کو ایسے جذبے سے منا ئیں کہ ہراچھی کوالٹی کی چیز کی ہر امیر وغریب تک رسا ئی ہو
اور ہم ۔۔۔۔
بس آگے کچھ لکھنے ہو ئے ۔۔۔ شرم آتی ہے۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment